جنت جزیرے

جنت جزیرے
جنت جزیرے

آج دنیا بڑی تیزی سے تقریباً تمام شعبوں میں ترقی اور پیش رفت کر رہی ہے۔ اس تیز ترین دور میں علم اور تعلیم کی ضرورت اورانسانی معاشرے کے لئے اس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر بہت سے ممالک اور معاشرے ترقی کے زینے تیزی سے طے کر رہے ہیں۔

جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ افراد کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر کے معاشرے کو زیادہ پُرامن، خوشحال اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیم بھی سماجی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

پاکستان بھر میں انہی بنیادی حقائق کی روشنی میں پاک تُرک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز قائم کئے گئے ہیں۔ ان اداروں کے منتظمین کا خیال ہے کہ ہم تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ اپنی قومی اور روحانی روایات پر سمجھوتہ کئے بغیر ہم علم کے ذریعے جدید دنیا کے ایک متحرک رُکن بن سکتے ہیں۔ ہمیں دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کر کے انہیں اپنے مفاد اور ترقی میں بدلنا ہوگا۔

وہ معاشرے جہاں انسانی وسائل اور ذرائع کا استعمال زمانے کے چیلنجز کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ وہ معاشرے آج ترقی یافتہ اور معیار کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں پاک ترک سکول و کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ آئندہ آنے والی نوجوان نسل ملک و قوم کی بہتر طور پر خدمت کر سکے۔ یہ نوجوان ہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ پاکستان کی ثقافت اور قومی اقدار کی علم بردار، یہ نوجوان نسل ہی علم اور سائنس کے ذریعے ترقی کی منازل طے کرے گی۔ 21 ویں صدی کا سب سے بڑا سرمایہ تعلیم، تربیت اور تہذیب یافتہ لوگ ہی ہیں۔ سب سے بڑی سرمایہ کاری قوم و ملک کے علم اور تعلیم کے میدان میں کئی گئی سرمایہ کاری ہے جس سے ہی ترقی اور خوشحالی کے سوتے پھوٹیں گے۔

پاکستان میں سب سے پہلا تعلیمی ادارہ جو پاک تُرک فاو¿نڈیشن کے تحت قائم کیا گیا، وہ پاک تُرک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز اسلام آباد برانچ ہے جو یکم اپریل1995ءکو معرضِ وجود میں آیا۔

 فی الحال پاک تُرک انٹرنیشنل چاغ ایجوکیشنل فاو¿نڈیشن کے تحت پاکستان کے چاروں صوبوں میں19 سکولز و کالجز چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، پشاور، ملتان، لاہور، خیر پور اور جام شورو میں واقع ہیں۔ ان سکولوں میں 155 تُرک اساتذہ اور 400 پاکستانی اساتذہ کے علاوہ 6500 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

 ان سکولوں کا فلسفہءتعلیم یہ ہے کہ یہ ایک ایسی نوجوان نسل کی نشوونما کر سکیں، جن کے ذہن سائنسی اور مثبت علوم سے مزین ہوں اور دل اور روح عقیدے اور روح سے منور ہو، جو اپنے ملک کے مستقبل کی اُمید بن سکیں اور پوری انسانیت کے لئے فائدہ مند فرد ہوں۔

پاک تُرک سکولز اینڈ کالجز کی نمایاں خصوصیات میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جدید تعلیمی سہولیات اور کردار سازی ہے۔ ان کے طالب علم عالم گیر انسانی اور اخلاقی اقدار جیسے سچائی و صداقت، صبر و تحمل، انسانیت کا احترام، پیار و محبت، کسی مادی منعفت کے بغیر انسانیت کی خدمت، وفاداری ، اعتماد بھروسہ اور دوسرے لوگوں کو بطور انسان ہونے کے ناطے قبولیت جیسی خوبیاں اور اوصاف شامل ہیں۔ چیئرمین پاک ترک فاو¿نڈیشن کا کہنا ہے کہ ہم اس قول کہ: ” جو پیار و محبت سے پڑھایا جائے، وہ ہمیشہ رہتا ہے“.... کے مصداق اپنے طلبہ و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ ہم طلبہ و طالبات کو مرکز اور فوکس کر کے پراجیکٹ پر مبنی تعلیم دے رہے ہیں۔ ہم کثیر المقاصد طریقہءتدریس کو اپناتے ہیں جو طلباءو طالبات کی تمام حسیات اور خوبیوں کو اُجاگر کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ان سکولوں اور تعلیمی اداروں میں مثالی اساتذہ پڑھاتے ہیں جو اپنے شعبوں اور مضامین میں انتہائی تجربہ کار اور اپنے پیشے سے مخلص ہیں۔ ان اساتذہ کی تربیت کے لئے مستقل بنیادوں پر سیمینارز، کانفرنسز اور ورکشاپ منعقد کروائی جاتی ہیں۔ہر تربیتی سیشن اور کورس میں نامور ملکی اور بیرون ملک سے ماہر تعلیم اور منتظمین کو دعوت دی جاتی ہے۔ اس طرح پری سکول اور پرائمری سکول سے او اے لیول اور میٹرک ایف ایس سی تک کے تمام اساتذہ مستفید ہوتے ہیں۔

