ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ!

ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ!

  

ملتان سے قسور عباس  

تحریک انصاف سرکار کے تیسرے عوام دوست بجٹ نے اپنے اطلاق سے ہی عوام کی چیخیں نکلوانا شروع کررکھی ہیں آج اس بجٹ کو نافذ ہوئے 14 واں روز ہے مگر گزشتہ13 دنوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جس نے قوم کو گزشتہ تین سالوں میں مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح میں تھوڑی سی بھی کمی کی نوید سنائی ہو بلکہ ہر آنے والا دن عوام کیلئے ایک سے بڑھ کر ایک آزمائش و پریشانی کا پیش خیمہ ثابت ہورہا ہے۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی بجٹ تقریر میں واضع الفاظ میں یہ کہا تھا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور بجلی و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی طور بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا مگر وزیر خزانہ کی تقریر بھی عوامی مسائل کے حل میں سیاسی ثابت ہوئی کیونکہ ان کی تقریر کے 48 گھنٹوں بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اُس وقت اضافے کی منظوری دی گئی جبکہ ملک میں پہلے ہی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا تھا مگر ان قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ یہاں پر بھی نہیں رکا بلکہ مالی سال کے پہلے ہی دن پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ بعد میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اور اب حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 0.1 سے ایک فیصد انکم ٹیکس عائد کردیا ہے جس کی وصولی کی ذمہ داری ایف بی آر کی بجائے ادویات بنانے اور درآمد کرنے والی کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز پر ڈالی گئی ہے، تاہم نئے ٹیکس سے ادویات کی قیمتوں میں مزید 11 فیصد اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جب کہ پہلے ہی موجودہ دور حکومت کے دوران ادویات کی قیمتیں 400 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں۔جس پر کیمسٹز اینڈ ڈرگز ایسوسی ایشن نے نیا ٹیکس اور طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے 15 جولائی کو ملک گیر شٹرڈاؤن اور 19 جولائی سے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کردیا ہے مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس کے باوجود جہاں حکومت تمام تر ظلم و ستم کے باوجود  عوامی حکومت ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے وہاں عوامی حقوق کا نعرہ لگا کر حکومت کیخلاف مہم چلانے والی حزب اختلاف نے بھی عوامی مسائل کے اضافے پر چپ سادھ رکھی ہے، ماسوائے زبانی کلامی مذمتی بیانات کے، اگر پوزیشن جماعتیں حقیقی معنوں   میں عوام کی خیر خواہ ہوتیں تو ملک میں اس طرح عوام کا جینا دو بھر نہ ہوتا۔

ادھروزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اپنے دورہ ڈی جی خان کے دوران جہاں متعدد منصو بوں کا افتتاح کیا وہاں پر انہوں نے کئی ایک ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد اور نئے منصوبوں کے اعلانات بھی کئے اور اس عزم کو دہرایا کہ انہوں نے ترقی کے پہیے کا رخ پسماندہ علاقوں کی طرف موڑ دیا ہے۔پنجاب کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کی قسمت بدلوں گا،لاہور میں پسماندہ علاقوں کی نمائندگی کرتا ہوں،جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے رولز آف بزنس جلد نوٹیفائیڈ کردیئے جائیں گے،رولز آف بزنس کے نوٹیفکیشن کے بعد جنوبی پنجاب کے تمام محکمے پوری طرح فنکشنل ہوجائیں گے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو کہ بزدار سرکار جنوبی پنجاب کی ستر سالہ محرومیوں کے حل میں کامیاب ہوجائے وگرنہ اس خطے کی سیاسی تاریخ گواہ ہے صدر،وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ،گورنر اور وزارت خارجہ کے عہدے اس خطے کے سیاستدانوں کو نصیب ہوئے مگر کوئی بھی اس کی بڑھتی ہوئی محرومیوں اور پسماندگی کو دور نہیں کرپایا اب وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا مگر ان کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے سے ڈیرہ غازی خان و تونسہ شریف کی قسمت کا ستارہ چمکا اٹھا ہے اور عثمان بزدار کی بڑھتی ہوئی نوازشات پر خطے کے دوسرے اضلاع و علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں یہ رائے بھی تقویت پکڑتی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈیرہ تونسہ کو منی تخت لاہور بنانے کیلئے جنوبی پنجاب کے باقی اضلاع کو نظر انداز کررہے ہیں اب خدا ہی جانے اس بات میں کتنی صداقت ہے مگر اس کے ساتھ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سردار عثمان بزدار کی تمام تر توجہ اور فنڈز کے باوجود کیا ڈیرہ پھلاں دا سہرا بن پائے گا یا پھر ان کی یہ محنت رائیگا ں جائے گی۔؟

