یہ ”مائنڈ سیٹ“ ....پردہ تو اُٹھاﺅ!

یہ ”مائنڈ سیٹ“ ....پردہ تو اُٹھاﺅ!

 

سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے میمو گیٹ سکینڈل کی سماعت دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر کے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی فاضل بنچ نے میمو گیٹ کمیشن رپورٹ کی اشاعت کی اجازت دے دی ہے۔ اس رپورٹ میں حسین حقانی کو نہ صرف ذمہ دار قرار دیا، بلکہ یہ ریمارکس بھی دیئے گئے ہیں کہ حسین حقانی ریاست کے وفادار نہیں تھے اور میمو لکھنا ثابت ہو گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ میمو حسین حقانی نے لکھوائی۔ حسین حقانی نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ فیصلہ قرار دے کر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ امکان کم ہے کہ وہ سماعت کے لئے خود پاکستان آئیں گے وہ اس سے پہلے کمیشن کے بلانے پر نہیںآئے تھے۔ کمیشن کی تفصیلی رپورٹ شائع ہونے کے بعد ہی مزید تفصیلات کا علم ہو گا تاہم مسلم لیگ(ن) کے خواجہ آصف نے اسے میاں محمد نوازشریف کی فتح قرار دے دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف حسین حقانی کے خلاف غداری کے الزام میں کارروائی کی جائے، بلکہ اُن کے سرپرستوں کو بھی کٹہرے میںلایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس سے اُن کی مراد پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت ہے۔ کمیشن کی طرف سے جو رپورٹ پیش کی گئی وفاقی دارالحکومت کے ذرائع نے اسے غیر متوقع قرار نہیں دیاکیونکہ کمیشن کے آخری ایام کی کارروائی کے دوران ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ حالات کس رُخ پر جا رہے ہیں۔ اس موقع پر جب اسلام آباد نئی افواہوں اور سکینڈلوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ میمو گیٹ کمیشن کی رپورٹ کو حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ میمو کا بھوت پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کمیشن رپورٹ پر سخت انداز میں تنقید کی ہے۔

وفاقی دارالحکومت ان دنوں پھر سے زبردست قسم کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے اور ایک بار پھر نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف ہیں جہاں متعدد اہم ترین معاملات کی سماعت یکے بعد دیگرے شروع ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان اور بحریہ ٹاﺅن کے چیف ملک ریاض حسین کا معاملہ بھی اونچی اُڑان میں ہے۔ تمام تر اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ملک ریاض حسین بروقت اسلام آباد پہنچ گئے اور انہوں نے عدالت میں تو بہت محتاط رویہ اختیار کیا، لیکن پریس کانفرنس میں ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ معاملہ حساس اور عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اِس لئے اس پر مزید رائے زنی اچھی بات نہیں۔ واقعات جوں جوں آگے بڑھیں گے نئی نئی پرتیں کھلتی چلی جائیں گی۔ اسلام آباد میں موسم گرم ہوا تو سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر ارسلان کے ساتھ ساتھ میمو گیٹ کی سماعت یکایک شروع ہونے سے نئی سازشی تھیوریوں کا بھی ذکر ہونے لگا ہے اور اب واضح طور پر ایوان کی طرف انگلی اُٹھائی جا رہی ہے، بلکہ یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ اسلام آباد کے ایوان اقتدار کی تاریخ پھر سے دہرانے کا وقت آ گیا ہے اور ملک کی بڑی شخصیت کو پھر سے مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاریخیں دینے والے بھی سرگرم ہو گئے اور اب جولائی کے آخری ہفتے کو اہم ترین قرار دے رہے ہیں، لیکن کیا ہو گا یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں اور یہ کہہ کر تجسس میں اضافہ کر دیتے ہیں کہ جو بھی ہو گا وہ کسی کے ذہن میں نہیں، کچھ انوکھا ہی ہو گا ہمیں بظاہر کوئی بڑا حادثہ نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ امکان ضرور ہے کہ عام انتخابات کا انعقاد ذرا جلد ہو جائے اور نگران حکومت کے آنے سے حالات عمومی رُخ اختیار کر لیں۔ بہرحال ایک بار پھر گہرے سیاہ بادل منڈلانے لگے ہیں۔

ذرا توجہ دی جائے تو ملک ریاض حسین اور ڈاکٹر ارسلان کا معاملہ کافی سنجیدہ صورت اختیار کر گیا ہے۔ حتیٰ کہ پھر سے تحریکوں کی بات ہونے لگی ہے۔ اس سکینڈل کے حوالے سے ان دنوں نامور اور بڑے بڑے اینکر حضرات اور بعض صحافیوں کے نام بھی گردش کرنے لگے ہیں۔ دورِ جدید کے مواصلاتی ذرائع نے جو انقلاب برپا کیا ہے یہ اس کی بدولت ہے کہ اب تو ناموں کے ساتھ ساتھ رقوم اور بنکوں کے نام بھی پیغامات کا حصہ بن گئے ہیں، جن حضرات کے نام آئے ہیں ان میں دو تین حضرات کی طرف سے تو تردید ہم نے بھی سنی ہے اور یہ بھی دو روز پہلے کی گئی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تردید کا ایک حصہ یہ تھا ” مَیں تو کبھی ملک ریاض سے ملا بھی نہیں“۔

بہرحال اس وقت جب پاک امریکہ تعلقات نچلی خراب سطح تک آ گئے ہیں۔ پاک بھارت مذاکرات میں پیش رفت نہیںہو رہی۔ حال ہی میں دفاع کے سیکرٹریوں کے مذاکرات نشتند گفتند، برخاستند والے ہوئے اور یہ کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ بات چیت جاری رہے گی۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ یا یوں کہئے خونریزی جاری ہے۔ متحدہ کے لوگ مرے تو انہوں نے احتجاج کیا اس سے پہلے الطاف بھائی یہ کہ چکے” پیپلزپارٹی والو ہمیں زیادہ زچ نہ کرو،ہم علیحدہ ہو گئے تو حکومت گر جائے گی“۔ بلوچستان کا مسئلہ حقائق سے ہٹ کر جذبات تک آ گیا ہے۔ گم شدہ افراد کے حوالے سے عام آدمی کا ذکر ہوتا ہے اور مطالبات اور دھمکیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ یہ بڑے سرداروں کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ آباد کاروں کے قتل اور اُن کی بے دخلیوں کا معاملہ بھی” مسنگ پرسنز“ کے کیس میں دفن ہو گیا ہے۔ معاشی حالت خراب سے خراب تر ہے، روپے کی قدر مسلسل کم ہوتی چلی جا رہی ہے، بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کو خود کشیوں پر مجبور کر دیا ہے، امن و امان کی حالت خراب ہے۔ لاہور سے سیر کو جانے والی پانچ لڑکیاں محافظوں کی بربریت کا نشانہ بنتی ہیں اور ملزموں کو بچانے کے لئے قانون کے کان مروڑے جا رہے ہیں۔ راہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں دوگنا اضافہ ہو چکا، اغوا برائے تاوان کا سلسلہ شروع ہے۔ یہ سب ہو رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آتے ہیں اور اپنی بے بسی کا غصہ عام شہری کو نوچ کھسوٹ کر اُتارتے ہیں۔

ان حالات میں ایک پراپرٹی ٹائیکون اور ایک نوجوان کے تنازعہ کو عدلیہ، حکومت کی جنگ بنایا جا رہا ہے اور بڑے بڑے افسانے تراشے جا رہے ہیں حتیٰ کہ معزز ترین ادارہ ٹریڈ یونین کا انداز اختیار کر رہا ہے۔ وکلاءحضرات انصاف یا فیصلے کا انتظار کئے بغیر سڑکوں پر نعرہ زن ہو گئے ہیں۔ یہ سب پاکستان جیسے ملک میں ہو رہا ہے اور اب پھر سے خطرہ خطرہ کہا جا رہا ہے۔

ان حالات میں ہم اسلام آباد میں تشریف فرما اپنے ایک لاہور والے جوان بوڑھے صحافی بھائی نصرت جاوید کو یاد کر رہے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ ان کو بہت کچھ معلوم ہے جسے بتانے میں نہ معلوم کون سا امر مانع ہے۔ وہ تو اسے اپنی بزدلی اور روٹی روزگار سے جوڑتے ہیں، لیکن ہمارا خیال مختلف ہے وہ یہ کہ وہ بامروت ہیں اور ان کو داتا کی نگری کی مٹی لگی ہوئی ہے، لیکن آج کے اس دور میں جب مخصوص مائنڈ سیٹ کے لوگ اکثریت میں ہی نہیں ذرائع ابلاغ پر قابض بھی ہیں وہ دوسروں کو مطعون کرتے اور ان کو خاص مائنڈ سیٹ والے قرار دیتے ہیں، حالانکہ گزشتہ چار سال سے وہ مسلسل اپنی تحریروں اور اپنے کلام کے ذریعے اپنے مائنڈ سیٹ کا اظہار ہی نہیں کرتے۔ اس پر قائم بھی ہیں اور اکثر ان کی اپنی تحریروں میں تضاد مل جاتا ہے جیسا کہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر ارسلان کے معاملے میں ہوا کہ ان صاحب کردار صحافی نے ارسلان کا انٹرویو ایک سے زیادہ بار شائع کیا جس میں یہ اقرار موجود تھا کہ انہوں(ڈاکٹر) نے رقوم استعمال کیں، لیکن پھر واپس کر دیں۔ اب ڈاکٹر ارسلان سیرپم کورٹ والے بیان میں سرے سے انکاری ہیں۔ ہماری برادر محترم نصرت جاوید سے اپیل ہے کہ وہ ذرا ماضی میں جھانکیں جب میلوڈی کے قریب ایک ریسٹورنٹ یا دفتر نما کمرے میں مرحومین اظہر سہیل، ہمایوں فر، احمد حسن علوی اور شاہین صہبائی، نصرت جاوید کے علاوہ ایک دو دوسرے دوست محفل جماتے اور کبھی کبھار کوئی اور بھولا صحانی بھی آ جاتا تھا تو کیا گفتگو ہوتی تھی اور اس ٹیم کے کون کون سے کھلاڑی اب گراﺅنڈ میں کھیل رہے اور پنلٹی سٹروک لگا رہے ہیں۔ نصرت جاوید، آپ بہتر طور پر پردہ اُٹھا سکتے ہو کہ یہ حالیہ سکینڈل کب اور کیسے شروع ہوا اور شہد والی انگلی کس نے اور کیوں لگائی؟ برادرم آپ خود اپنے کالم میں اعتراف کر چکے ہوئے ہیں کہ آپ کے علم میں آیا لیکن تیقن والے ثبوت نہیں تھے۔ آپ کی طرف سے اس راز سے پردہ اُٹھانا ملک و قوم کے حق میں بہتر ہو گا۔٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...