ان سکولوں کے بچوں نے مقامی اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ نمایاں پوزیشن لے کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ بین الاقوامی مقابلوں میں اب تک ان سکولوں کے طلبہ و طالبات کو پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور اب تک بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈ اور پراجیکٹ مقابلوں میں پاک تُرک سکولز اینڈ کالجز کے بچوں نے 58 سونے کے تمغے،22 چاندی کے تمغے، 44 کانسی کے تمغے حاصل کئے ہیں۔ اس طرح کل124 تمغوں اور اعزازات کے ساتھ ان سکولوں کے بچے ملک و قوم کے لئے باعث فخر ثابت ہو رہے ہیں اور پاکستان کا مثبت تصور اُبھارنے کا سبب بن رہے ہیں جو قابل تعریف ہے۔

 پاک تُرک سکولز اینڈ کالجز کے فارغ التحصیل بچے اعلیٰ تعلیم کے لئے پاکستان اور بیرون ملک مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ140 پاکستانی بچے پاک ترک فاو¿نڈیشن کی طرف سے فراہم کردہ وظائف پر تُرکی کی اعلیٰ اور مشہور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے تمام تعلیمی، سفری، طعام و قیام اور کُتب و جیب خرچ کے اخراجات فاو¿نڈیشن برداشت کر رہی ہے۔ یہ بچے واپس آکر ملک وقوم کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ 800 کے قریب ذہین لیکن محقق اور غریب بچے ان پاک تُرک سکولوں میں مفت اور فری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے تمام اخراجات فاو¿نڈیشن برداشت کر رہی ہے۔ یہ بچے پورے پاکستان سے ہیں اوران کا انتخاب میرٹ پر ہوا ہے۔ فاو¿نڈیشن تعلیمی شعبے میں اپنی شاندار خدمات کے علاوہ اساتذہ، ماہرین تعلیم، میڈیا، بزنس مین، والدین اور اپنے طلبہ و طالبات کو ہر سال تُرکی کی سیر کراتی ہے۔ اس طرح فاو¿نڈیشن دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت، ثقافت، میڈیا، بزنس اور دانشوروں اور ماہرین تعلیم کے دوروں سے دونوں کے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔

مزید برآں فاو¿نڈیشن پاکستان میں بہت سے دیگر فلاحی منصوبوں میں بھی ہماری مدد کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر جب 8 اکتوبر 2005ءکو مظفر آباد اور آزاد کشمیر میں شدید زلزلہ آیا تو پاک تُرک فاو¿نڈیشن وہ واحد فلاحی تنظیم تھی جو 24 گھنٹوں کے اندر اندر متاثرہ علاقوں میں مدد اور ریلیف سامان کے ساتھ پہنچی۔ 3 خیمہ بستیاں قائم کیں۔ فیلڈ ہسپتال قائم کیا۔ ہزاروں لوگوں کو 3 وقت کا تازہ کھانا فراہم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 جدید سکول بنا کر مظفرآباد کشمیر حکومت کے حوالے کئے اور 4 ملین ڈالرز نقد ریلیف فنڈ میں جمع کروائے۔ 8 ماہ تک فاو¿نڈیشن نے زلزلے والے علاقے میں اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

جب 2010-11ء میں پاکستان میں شدید سیلاب آئے خاص طور پر پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں ہزاروں لوگ بے گھر اور بے یارومددگار ہوئے تھے۔ پاک تُرک فاو¿نڈیشن نے فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ دیگر ترکش ریلیف آرگنائزیشن اور تنظیموں کو متحرک کیا اور ”کم سایوک ما“ کے ساتھ مل کر امدادی سامان اکٹھا کیا۔ ایمرجنسی کیمپ اور خیمے قائم کیا۔ صحت کے مراکز قائم کئے۔ ادویات تقسیم کیں اور ہزاروں ٹن خوراک اور امدادی اشیاءسیلاب زدگان تک پہنچائیں۔ فاو¿نڈیشن اب بھی کم سا یوک ما کے ساتھ مل کر ماڈل ویلیج اور سیلاب زدگان کو گھر بنا کر دے رہی ہے۔

