ریڈ ٹون ڈیجیٹل سروسزکی گوگل کلاؤڈ پارٹنر ایڈوانٹیج پروگرام میں شمولیت 

  ریڈ ٹون ڈیجیٹل سروسزکی گوگل کلاؤڈ پارٹنر ایڈوانٹیج پروگرام میں شمولیت 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ریڈ ٹون گروپ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کلاؤڈ ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کے لئے اسکا ذیلی ادارہ ریڈ ٹون ڈیجیٹل سروسز (آر ڈی ایس) گوگل کلاؤڈ پارٹنر ایڈوانٹیج پروگرام کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ پاکستان کے کاروباری ایکو سسٹم کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ اب آر ڈی ایس کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کی تنظیمیں، چھوٹے و درمیانی کاروباری اداروں اور اسٹارٹ اپس کو گوگل کلاؤڈ، گوگل ایجوکیشن اور گوگل ورک اسپیس کی سہولت میسر ہوگی۔ آر ڈی ایس  ملک بھر میں گوگل کلاؤڈ کی سرٹیفائیڈ سیلز، پری سیلز اور صارفین کو تعاون فراہم کرے گا۔ آر ڈی ایس گوگل کلاؤڈ کے اسٹارٹ اپ پروگرام کے ساتھ بھی بھرپور انداز سے کام کررہا ہے اور پاکستان کے اسٹارٹ اپ طبقے میں متعدد مراعات اور وسائل کے ساتھ وسعت لائے گا۔ حکومت پاکستان، پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، منسٹری آف آئی ٹی اور ٹیلی کام (ایم او آئی ٹی ٹی)، اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کی جانب سے متعدد اقدامات کے باعث پاکستان کے آئی ٹی انفراسٹرکچر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسکے نتیجے میں غیرملکی سرمایہ کار اور کاروباری ادارے اب پاکستان کو مستقبل کا آئی ٹی مرکز قرار دینے پر غور کررہے ہیں۔ آر ڈی ایس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ریڈ ٹون کی گروپ وائس پریذیڈنٹ، ماہ نور ندیم نے اس تاریخ ساز پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، "پاکستان ڈیجیٹل انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ہماری مستحکم معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کے ساتھ یہ ملاحظہ کرنا انتہائی خوش کن ہے کہ آر ڈی ایس کے ذریعے گوگل کلاؤڈ پاکستان میں آنا چاہتا ہے۔ ہم یہاں سرکاری اور نجی شعبے کے ساتھ کام کرنے میں انتہائی دلچسپی رکھتے ہیں اور انہیں گوگل کلاؤڈ، ورک اسپیس اور ایجوکیشن سے متعلق تعاون پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم انکیوبیشن پروگرام کے ذریعے پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے ساتھ بھی فعال انداز سے شامل ہوں گے اور انہیں گوگل کلاؤڈ سے مینٹور شپ،  ٹریننگ، کلاؤڈ کریڈٹس اور جدت میں تیزی لانے کی سہولت پیش کریں گے۔" پاکستان میں لوگوں کے لئے یہ خبر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے کاروباری طبقے کا عزم اور ہماری حکومت کے مسلسل تعاون کے ذریعے ٹیکنالوجی کی جدت  اختیار کرنے کے میدان میں ہماری ساکھ بتدریج مستحکم ہورہی ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -