ملاوٹ شدہ معلومات کی فروخت

ملاوٹ شدہ معلومات کی فروخت
 ملاوٹ شدہ معلومات کی فروخت

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جس تیر اور ترکش کے ساتھ آئے تھے عدلیہ کو تاراج کرنے، خواب دھرے ہی رہ گئے۔ خواب اکثر ادھورے رہ جاتے ہیں۔ تعبیر نصیب والوں کو ہی ملا کرتی ہے۔ اشرافیہ کی بھاری اکثریت سپریم کورٹ کو ان کی بے راہروی کی راہ میں بڑی رکاوٹ تصور کرتی ہے ۔ آئین اور قوانین کو پاکستان کے حکمران طبقے نے اپنی خواہشات کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ تصور کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ہمیشہ اپنی انگلیوں سے کچل دیا ۔انہیں کبھی بھی اپنے اس عمل پر تاسف نہیں ہوا۔ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ قوانین اور آئین کسی بات کی اجازت کہاں تک دیتے ہیں ؟انہیں تو اس بات سے غرض رہتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو کہاں تک پورا کر سکتے ہیں؟ اشرافیہ کی خواہشات کے احترام میں پاکستان ماضی میں بھاری قیمت ادا کرتا رہا ہے، حتیٰ کہ دو لخت بھی ہوا ،لیکن اشرافیہ اور حکمران طبقے نے سبق سیکھا ، نہ ہی لیا۔

پاکستان عدلیہ پر شب خون مارنے کی خواہش تو حکمرانوں کے دل میں ہر وقت مچلتی رہتی ہے۔ انہیں فرینڈلی عدلیہ چاہئے۔ انہیں ایسی عدلیہ چاہئے جو ان کے اشاروں پر ہر کام کرنے پر رضامند ہو۔ بات یہ آج کی نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر بے باک، نڈر اور ایمان دار جج صاحبان کو اس صورت حال کا سامنا رہا ہے۔ بھٹو مرحوم کے دور میں سانگھڑ میں متعین ڈسٹرکٹ جج ہوں یا سابق مغربی پاکستان کے نامور جج مرحوم جسٹس ایم آر کیانی ہوں یا کوئی اور۔ کبھی زیادہ، کبھی کم۔

حکمران ہر دور میں یہی چاہتے رہے ہیں کہ عدلیہ ان کی تابعدار ہو اور ان کی مرضی سے فیصلے کرے۔ گزشتہ پانچ سال میں عدلیہ نے جو فیصلے بھی کئے ہیں، ان پرسوچے سمجھے بغیر جس بازاری انداز میں تنقید کی گئی اور ایسے لوگوں نے بھی تنقید کا گیت گایا جنہیں قانون کے قاف اور نون سے بھی واقفیت نہیں ہے، لیکن تنقید جاری رہی۔ جب عدلیہ نے اپنے کان بند کر لئے اور اپنی آنکھوں کو قانون اور آئین کی کتابوں پر جما دیا تو بھی عدلیہ تنقید کا نشانہ بنتی رہی۔ کیا کچھ نہیں ہوا۔ کیا کچھ نہیں کہا گیا۔ جس وکیل کے منہ میں جو بات آئی ،اس نے کمرئہ عدالت میں بول ڈالی۔ کمرئہ عدالت سے باہر آکروکیل اور مو کل نے ذرائع ابلاغ کے بے چین نمائندوں کے سامنے بھی گفتگو کر لی۔ وجہ صاف ظاہر کہ عدلیہ کو معتوب کرنا مقصود تھا۔ عدلیہ اپنے آپ کو بچاتی ہی رہی۔

