سیاستدانوں کو عوامی مشکلات،انتخابی اصلاحات اور نئے صوبے پھریاد آنے لگے

سیاستدانوں کو عوامی مشکلات،انتخابی اصلاحات اور نئے صوبے پھریاد آنے لگے
سیاستدانوں کو عوامی مشکلات،انتخابی اصلاحات اور نئے صوبے پھریاد آنے لگے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کہا جاتا ہے جان نکالنے والا فرشتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام  کی جان لینے کے لئے اُن کے پاس پہنچا تو فرمایا: میں حاضر ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کس لئے آئے ہو، فرمایا:اللہ نے حکم دیا ہے آپ کا وقت پورا ہو گیا ہے یہ سن کر زور سے تھپڑ جھڑ دیا، فرشتہ واپس چلا گیا، اللہ کو بتایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سلوک کیا ہے،اللہ نے فرشتے کو دوبارہ بھیجا اور فرشتے نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آگے مزید زندہ رہنے کی آپشن رکھ دی، تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اس کے بعد کیا ہو گا، فرشتے نے فرمایا پھر موت۔ یہی حال ہمارے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کا ہے الیکشن سے فرار کے تمام راستے بند ہو رہے ہیں، آئین اور قانون کو مذاق بنانے کے بعد بھی کسی نہ کسی کونے سے الیکشن2023ء کی آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔دلچسپ مرحلے کا آغاز ہے مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس اور اس میں کیے گئے گلے شکوے اثر دکھا رہے ہیں،کوریج بھی مل رہی ہے۔ ٹاک شو کو موضوع بھی مل گیا ہے، نوبت جہاں تک آ گئی ہے، ملکی معیشت کی مضبوطی کو آئی ایم ایف معاہدے سے جوڑا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کو گالیاں دینے والے ملک دشمن قرار دینے والے آئی ایم ایف سے معاہدے کو حکومت کو بڑی کامیابی قرار دے کر مبارک بادیں دے رہے ہیں

اور وصول کر رہے ہیں،سونے  پر سہاگہ سعودی عرب نے مشکل وقت میں ایک دفعہ پھر دو ارب ڈالر اور یو اے ای سے ایک ارب ڈالر امانتاً قومی خزانے میں جمع کرا دیئے ہیں بات یہی نہیں رُک رہی۔ وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف آرمی چیف کے زمینوں کو آباد کرنے کے منصوبے کو انقلابی  اقدام اور روشن مستقبل کی ضمانت قرار دیتے ہوئے ان کی طرف سے دو ارب سعودیہ اور ایک ارب یو اے ای سے لانے پر سربسجود ہیں۔ آج کے کالم کا موضوع ہر گز اِن امور پر بات کرنا نہیں ہے البتہ ایک بات بڑی خوش آئند ہے الیکشن اس سال ہوں یا اگلے سال، سیاستدانوں کو اندازہ ہو گیا ہے اب اس سے مزید فرار ممکن نہیں ہے اس لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عوامی مشکلات کا ذکر شروع ہو گیا ہے انتخابی اصلاحات کی73 ترمیم اچانک پیش کر دی گئی ہیں،ہزارہ اور جنوبی پنجاب کو صوبے بنانے کا وعدہ لے کر 2018ء کا الیکشن لڑنے والوں نے نئے صوبوں پر دوبارہ خطاب کرنا اور بیان دینا شروع کر دیئے ہیں پنجاب میں تو بلدیاتی الیکشن کے لئے تیاریاں مکمل ہونے کا الیکشن کمیشن نے سگنل بھی دے دیا ہے۔دوسری طرف شدید بارشوں اور انڈیا کی طرف سے ہمارے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔12سے18 جولائی شدید بارشوں کی پیش گوئی بھی ہو چکی ہے، آئندہ ماہ شدید سیلاب کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے،قومی آفات سیاستدانوں کے کام آتی ہیں، سیلاب کو بنیاد بنا کر الیکشن آگے ہوتے ہیں یا پنجاب میں بلدیاتی الیکشن پہلے کروا لیے جائیں کیونکہ تین صوبوں میں بلدیاتی الیکشن ہو چکے ہیں۔اسلام آباد اور پنجاب میں عوام بلدیاتی الیکشن کے لئے تیار ہے۔ قومی الیکشن تھوڑے دنوں یا چند ماہ کے لئے آگے کر دیئے جائیں وجہ نظر نہیں آ رہی، بڑی وجہ جو ہر الیکشن کے التوا کا جواز بن سکتی ہے وہ ہے انتخابی اصلاحات، قیام پاکستان سے آج تک الیکشن شفاف نہیں ہوئے، اس لئے انتخابی اصلاحات الیکشن سے پہلے بڑی اہم اور ضروری ہیں، ہو سکتا ہے نئے صوبے بنانے کا2018ء سے دم بھرنے والے بھی رونا روئیں کہ ہم کس منہ سے عوام کے سامنے جائیں گے،نئے صوبوں کا لالی پاپ دینے کے لئے کچھ ترمیم اور تجاویز پیش کر دی جائیں تاکہ انتخابی جلسوں کے لئے سیاست دانوں کو مواد  مل سکے۔


