ملک ریاض کا ”دھماکہ“؟

ملک ریاض کا ”دھماکہ“؟

 ارسلان افتخار کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے چند گھنٹوں بعد بحریہ ٹاﺅن کے سربراہ ملک ریاض حسین نے ہاتھ میں قرآن پاک اُٹھا کر اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں وہ دھماکہ کر دیا جس کا تذکرہ اُن کے وکیل چند روز سے متواتر کررہے تھے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو مخاطب کر کے تین سوالات پوچھے۔ پہلا یہ کہ انہوں نے رات کے اندھیرے میں مجھ سے کتنی ملاقاتیں کیں؟ دوسرا یہ کہ کیا انہیں اِس کیس کے بارے میں پہلے سے معلوم نہیں تھا؟ اُن کے مطابق ایک مشترکہ دوست نے چیف جسٹس کو اُن کے بیٹے کی اِن سرگرمیوں کے بارے میں بتایا تھا، لیکن چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ملک ریاض بلیک میلر ہے۔ ملک ریاض نے دعویٰ کیا کہ اُن کی چیف جسٹس سے ہونے والی ملاقاتوں میں سے چند میں ارسلان افتخار اور موجودہ رجسٹرار سپریم کورٹ بھی موجود تھے۔تیسرا سوال تھا کہ کیا چیف جسٹس احمد خلیل جو ان ( ملک ریاض) کا پارٹنر بھی ہے کے گھر پر وزیراعظم سے اپنی ملاقاتوں کے بارے میں عوام کو بتا سکتے ہیں؟ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور سول ججز کو ان کے خلاف فیصلے دینے کا کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ایف آئی اے کے ایک افسر کو انہیں قتل کے مقدمے میں ملوث کرنے کا کہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا یہ عدلیہ ایک ”ڈان“ چلا رہا ہے تاہم پھر انہوں نے ”وضاحت“ پیش کی” مَیں یہ نہیں کہہ رہا چیف جسٹس ڈان ہیں بلکہ ارسلان افتخار ڈان ہے۔ چیف جسٹس کا مَیں اب بھی بے حد احترام کرتا ہوں“۔ اُن کا کہنا تھا مَیں جو کہہ رہا ہوں اس کے نتائج کا مجھے علم ہے، مَیں توہین عدالت کے مقدمے کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوں اور جیل جانے کے لئے بھی۔ ملک ریاض کے اِن ”دھماکوں“ کے بعد رجسٹرار سپریم کورٹ نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ملک ریاض کے سوالات کے جواب دیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جن ملاقاتوں کا تذکرہ ملک ریاض نے کیا ہے وہ چیف جسٹس کی معزولی کے دوران ہوئیں۔ اُن کے مطابق بحریہ ٹاﺅن کے سربراہ اس دوران دو سے تین بار چیف جسٹس کے گھر آئے۔ ان ملاقاتوں میں رجسٹرار بھی موجود تھے اور ملک ریاض چیف جسٹس کو صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے کے لئے قائل کرتے رہے تاہم انہوں نے یہ تجویز رد کر دی اور ملک ریاض سے بلٹ پروف گاڑی لینے سے بھی معذرت کر لی۔ رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کے مطابق وزیراعظم اور چیف جسٹس کا پرانا تعلق ہے ممکن ہے کسی سماجی تقریب کے دوران دونوں کی ملاقات ہوئی ہو۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس وزیراعظم سے بحالی کے بعد ایک بار مسجد میں ملے تھے۔ اس کے بعد اعتزاز احسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض نے کچھ عرصہ قبل انہیں ارسلان افتخار کے بارے میں بتایا تھا جس کا اجمالاً تذکرہ انہوں نے ایک ملاقات کے دوران چیف جسٹس سے بھی کیا۔ اِس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ وہ اِس بارے میں ارسلان سے دریافت کریں گے۔ تاہم انہیں کوئی دستاویز نہیں دکھائیں۔