وفاقی حکومت اور اس کے حامی سیاستدانوں نے تو عدلیہ کے فیصلوں کی دھجیاں آڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہر شخص اپنے گھر میں بیٹھا اپنے اپنے ٹی وی پر مختلف چینلوں پر رات آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک یہی تماشہ دیکھتا رہا۔ چینلوں پر بڑے بڑے نام والے میزبان اور مہمانان گرامی کیا کچھ نہیں بولتے رہے ، اگر یہ گفتگو خود ان لوگوں کو دوبارہ سنائی جائے تو بہت سارے لوگ شرمسار تو ہوں گے، لیکن ٹی وی کا یہ کمال ہے ( شائد ٹی وی پر گفتگو کرنے والے سمجھتے ہیں )کہ منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں ۔ ٹی وی کے اینکر ہوں یا اینکری ، جسے چاہا بلا لیا اور دکان کھول لی.... دکان کھول لی کے الفاظ میں نے احتیاط کے طور پر لکھے ہیں ۔ جس وقت یہ میزبان اور مہمان گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،عین اسی وقت بائی جی کا کوٹھا بھی آباد ہو جاتا ہے۔ میک اپ، گھنگرو، تھرکنا، رقص، باہوں میں جھولنا، تماش بینوں کے درمیاں معمولی معمولی بات پر جھگڑے، جھگڑوں کا اس حد تک بڑھ جانا ،جس میں کبھی کبھی قتل بھی ہو جاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی قائل کرے کہ کچھ استثنیات کے ساتھ چینلوں کے میزبان اور مہمان کیا یہی سب کچھ نہیں کر رہے ہوتے ہیں؟ شیشے کے گھروں میں بیٹھنے والوں کے ناموں کے چکر میں پڑنا نہیں چاہئے، ورنہ بات دور تک جائے گی۔

جس ملک میں لوگوں کے پاس تفریح کے لئے سوائے کھانا گھر کے باہر کھانے اور گھر میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کے علاوہ کچھ اور نہ ہو، وہاں پروگرام کے میزبان پر بھاری ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے ناظرین کے ساتھ نا انصافی کے مرتکب نہ ہوں اور ان کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ اعتماد مجروح کرنا تو اس قتل سے زیادہ بھیانک ہے جو قتل بائی جی کے کوٹھے پر ہو جاتا ہے۔ جس آدمی کا اعتماد مجروح ہو جائے ،وہ شخص طویل عرصے تک بھٹک جاتا ہے۔ ناظرین ہوں یا قارئین، یا سامعین، انہیں بھٹکانا تو جرم قرار پاتا ہے۔

اخباری مالکان کی انجمن ہو یا مدیران کی تنظیم، ٹی وی مالکان ہوں یا ریڈیو مالکان، کہیں تو کسی نہ کسی ضابطے کی پابندی لازمی ہونا چاہئے۔ خبر، اس کی جزئیات، اس کی حقیقت، سچائی کی پابندی تو لازمی کرنا ہوگی۔قارئین ہوں یا سامعین یا ناظرین، ان کا حق ہے کہ انہیں درست اور کسی ملاوٹ کے بغیر معلومات پہنچائی جائیں، لیکن اس ملک میں ذرائع ابلاغ کا ایک حلقہ یہ تصور کرنے لگا ہے ، جیسے کسی میڈیکل اسٹور پر ملاوٹ شدہ دوا فروخت کر دی جاتی ہے، ایسے ہی وہ بھی ملاوٹ شدہ اور غیر تصدیق شدہ معلومات اور اطلاعات فروخت کر سکتے ہیں ۔

پاکستان میں ہتک عزت کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہایت مشکل اور وکلاءکے مختلف حربے متاثرہ لوگوں کو ان کی کی بھاری بھاری فیسوں اور مقدمے کی طوالت کے خوف سے فاصلے پر ہی رکھتے ہیں ،اسی لئے عزت پر جھوٹ کی بنیاد پر آنے والے داغ دھلوانے والوں کی تعداد پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ میں الف ، بے اور جیم کی جس طرح ہتک عزت ہوتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے یہی کچھ ہو رہا ہے۔ جب آپ اپنی غلطی کو غلطی تصور نہیں کرتے تو کوئی نشان دہی کرتا ہے یا پھر کسی مرحلے پر آپ خود کسی کے سامنے جواب دہ ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ارسلان افتخار کے معاملے میں ہوا.... کتنا دانستہ تھا ، کتنا غیر دانستہ؟.... یہ فیصلہ تو اب اس ملک کی سب سے بڑی عدالت کے پیش نظر ہے۔

