امریکی انخلا کے بعد روس اورچین کا خطے میں کردار

امریکی انخلا کے بعد روس اورچین کا خطے میں کردار
 امریکی انخلا کے بعد روس اورچین کا خطے میں کردار

  

جب امریکی اور نیٹو افواج اگلے دو سال میں افغانستان سے نکلنے والی ہیں، اس خطے میں طاقت کے معروضات تبدیل ہورہے ہیں۔ امریکی روانگی اور اس کے افغانستان اور پاکستان پر اثرورسوخ کم ہونے کے بعد خطے کی دوسری بڑی طاقتیں، روس اور چین اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ امکان ہے کہ 2014ءمیں امریکی دستوںکے افغانستان سے انخلا کے بعد علاقے میں اہم تبدیلی دکھائی دے گی....جب امریکہ افغانستان سے جانے کی تیاری کررہا ہے تو روس اور چین پاکستان اور افغانستان کے ساتھ معاشی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنے جنوبی بارڈروں کو اسلامی انتہاپسندوںکے پھیلاﺅ سے بچا سکیں۔ اب جبکہ افغان جنگ آخری مراحل میںہے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نہایت بگڑ چکے ہیں۔ اس صورت ِ حال میں ”ایس سی او“ کی بے حد اہمیت نظر آتی ہے۔

چین اور افغانستان اس کانفرنس میں ایک سٹرٹیجک معاہدے پر دستخط کریںگے ۔ ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی عروج پر ہوںگے، جب چین معدنیات سے بھرے ہوئے افغانستان سے خام مال خریدنے اور تیل کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط کرے گا۔ چین نے پہلے ہی تیل اور تانبے کے کچھ ذخائر کے سودے کر رکھے ہیں۔ اب تک امریکی خواہش کے برعکس چین نے افغانستان کی تعمیر کے کسی منصوبے یا یہاں کی پولیس یا فوج کی تشکیل کے لئے فنڈ دینے کی حامی نہیں بھری ،تاہم امریکہ کے یہاں سے روانہ ہونے کے ساتھ ہی تمام صورت ِ حال تبدیل ہوجائے گی۔ کابل میں چین کے سفیر Xu Feihong کا کہنا ہے....”چین افغانستان کا سب سے قابل ِ اعتماد دوست ہے“۔

روس اور چین مل کر ”ایس سی او“ کے پلیٹ فارم سے بھی افغانستان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس کے لئے انفرادی سطح پر بھی کوشاں ہیں۔ روس افغانستان کو پیش کش کررہا ہے کہ وہ کابل سے شمالی افغانستان کو جانے والی انتہائی اہم سڑک کی ”سلانگ ٹنل ہائی وے “ ، جو روس نے ستر کی دھائی میں تعمیر کی تھی ،مرمت میں مدد دے گا۔ کئی سال کے خراب تعلقات کے بعد روس پاکستان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماسکو نے اس خطے پر گہری نظر رکھنے والے ذیمر کابلوف(Zamir Kabulov)کو اپنا نمائندہ خصوصی بنا کر اسلام آباد بھیجا ہے تاکہ پاکستان کی ضروریات کی تفہیم کرتے ہوئے مالی امداد کی پیش کش کی جاسکےخاص طور پر پاکستان کی واحد سٹیل مل، جو روس کے تعاون سے ستر کی دھائی میں قائم کی گئی تھی، کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔ چین پہلے ہی پاکستان کا نہایت قابل ِ اعتماد دوست ہے۔

اس سے پہلے جون کے پہلے ہفتے میں چین کے وزیر ِ خارجہ مسٹر Yang Jiechi اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس دورے کے دوران انہوںنے پاکستان کو یقین دلایا کہ امریکہ کے ساتھ تناﺅ کی حالت میں چین ممکنہ حد تک پاکستا ن کا ساتھ دے گا۔ انہوںنے یہ کہہ کر حکومت ِ پاکستان کو خوش کردیا کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی نیت پر شک( جیسا کہ امریکہ کررہا ہے) کرنے کی بجائے اس کی ”عظیم قربانیوں “ کو تسلیم کرے ۔ اگر اس اہم موقع پر پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردوںکا خاتمہ کرسکے تو یہ روس اور چین کو قائل کرسکے گا کہ اس کی واقعی مدد کی جائے تاکہ یہ افغانستان جیسے حالات کا شکار نہ ہوجائے۔ اس جنگ کے خاتمے کے بعد چین افغانستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو اس کام میں اُسے پاکستان کی اہمیت کا بخوبی احساس ہے۔ یہ معدنیات کی تلاش میں پاکستانی کمپنیوںکی معاونت حاصل کرسکتا ہے۔

اب تک صدر آصف علی زرداری صاحب چین کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ ان کو مغربی ممالک کی طرح معاشی مشکلات سے نمٹنے اور بجٹ کا خسارہ کم کرنے کے لئے مالی ا مداد دے گا، مگر چین اس ضمن میں پاکستان کی امیدوں پر پورا اترتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی بجائے یہ ایسے منصوبوں میں مدد کرتا ہے جہاں پاکستان کوتو فائدہ ہو، مگر دراصل اس سے چین کا مفاد بھی وابستہ ہو، تاہم اپنے حمایت بھرے الفاظ کے باوجود مسٹر یانگ نے پاکستان کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ محاذآرائی سے گریز کریں اور افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا میں اپنا کردار ادا کریں۔ گزشتہ سات ماہ سے پاکستان نے کراچی کے راستے نیٹو سپلائی لائن نہیں کھولی ہے۔ اس ضمن میں امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت اب تک بے سود ثابت ہوئی ہے۔