دوسری جانب گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اپنے دو روزہ دورہ ملتان و مظفر گڑھ کے دوران مینگو فیسٹیول میں شرکت اور سرکٹ ہاؤس میں ملتان کے ارکان اسمبلی کے ہمراہ پنجاب آب پاک اتھارٹی کے 72منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور فلاحی تنظیموں کے تعاؤن سے 11فلٹریشن پلانٹس کی بحالی کا افتتاح کیا اور بتایا کہ پنجاب آب پاک اتھارٹی کے منصوبوں پر تیزی کیساتھ کام جا رہی ہے اور اس کی 1500سکیموں پر دسمبر تک کام مکمل ہوجائے گااور صاف پانی کی فراہمی کیلئے آب پاک اتھارٹی مکمل فعال ہوچکی ہے،صوبے میں صاف پانی کی 3 ہزار سکیمیں شروع کررہے ہیں جس سے76 لاکھ لوگوں کو فوری انکی دہلیز پر صاف پانی پینے کو ملے گااور دسمبر تک ڈیڑھ کروڑ شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ بلاشبہ صاف پانی کی فراہمی کیلئے پنجاب آب پاک اتھارٹی کی کاوشیں اپنی جگہ قابل ستائش ہیں مگر پنجاب کے عوام پہلے ہی مسلم لیگ (ن)کے دور حکومت میں صاف پانی کے منصوبوں کو بھگت چکے ہیں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بھی کچھ اسی طرح کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے مگر بعد میں اُن کا یہ منصوبہ کرپشن کا نذر ہوگیا اور اس کا خمیازہ پنجاب کے عوام آج تک مضر صحت پانی پی کر بھگت رہے ہیں۔اگر گورنر پنجاب چوہدری سرور کی آب پاک اتھارٹی صوبہ بھر کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ آرسینک زدہ پانی پینے سے سالانہ لاکھوں افراد متعدد موذی امراض میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہارنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ عید قرباں کے حوالے سے ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھرکی ضلعی انتظامیہ نے اپنے اپنے اضلاع میں عارضی مویشی منڈیوں کیلئے پوائنٹس مختص کردئیے ہیں۔ملتان میں جانوروں کی خرید و فروخت کیلئے ضلع بھر میں  6 عا ر ضی مو یشی منڈیاں قائم کردی گئی ہیں تو دوسری جانب میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور ضلعی مانیٹرنگ ٹیمیں شہر میں غیر قانونی بکرا منڈیوں کے پوائنٹس کو ختم کرانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہیں جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے، عوام کو بھی اذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ضلعی انتظامیہ ملتان کو چاہیے کہ شہر کے چوک چوراہوں پر لگنی والی منڈیوں کو ختم کراتے ہوئے جو ضلع بھر میں منڈیوں کے پوائنٹس مختص کئے گئے ہیں وہاں پر سہولیات فراہم کرتے ہوئے جانوروں کی خرید و فروخت کو یقینی بنائے تاکہ خریداروں اور بیوپاریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ ہوسکے۔

٭٭٭

ایڈوانس ٹیکس:بجلی و پٹرولیم مصنوعات کے بعد،

ترقیاتی منصوبوں کی بھرمار،ڈیرہ پھلاں دا سہرا بن پائے گا؟ترقی کے پہیے کا رخ پسماندہ علاقوں کی طرف موڑ دیا:عثمان بزدار 

گورنرپنجاب کی ملتان ومظفر گڑھ آمد، مینگو فیسٹیول میں شرکت اورپینے کے صاف پانی کے منصوبوں کا سنگ بنیاد و افتتاح کیا

عید الاضحی،شہر اولیاء میں 6عارضی مویشی منڈیاں قائم،شہریوں اوربیوپاریوں کا سہولیات کے فقدان کا شکوہ  

مزید :

ایڈیشن 1 -