عام لوگ اس مقدمے سے بہت ساری توقعات وابستہ کر بیٹھے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مقدمے کا فیصلہ اس ملک میں کئی معاملات کو نیا موڑ دے گا اور ایک نئی سمت کا تعین کرے گا۔ ایک ایسا موڑ جو پاکستان کے لئے مثبت ہوگا۔ اگر بڑی عدالت یہ فیصلہ دے دیتی ہے کہ کس نے کیا کیا تو وہ یقینا پاکستان کی بے راہروی کو درست کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور ایک متعین راہ پر گامزن کرے گی اور یہی پاکستان کی آج سب سے بڑی اور اہم ترین ضرورت ہے۔ اصول اور ضابطے کیا ہیں اور کیا کہتے ہیں ؟ الگ بات ہے، لیکن پاکستان میں ایک طبقہ اپنی بظاہر آمدنی سے زیادہ پُر تعیش زندگی کس طرح گزارتا ہے؟ اسے طے ہونا چاہئے۔ ناجائز طور پر کمائی ہوئی اپنی دولت کی جس ننگے انداز میں نمائش کی جاتی ہے ،اسی پر تو پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔ کون کتنا بڑا دسترخوان سجاتا ہے، اس کی نمائش کیوں ضروری قرار پاتی ہے؟ کیوں غربت کا مذاق اڑایا جاتا ہے؟کیوں ضروری ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے طبقوں کو احساس دلایا جائے کہ دولت ہماری باندی ہے ؟ اس دولت سے ہم جسے چاہیں خرید سکتے ہیں ۔ ٭

Ÿž¢… “‹¦ Ÿ˜ž¢Ÿ„ œ¤ šŽ¢Š„

‡’ „¤Ž ¢Ž „Žœ“ œ¥ ’„§ ³£¥ „§¥ ˜‹ž¤¦ œ¢ „Ž‡ œŽ ¥í Š¢‚ ‹§Ž¥ ¦¤ Ž¦ £¥ó Š¢‚ œ†Ž ‹§¢Ž¥ Ž¦ ‡„¥ ¦¤¡ó „˜‚¤Ž  ”¤‚ ¢ž¢¡ œ¢ ¦¤ Ÿž œŽ„¤ ¦¥ó “Žš¤¦ œ¤ ‚§Ž¤ œ†Ž¤„ ’ƒŽ¤Ÿ œ¢Ž… œ¢   œ¤ ‚¥ Ž¦Ž¢¤ œ¤ Ž¦ Ÿ¤¡ ‚¤ Žœ¢… „”¢Ž œŽ„¤ ¦¥ ó ³£¤  ¢Ž ›¢ ¤  œ¢ ƒœ’„  œ¥ ‰œŸŽ  –‚›¥  ¥ ƒ ¤ Š¢¦“„ œ¤ Ž¦ Ÿ¤¡ ¦Ÿ¤“¦ Žœ¢… „”¢Ž œ¤ ¦¥ ó  ¦¢¡  ¥ ’¥ ¦Ÿ¤“¦ ƒ ¤  ž¤¢¡ ’¥ œˆž ‹¤ 󁠦¤¡ œ‚§¤ ‚§¤ ƒ ¥ ’ ˜Ÿž ƒŽ „’š  ¦¤¡ ¦¢ó  ¦¤¡ ’ ‚„ ’¥ ™Ž•  ¦¤¡ œ¦ ›¢ ¤  ¢Ž ³£¤  œ’¤ ‚„ œ¤ ‡„ œ¦¡ „œ ‹¤„¥ ¦¤¡ ¦¤¡ „¢ ’ ‚„ ’¥ ™Ž• Ž¦„¤ ¦¥ œ¦ ¢¦ ƒ ¤ Š¢¦“„ œ¢ œ¦¡ „œ ƒ¢Ž œŽ ’œ„¥ ¦¤¡î “Žš¤¦ œ¤ Š¢¦“„ œ¥ ‰„ŽŸ Ÿ¤¡ ƒœ’„  Ÿ•¤ Ÿ¤¡ ‚§Ž¤ ›¤Ÿ„ ‹ œŽ„ Ž¦ ¦¥í ‰„¤½ œ¦ ‹¢ žŠ„ ‚§¤ ¦¢ 힤œ  “Žš¤¦ ¢Ž ‰œŸŽ  –‚›¥  ¥ ’‚› ’¤œ§ í  ¦ ¦¤ ž¤ó