1995ءسے اب تک پاک ترک فاو¿نڈیشن ہر سال ہزاروں گائے کی قربانی کا اہتمام عیدالاضحیٰ پر کرتی ہے اور لاکھوں خاندانوں تک گوشت بہم پہنچاتی ہے۔ 2011ءمیں فاو¿نڈیشن کے اس اجتماعی قربانی کے گوشت سے 90 ہزار خاندان مستفید ہوئے اور32 ہزار قربانی کے حصے تقسیم کئے گئے ہیں۔

 یہ تعلیمی ادارے اور فاو¿نڈیشن تُرکی کے مخیر حضرات کے تعاون اور مالی امداد سے قائم ہوئی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اب پاکستانی بزنس کمیونٹی اور مخیر حضرات بھی فاو¿نڈیشن کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں اور پشاور، اسلام آباد، لاہور میں ہوسٹل قائم کر کے ایک نئی مثال رقم کر دی ہے۔

پاک ترک فاو¿نڈیشن کے تحت قائم کئے گئے تعلیمی ادارے عالمگیر اقدار پر زور دیتے ہیں جہاں تعلیم اور تربیت و کردار سازی کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ادارے کسی مخصوص نظریہ، تنظیم، فلسفہ و فکر، سیاست، تفرقہ بازی اور شدت پسندی اور بنیاد پرستی سے کوسوں دور امن، آشتی، خوشحالی، ہم آہنگی اور پیار و محبت کے جزیرے اور جنت کہے جا سکتے ہیں جہاں ایک مقدس فرمان یعنی ”علم و آگہی“ کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان اداروں کا خاصا یہ بھی ہے کہ ایک ہی جماعت میں ایک ہی طرح کی سہولیات کے ساتھ امیر و غریب اور فقیر و دولت مند کے بچے ایک ہی ڈیسک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر ر ہے ہیں۔ ان اداروں میں مختلف پس منظر رکھنے والے مختلف ثقافتوں اور معاشروں سے تعلق رکھنے والے بچے زیر تعلیم ہیں اور خیر پور، پشاور اور کراچی و کوئٹہ جیسے شہروں میں تعلیم کی شمع روشن کئے ہوئے ہیں۔

یہاں کے اساتذہ تعلیم و تدریس کو صرف ایک پیشے یا ملازمت کی حیثیت سے نہیں اپنائے ہوئے ہیں اورنہ پیسے کمانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے وہ پیغمبرانہ پیشہ سمجھ کر اور مشن سمجھ کر خلوص نیت سے کام کر رہے ہیں۔ وہ بڑی محنت، جانفشانی اور صدق دل سے تدریس کا کام کر رہے ہیں۔

ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں ان سکولوں سے بچے، تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ہزاروں بچوں کا مستقبل ان اداروں کی تعلیم و تربیت سے تشکیل پا رہا ہے۔

 پاک تُرک فاو¿نڈیشن کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کے ہر شہر میں کم از کم اپنا ایک سکول کھولے۔ اس کے علاوہ فاو¿نڈیشن پاکستان میں ایک جدید اور معیاری یونیورسٹی کے قیام کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ پاک تُرک فاو¿نڈیشن کو اس کی شاندار تعلیمی، سماجی اور فلاحی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 2005ءمیں صدر پاکستان نے ”ستارہ امتیاز“ عطا کیا ہے۔

6 جون بروز بدھ کو پاک تُرک انٹرنیشنل چاغ ایجوکیشنل فاو¿نڈیشن اور پاک تُرک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز کی 17 ویں سالگرہ کی ایک پُروقار اور شاندار تقریب اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل کے ایمبیسیڈر ہال میں منعقد ہوئی جس میں لاہور، پشاور اور اسلام آباد سے 40 سے زائد صحافیوں، کالم نگاروں، دانشوروں، ماہرین تعلیم اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب کی صدارت فاو¿نڈیشن کے چیئرمین جناب اونل توشر نے کی۔ فاو¿نڈیشن کے تحت پاکستان بھر میں قائم کئے گئے پاک ترک انٹرنیشنل سکولز اینڈ کالجز کے بارے میں ایک ڈاکومینٹری دکھائی گئی۔ اس موقع پر جناب اونل توشر نے جو تقریر کی مندرجہ بالا سطور میں اس کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ قارئین اس فاو¿نڈیشن اور ان سکولز و کالجز کے بارے میں درج ذیل ویب سائٹ سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔

www.pakturk.org

www.pakturk lahore.com

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...