چین اور روس دونوںکو خوشی ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے رخصت ہورہی ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اُنہیں طالبان اور دیگر انتہاپسند تنظیموںکے دوبارہ سراٹھانے کا خدشہ بھی لاحق ہے، کیونکہ یہ عناصر جنوبی چین کے صوبے Xinjiang اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں، جن کی سیکیورٹی ابھی تک روس کے ہاتھ میں ہے، داخل ہوسکتے ہیں۔ چین کو پاکستان کے اندرونی خلفشار سے بے حد تشویش ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں اسلامی بنیاد پرست اقتدار پر قابض ہوسکتے ہیں۔ چین کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر داخلی انتشار یا چلنے والی علیحدگی کی تحریک کی وجہ سے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا فائدہ پاکستان کے روایتی حریف بھارت کو پہنچے گا۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ چین کے اعلیٰ سطحی وفد نے امریکی افسران سے بات چیت کی ہے کہ پاکستان کو درپیش بحران کو کس طرح ٹالا جاسکتا ہے اور پاکستانی قیادت کو درست فیصلے کرنے پر آمادہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں حامد کرزئی اور آصف علی زرداری کو چینی اور روسی رہنما اپنائیت کا احساس دلا رہے ہیں تاکہ ان ممالک کے ساتھ طویل المدت شراکت قائم کی جاسکے۔ امریکہ بھی چینی قیادت سے مدد کا طلب گار ہے کہ وہ پاکستان کی فوجی قیادت کو افغانستان میں نیٹو افواج کو زچ کردینے والے طالبان کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے پر آمادہ کرے۔ اسی دوران چین اور روس کو بھی طالبان اور القاعدہ کی براہ ِ راست سرگرمیوں کا بھی خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں غیر معمولی پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی، جب چین نے پاکستان کے ساتھ نسبتاً سخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا وہ Uighur انتہا پسندوںکو لگام ڈالے جو نہ صرف افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرتے ہیں، بلکہ یہ چین سے آزادی حاصل کرنے کے لئے بھی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس انتباہ پر پاک فوج نے فوری اقدام اٹھاتے ہوئے کارروائی بھی کی۔ در اصل چین کافی عرصے سے پاکستان سے خاموشی سے کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہر قسم کے دہشت گرد گروہوںسے پاک کرے۔ اس پیغام کا نیٹو نے خیر مقدم کیا ہے۔

روس کو یقین ہے کہ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں میں سرگرم ِ عمل جہادیوں،جیسا کہ ”اسلامک جہاد اور ازبک تحریک“ کا محفوظ ٹھکانا ہے۔ پاکستان میں قیام پذیر تین گروہ ، جو کہ اب شمالی افغانستان کی طرف پیش قدمی کر چکے ہیں، تاجکستان اور ازبکستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ یواین کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ لشکر ِ طیبہ سمیت بہت سی تنظیمیں ان گروہوں کی مدد کرتی ہیں۔ روس کے سفیر زیمر کابلوف چونکہ اسّی کی دھائی میں کابل میں سفارتی فرائض انجام دے چکے ہیں، اس لئے انہیں بخوبی علم ہے کہ پاکستان کے دفاعی ادارے کس طرح ان انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرتے ہیں، چنانچہ انہوںنے پاکستانی حکام کے ساتھ اس مسئلے پر بات کی ہے۔

روس خود کو آزاد ہونے والی وسطی ایشیائی ریاستوںکا محافظ سمجھتا ہے اور اگرچہ یہ اس خطے سے امریکی فوجی ٹھکانوںکا خاتمہ چاہتا ہے ،مگر اس کے لئے یہ بات زیادہ اہم ہے کہ پاکستان ان گروہوںکے خاتمے کے لئے کیا اقدام اٹھاتا ہے،اگر پاکستان اپنی سرزمین پر پروان چڑھنے والی انتہاپسندی کو روکنے کے لئے کارروائی کرتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ روس اور چین کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا کہ وہ امریکی اثر سے نکل کر اُن کے تعاون کا طلب گار بننے کا اہل ہے، تاہم پاکستان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے سیاسی اور مالی مسائل پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے موجودہ حکومت اس طرح کی مطلوبہ کارروائیاںکرنے کی پوزیشن میں نہیںہے۔ بہرحا ل اس خطے کے معروضات میں تبدیلی آرہی ہے۔ اب یہ پاکستان اورافغانستان پر منحصر ہے کہ وہ اس تبدیلی سے کیسے استفادہ کرتے ہیں اور اس اذیت ناک صورت حال سے، جس نے ان کے وجود کو خطرے میں ڈال رکھا ہے، کس طرح نکلتے ہیں۔

مصنف، نامور پاکستانی کالم نگار اور افغان امور کے ماہر ہیں۔ جن کے کالم متعدد بین الاقوامی اخبارات اور بی بی سی آن لائن پر شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تحریر کردہ کتاب ”طالبان“ World Best Seller کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔

مزید : کالم