ƒœ’„  ˜‹ž¤¦ ƒŽ “‚ Š¢  ŸŽ ¥ œ¤ Š¢¦“ „¢ ‰œŸŽ ¢¡ œ¥ ‹ž Ÿ¤¡ ¦Ž ¢›„ Ÿˆž„¤ Ž¦„¤ ¦¥ó  ¦¤¡ šŽ¤ Œž¤ ˜‹ž¤¦ ˆ¦£¥ó  ¦¤¡ ¤’¤ ˜‹ž¤¦ ˆ¦£¥ ‡¢   œ¥ “Ž¢¡ ƒŽ ¦Ž œŸ œŽ ¥ ƒŽ Ž•Ÿ ‹ ¦¢ó ‚„ ¤¦ ³‡ œ¤  ¦¤¡ ¦¥ó ƒœ’„  Ÿ¤¡ ¦Ž ‚¥ ‚œí  ŒŽ ¢Ž ¤Ÿ  ‹Ž ‡‡ ”‰‚  œ¢ ’ ”¢Ž„ ‰ž œ ’Ÿ  Ž¦ ¦¥ó ‚§…¢ ŸŽ‰¢Ÿ œ¥ ‹¢Ž Ÿ¤¡ ’ § Ÿ¤¡ Ÿ„˜¤  Œ’…Žœ… ‡‡ ¦¢¡ ¤ ’‚› Ÿ™Ž‚¤ ƒœ’„  œ¥  Ÿ¢Ž ‡‡ ŸŽ‰¢Ÿ ‡’…’ ¤Ÿ ³Ž œ¤ ¤ ¦¢¡ ¤ œ¢£¤ ¢Žó œ‚§¤ ¤‹¦í œ‚§¤ œŸó

‰œŸŽ  ¦Ž ‹¢Ž Ÿ¤¡ ¤¦¤ ˆ¦„¥ Ž¦¥ ¦¤¡ œ¦ ˜‹ž¤¦   œ¤ „‚˜‹Ž ¦¢ ¢Ž   œ¤ ŸŽ•¤ ’¥ š¤”ž¥ œŽ¥ó “„¦ ƒ ˆ ’ž Ÿ¤¡ ˜‹ž¤¦  ¥ ‡¢ š¤”ž¥ ‚§¤ œ£¥ ¦¤¡í   ƒŽ’¢ˆ¥ ’Ÿ‡§¥ ‚™¤Ž ‡’ ‚Ž¤  ‹ Ÿ¤¡ „ ›¤‹ œ¤ £¤ ¢Ž ¤’¥ ž¢¢¡  ¥ ‚§¤ „ ›¤‹ œ ¤„ ¤ ‡ ¦¤¡ › ¢  œ¥ ›š ¢Ž  ¢  ’¥ ‚§¤ ¢›š¤„  ¦¤¡ ¦¥í ž¤œ  „ ›¤‹ ‡Ž¤ Ž¦¤ó ‡‚ ˜‹ž¤¦  ¥ ƒ ¥ œ  ‚ ‹ œŽ ž£¥ ¢Ž ƒ ¤ È œ§¢¡ œ¢ › ¢  ¢Ž ³£¤  œ¤ œ„‚¢¡ ƒŽ ‡Ÿ ‹¤ „¢ ‚§¤ ˜‹ž¤¦ „ ›¤‹ œ  “ ¦ ‚ „¤ Ž¦¤ó œ¤ œˆ§  ¦¤¡ ¦¢ó œ¤ œˆ§  ¦¤¡ œ¦ ¤ó ‡’ ¢œ¤ž œ¥ Ÿ ¦ Ÿ¤¡ ‡¢ ‚„ ³£¤ 큒  ¥ œŸŽ£¦ ˜‹ž„ Ÿ¤¡ ‚¢ž Œž¤ó œŸŽ£¦ ˜‹ž„ ’¥ ‚¦Ž ³œŽ¢œ¤ž ¢Ž Ÿ¢ œž  ¥ Ž£˜ ‚ž™ œ¥ ‚¥ ˆ¤   Ÿ£ ‹¢¡ œ¥ ’Ÿ ¥ ‚§¤ š„¢ œŽ ž¤ó ¢‡¦ ”š —¦Ž œ¦ ˜‹ž¤¦ œ¢ Ÿ˜„¢‚ œŽ  Ÿ›”¢‹ „§ó ˜‹ž¤¦ ƒ ¥ ³ƒ œ¢ ‚ˆ„¤ ¦¤ Ž¦¤ó

¢š›¤ ‰œ¢Ÿ„ ¢Ž ’ œ¥ ‰Ÿ¤ ’¤’„‹ ¢¡  ¥ „¢ ˜‹ž¤¦ œ¥ š¤”ž¢¡ œ¤ ‹§‡¤¡ ³ ¥ Ÿ¤¡ œ¢£¤ œ’Ž  ¦¤¡ ˆ§¢¤ó ¦Ž “Š” ƒ ¥ §Ž Ÿ¤¡ ‚¤…§ ƒ ¥ ƒ ¥ …¤ ¢¤ ƒŽ ŸŠ„žš ˆ¤ ž¢¡ ƒŽ Ž„ ³…§ ‚‡¥ ’¥ ¤Ž¦ ‚‡¥ „œ ¤¦¤ „Ÿ“¦ ‹¤œ§„ Ž¦ó ˆ¤ ž¢¡ ƒŽ ‚¥ ‚¥  Ÿ ¢ž¥ Ÿ¤‚  ¢Ž Ÿ¦Ÿ   ŽŸ¤ œ¤ œˆ§  ¦¤¡ ‚¢ž„¥ Ž¦¥ í Ž ¤¦ š„¢ Š¢‹   ž¢¢¡ œ¢ ‹¢‚Ž¦ ’ £¤ ‡£¥ „¢ ‚¦„ ’Ž¥ ž¢ “ŽŸ’Ž „¢ ¦¢¡ ¥í ž¤œ  …¤ ¢¤ œ ¤¦ œŸž ¦¥ â “£‹ …¤ ¢¤ ƒŽ š„¢ œŽ ¥ ¢ž¥ ’Ÿ‡§„¥ ¦¤¡ ᜦ Ÿ ¦ ’¥  œž¥ ¦¢£¥ žš— ¦¢ Ÿ¤¡ „‰ž¤ž ¦¢ ‡„¥ ¦¤¡ ó …¤ ¢¤ œ¥ ¤ œŽ ¦¢¡ ¤ ¤ œŽ¤ í ‡’¥ ˆ¦ ‚ž ž¤ ¢Ž ‹œ  œ§¢ž ž¤à ‹œ  œ§¢ž ž¤ œ¥ žš— Ÿ¤¡  ¥ ‰„¤– œ¥ –¢Ž ƒŽ žœ§¥ ¦¤¡ ó ‡’ ¢›„ ¤¦ Ÿ¤‚  ¢Ž Ÿ¦Ÿ  š„¢ œŽ Ž¦¥ ¦¢„¥ ¦¤¡ 혤  ’¤ ¢›„ ‚£¤ ‡¤ œ œ¢…§ ‚§¤ ³‚‹ ¦¢ ‡„ ¦¥ó Ÿ¤œ ƒí § Ž¢í „§Žœ í Ž›”í ‚¦¢¡ Ÿ¤¡ ‡§¢ž í „Ÿ“ ‚¤ ¢¡ œ¥ ‹ŽŸ¤¡ Ÿ˜Ÿ¢ž¤ Ÿ˜Ÿ¢ž¤ ‚„ ƒŽ ‡§¥í ‡§¢¡ œ ’ ‰‹ „œ ‚§ ‡  퇒 Ÿ¤¡ œ‚§¤ œ‚§¤ ›„ž ‚§¤ ¦¢ ‡„¥ ¦¤¡í ¢™¤Ž¦ ¢™¤Ž¦ó œ¢£¤ ›£ž œŽ¥ œ¦ œˆ§ ’„† ¤„ œ¥ ’„§ ˆ¤ ž¢¡ œ¥ Ÿ¤‚  ¢Ž Ÿ¦Ÿ  œ¤ ¤¦¤ ’‚ œˆ§  ¦¤¡ œŽ Ž¦¥ ¦¢„¥ ¦¤¡î “¤“¥ œ¥ §Ž¢¡ Ÿ¤¡ ‚¤…§ ¥ ¢ž¢¡ œ¥  Ÿ¢¡ œ¥ ˆœŽ Ÿ¤¡ ƒ   ¦¤¡ ˆ¦£¥í ¢Ž ¦ ‚„ ‹¢Ž „œ ‡£¥ ¤ó