تاریخ بتا رہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آج تک قومی اسمبلی میں 75 کے قریب بل پاس ہوئے ہیں اور73 کے قریب باقاعدہ قانون بن چکے ہیں، سب سیاستدانوں کے اپنے مفادات اور ترجیحات پر مبنی ہیں ان میں عوامی فلاح،عوامی ریلیف کا ایک بل بھی شامل نہیں ہے اس وقت پاکستان کی حکومت اور ادارے بڑے شاداں ہیں کہ سعودی عرب سے دو ارب،یو اے ای سے ایک ارب ڈالر مل گئے ہیں، آئی ایم ایف کی پہلی قسط کی منظوری بھی ہو گئی ہے  اللہ کرے یہ ادھار آخری ہو اور ہماری قوم کے لئے زوال یا باعث نہ بنے۔ اصل موضوع کی طرف آتا ہوں اب جبکہ الیکشن کا بگل بجنے کو ہے مُلک الموت آوازیں لگا رہا ہے، مزید مہلت نہیں ملے گی۔ان حالات میں انتخابی اصلاحات کی73 ترمیم بڑی دھوم دھام سے پیش ہو چکی ہیں،70 ترمیم پر اتفاق رائے بھی پایا جا رہا ہے۔مسلم لیگ(ن) انتخابی اصلاحات کو الیکشن سے پہلے منظور کرانا اور نافذ کرنا ناگزیر قرار دے رہی ہے اب پیپلزپارٹی نے8اگست کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔وزیر داخلہ نے وقت پر تحلیل کرنے کا عندیہ دیا ہے،وزیراعظم14اگست کو موجودہ حکومت کا آخری دن قرار دے رہے ہیں،قومی الیکشناکتوبر، نومبر 2023ء یا مارچ 2024ء کا فیصلہ کرنے والے کریں گے۔البتہ ایک بات طے ہے اب الیکشن ہوں گے، کب ہوں گے، تجزیہ نگاروں کا خیال ہے عمران کو مائنس کرنے تک الیکشن کا اعلان نہیں ہو گا۔2018ء سے اب تک تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کی 14جماعتوں نے جو عوام کے ساتھ کیا ہے عوام بھی شدید غصے میں ہیں اب بال عوام کی کوٹ میں آ گئی ہے وہ75سال کی طرح ایک دفعہ قیمے والے نان پر ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں،برادری کو ترجیح دیتے ہیں، دھڑے بندی، محلے داری کی بھینٹ چڑھتے ہیں یا سوچ سمجھ کر اپنا فیصلہ دیتے ہیں۔ میرا دوست کہہ رہا تھا ہم دو کلو سیب لینے جاتے ہیں 15منٹ سیب دیکھتے ہیں اس سے قیمت طے کرتے ہیں ووٹ جو قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں وہاں سوچتے ہی نہیں،کھرے کھوٹے، چور ڈاکو تک کو نہیں دیکھتے،اچھا آدمی موجود ہو تو اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں اس نے کون سا جینا ہے یہ ہمارے کام نہیں کروا سکے گا۔ جب تک ہم بھیڑ چال سے نہیں نکلیں گے سیاست دانوں کے لالی پاپ سے نہیں نکل سکیں گے،2023ء کا الیکشن معروضی سیاستدانوں کو سبق سکھانے کا الیکشن بن سکتا ہے کیونکہ عوام کے تیور پہلے جیسے نہیں ہیں،2023ء کا الیکشن تاریخی اور تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -