سینکڑوں افغان فوجی اہلکار تاجکستان فرار ،تاجک وزیر دفاع سرحدی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے پاکستان پہنچ گئے ،آرمی چیف سے اہم ملاقات 

 سینکڑوں افغان فوجی اہلکار تاجکستان فرار ،تاجک وزیر دفاع سرحدی صورتحال پر ...
 سینکڑوں افغان فوجی اہلکار تاجکستان فرار ،تاجک وزیر دفاع سرحدی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے پاکستان پہنچ گئے ،آرمی چیف سے اہم ملاقات 

  

راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن )افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے اثرات سرحدوں پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں ،سینکڑوں افغان فوجی اہلکار تاجکستان فرار ہو گئے ہیں جس پر تاجک حکومت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے اہم ممالک سے رابطے کیے ہیں ،دوسری جانب پاکستانی سرحد پر واقع باب دوستی کے قریب افغان علاقے میں بھی طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہے،اب تاجک وزیر دفاع پاکستان پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے ۔

اس موقع پر انہوں نے افغانستان کی حالیہ پیشرفت خصوصاً تاجک افغان سرحد پر صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر (انٹر سروسز پبلک ریلیشن)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل قمرجاوید باجوہ نے علاقائی رابطے کے فروغ کے لئے تاجکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور اپنے برادرانہ تعلقات کی قدر کرتا ہے، دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات امن ، سلامتی ، ثقافت اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔

آرمی چیف نے علاقائی رابطے کے فروغ کے لئے تاجکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد علاقائی امن اور استحکام کے حوالے سے دونوں ممالک کا یکساںموقف ہے۔تاجک وزیردفاع نے دونوں برادر ممالک کے مابین بہتر تعلقات کے لئے کام جاری رکھنے کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام باالخصوص افغان امن عمل کے لئے پاکستان کے مثبت کردار ادا کیا ہے ۔

مزید :

قومی -