‡’ Ÿžœ Ÿ¤¡ ž¢¢¡ œ¥ ƒ’ „šŽ¤‰ œ¥ ž£¥ ’¢£¥ œ§  §Ž œ¥ ‚¦Ž œ§ ¥ ¢Ž §Ž Ÿ¤¡ ‚¤…§ œŽ …¤ ¢¤ ‹¤œ§ ¥ œ¥ ˜ž¢¦ œˆ§ ¢Ž  ¦ ¦¢í ¢¦¡ ƒŽ¢ŽŸ œ¥ Ÿ¤‚  ƒŽ ‚§Ž¤ Ÿ¦ ‹Ž¤ ˜£‹ ¦¢ ‡„¤ ¦¥ œ¦ ¢¦ ƒ ¥  —Ž¤  œ¥ ’„§    ”š¤ œ¥ ŸŽ„œ‚  ¦ ¦¢¡ ¢Ž   œ¥ ˜„Ÿ‹ œ¢ …§¤’  ¦ ƒ¦ ˆ£¤¡ó ˜„Ÿ‹ Ÿ‡Ž¢‰ œŽ  „¢ ’ ›„ž ’¥ ¤‹¦ ‚§¤ œ ¦¥ ‡¢ ›„ž ‚£¤ ‡¤ œ¥ œ¢…§¥ ƒŽ ¦¢ ‡„ ¦¥ó ‡’ ³‹Ÿ¤ œ ˜„Ÿ‹ Ÿ‡Ž¢‰ ¦¢ ‡£¥ í¢¦ “Š” –¢¤ž ˜Ž”¥ „œ ‚§…œ ‡„ ¦¥ó  —Ž¤  ¦¢¡ ¤ ›Ž£¤ í ¤ ’Ÿ˜¤ í  ¦¤¡ ‚§…œ  „¢ ‡ŽŸ ›ŽŽ ƒ„ ¦¥ó

Š‚Ž¤ Ÿžœ  œ¤  ‡Ÿ  ¦¢ ¤ Ÿ‹¤Ž  œ¤ „ —¤Ÿí …¤ ¢¤ Ÿžœ  ¦¢¡ ¤ Ž¤Œ¤¢ Ÿžœ í œ¦¤¡ „¢ œ’¤  ¦ œ’¤ •‚–¥ œ¤ ƒ‚ ‹¤ žŸ¤ ¦¢  ˆ¦£¥ó Š‚Ží ’ œ¤ ‡£¤„í ’ œ¤ ‰›¤›„í ’ˆ£¤ œ¤ ƒ‚ ‹¤ „¢ žŸ¤ œŽ  ¦¢¤ó›Ž£¤  ¦¢¡ ¤ ’Ÿ˜¤  ¤  —Ž¤ í   œ ‰› ¦¥ œ¦  ¦¤¡ ‹Ž’„ ¢Ž œ’¤ Ÿž¢… œ¥ ‚™¤Ž Ÿ˜ž¢Ÿ„ ƒ¦ ˆ£¤ ‡£¤¡í ž¤œ  ’ Ÿžœ Ÿ¤¡ Ž£˜ ‚ž™ œ ¤œ ‰ž›¦ ¤¦ „”¢Ž œŽ ¥ ž ¦¥ í ‡¤’¥ œ’¤ Ÿ¤Œ¤œž ’…¢Ž ƒŽ Ÿž¢… “‹¦ ‹¢ šŽ¢Š„ œŽ ‹¤ ‡„¤ ¦¥í ¤’¥ ¦¤ ¢¦ ‚§¤ Ÿž¢… “‹¦ ¢Ž ™¤Ž „”‹¤› “‹¦ Ÿ˜ž¢Ÿ„ ¢Ž –ž˜„ šŽ¢Š„ œŽ ’œ„¥ ¦¤¡ ó

ƒœ’„  Ÿ¤¡ ¦„œ ˜„ œ¥ ›¢ ¤  Ÿ¢‡¢‹ ¦¤¡í ž¤œ    ƒŽ ˜Ÿž ‹Ž³Ÿ‹  ¦¤„ Ÿ“œž ¢Ž ¢œž£ œ¥ ŸŠ„žš ‰Ž‚¥ Ÿ„†Ž¦ ž¢¢¡ œ¢   œ¤ œ¤ ‚§Ž¤ ‚§Ž¤ š¤’¢¡ ¢Ž Ÿ›‹Ÿ¥ œ¤ –¢ž„ œ¥ Š¢š ’¥ š”ž¥ ƒŽ ¦¤ Žœ§„¥ ¦¤¡ 큒¤ ž£¥ ˜„ ƒŽ ‡§¢… œ¤ ‚ ¤‹ ƒŽ ³ ¥ ¢ž¥ ‹™ ‹§ž¢ ¥ ¢ž¢¡ œ¤ „˜‹‹ ƒœ’„  Ÿ¤¡  ¦ ¦¢ ¥ œ¥ ‚Ž‚Ž ¦¥ó ƒœ’„  Ÿ¤¡ Ž£˜ ‚ž™ Ÿ¤¡ žš í ‚¥ ¢Ž ‡¤Ÿ œ¤ ‡’ –Ž‰ ¦„œ ˜„ ¦¢„¤ ¦¥ ¢¦ ƒ ¤ Ÿ†ž ³ƒ ¦¥ó ƒœ’„  Ÿ¤¡ “„¦ œ£¤ ‚Ž’¢¡ ’¥ ¤¦¤ œˆ§ ¦¢ Ž¦ ¦¥ó ‡‚ ³ƒ ƒ ¤ ™ž–¤ œ¢ ™ž–¤ „”¢Ž  ¦¤¡ œŽ„¥ „¢ œ¢£¤  “  ‹¦¤ œŽ„ ¦¥ ¤ ƒ§Ž œ’¤ ŸŽ‰ž¥ ƒŽ ³ƒ Š¢‹ œ’¤ œ¥ ’Ÿ ¥ ‡¢‚ ‹¦ ¦¢ ‡„¥ ¦¤¡ó ¤’ ¦¤ œˆ§ Ž’ž  š„ŠŽ œ¥ Ÿ˜Ÿž¥ Ÿ¤¡ ¦¢à œ„  ‹ ’„¦ „§ í œ„  ™¤Ž ‹ ’„¦îà ¤¦ š¤”ž¦ „¢ ‚ ’ Ÿžœ œ¤ ’‚ ’¥ ‚¤ ˜‹ž„ œ¥ ƒ¤“  —Ž ¦¥ó

˜Ÿ ž¢ ’ Ÿ›‹Ÿ¥ ’¥ ‚¦„ ’Ž¤ „¢›˜„ ¢‚’„¦ œŽ ‚¤…§¥ ¦¤¡ ó ¢¦ ’Ÿ‡§„¥ ¦¤¡ œ¦ ’ Ÿ›‹Ÿ¥ œ š¤”ž¦ ’ Ÿžœ Ÿ¤¡ œ£¤ Ÿ˜Ÿž„ œ¢  ¤ Ÿ¢ ‹¥  ¢Ž ¤œ  £¤ ’Ÿ„ œ „˜¤  œŽ¥ ó ¤œ ¤’ Ÿ¢ ‡¢ ƒœ’„  œ¥ ž£¥ Ÿ†‚„ ¦¢ó Ž ‚¤ ˜‹ž„ ¤¦ š¤”ž¦ ‹¥ ‹¤„¤ ¦¥ œ¦ œ’  ¥ œ¤ œ¤ „¢ ¢¦ ¤›¤  ƒœ’„  œ¤ ‚¥ Ž¦Ž¢¤ œ¢ ‹Ž’„ œŽ ¥ œ Ÿ¢›˜ šŽ¦Ÿ œŽ¥ ¤ ¢Ž ¤œ Ÿ„˜¤  Ž¦ ƒŽ Ÿ  œŽ¥ ¤ ¢Ž ¤¦¤ ƒœ’„  œ¤ ³‡ ’‚ ’¥ ‚¤ ¢Ž ¦Ÿ „Ž¤  •Ž¢Ž„ ¦¥ó ”¢ž ¢Ž •‚–¥ œ¤ ¦¤¡ ¢Ž œ¤ œ¦„¥ ¦¤¡ î ž ‚„ ¦¥í ž¤œ  ƒœ’„  Ÿ¤¡ ¤œ –‚›¦ ƒ ¤ ‚—¦Ž ³Ÿ‹ ¤ ’¥ ¤‹¦ ƒ¬Ž „˜¤“  ‹¤ œ’ –Ž‰ Ž„ ¦¥î ’¥ –¥ ¦¢  ˆ¦£¥ó  ‡£ –¢Ž ƒŽ œŸ£¤ ¦¢£¤ ƒ ¤ ‹¢ž„ œ¤ ‡’   ¥  ‹ Ÿ¤¡  Ÿ£“ œ¤ ‡„¤ ¦¥ 큒¤ ƒŽ „¢ ƒ‚ ‹¤ ž ¥ œ¤ •Ž¢Ž„ ¦¥ó œ¢  œ„  ‚ ‹’„ŽŠ¢  ’‡„ ¦¥í ’ œ¤  Ÿ£“ œ¤¢¡ •Ž¢Ž¤ ›ŽŽ ƒ„¤ ¦¥î œ¤¢¡ ™Ž‚„ œ Ÿ› ¤ ‡„ ¦¥îœ¤¢¡ •Ž¢Ž¤ ¦¥ œ¦ ™Ž¤‚ ¢Ž œŸ ³Ÿ‹ ¤ ¢ž¥ –‚›¢¡ œ¢ ‰’’ ‹ž¤ ‡£¥ œ¦ ‹¢ž„ ¦ŸŽ¤ ‚ ‹¤ ¦¥ î ’ ‹¢ž„ ’¥ ¦Ÿ ‡’¥ ˆ¦¤¡ ŠŽ¤‹ ’œ„¥ ¦¤¡ ó è

مزید : کالم