پریس کانفرنس سے قبل ملک ریاض ارسلان افتخار پر الزامات کے حوالے سے زیر سماعت مقدمے میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے جمع کرائے جانے والے بیان میں دعویٰ کیا کہ مختلف غیر ملکی دوروں اور نقدی کی صورت میں ارسلان افتخار نے زیر التوا مقدمات کے فیصلے اُن کے حق میں کرانے کا جھانسہ دے کر ان سے34کروڑ25لاکھ روپے بٹور لئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس قدر رقم کی ادائیگی کے باوجود انہیں عدالت سے ریلیف نہیں ملا۔ ساتھ ہی انہوں نے اِس معاملے میں سو موٹو نوٹس لئے جانے پر بھی اعتراض کیا کہ اِس کیس میں بنیادی حقوق کے نفاذ کا کوئی سوال نہیں۔ مزید یہ کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں، لہٰذا تفتیش کو کسی ایسے ادارے کے حوالے کیا جائے جس کے دائرہ کار میں یہ کیس آتا ہو۔

گزشتہ چند ہفتوں سے میڈیا کے مختلف حلقوں میں حکومت کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس کی تیاری کے بارے میں چہ مگوئیاں جاری تھیں۔ ان افواہوں کو تقویت اس وقت ملی جب ملک ریاض حسین نے چند صحافیوں کو بُلا کر چیف جسٹس کے صاحبزادے ارسلان افتخار کے خلاف دستاویزات دکھائیں۔ امریکہ میں مقیم ایک صحافی نے آن لائن ٹی وی کو انٹرویو میں اس کا تذکرہ بھی کر دیا۔ ریفرنس تو نہیںبھیجا گیا، لیکن یہ افواہیںاخبارات اور ٹی وی چینلز کی زینت بنیں تو افتخار محمد چودھری نے سو موٹو نوٹس لے لیا۔ اٹارنی جنرل نے اُن کے بنچ پر بیٹھنے پر اعتراض کیا تو وہ قانون کا احترام کرتے ہو ئے اس سے علیحدہ ہو گئے، تاہم کیس کی سماعت جاری رہی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حلفاً کہا کہ اُنہیں اپنے بیٹے کے کاروبار کا علم نہیں تاہم اگر اُس نے کوئی غلط کام کیا تو اُسے سزا ملے گی۔ ملک ریاض کو بھی عدالت میں پیشی کا حکم دیا گیا، لیکن وہ اس وقت ملک میں موجود نہ تھے۔ اُن کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ واپس آئیں گے اور ایسا دھماکہ کریں گے کہ کیس کا رُخ تبدیل ہو جائے گا۔ بہرحال ملک ریاض تشریف لائے اور ارسلان افتخار کے خلاف مواد عدالت میں جمع کرا دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ارسلان افتخار نے اُن سے34کروڑ سے زائد ر قم بٹوری تاہم اب تک انہوں نے صرف 1کروڑ55لاکھ روپے کی ادائیگی کے ثبوت جمع کرائے ہیں۔ ارسلان افتخار کا کہنا ہے کہ ان کے بیرون ِ ملک دوروں پر50لاکھ خرچ ہوئے جو انہوں نے اپنے دوست احمد خلیل سے لئے تھے اور وطن واپسی پر اُن کے کزن کے اکاﺅنٹ میں منتقل کر دیئے اِس کی رسید انہوں نے عدالت میں جمع کرا دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ ملک ریاض کو جانتے ہیں نہ ہی اُن کے داماد سلمان احمد کو۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، تو ملک ریاض کو پریس کانفرنس منعقد کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ جو الزامات انہوں نے پریس کانفرنس میں لگائے ہیں، عدالت میں جمع کرائے جانے والے اپنے بیان میں کیوں شامل نہیں کئے؟ اُن کا کہنا ہے کہ ارسلان افتخار انہیں بلیک میل کرتا رہا ہے اور اب اُن کا پیمانہ لبریز ہو چکا، لیکن صبر کے اس پیمانے کو لبریز ہونے میں تین سال کا طویل عرصہ کیوں لگ گیا؟

اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے ملک ریاض نے ارسلان افتخار سے شروع ہونے والے الزامات کی لپیٹ میں نہ صرف چیف جسٹس بلکہ پوری عدلیہ کو لے لیا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ ارسلان افتخار ایک ڈان کی طرح عدلیہ چلا رہا ہے۔ یہ الزام صرف ارسلان افتخار نہیں، بلکہ پوری سپریم کورٹ پر لگایا گیا ہے۔ پھر ملک ریاض صاحب فرماتے ہیں کہ چیف جسٹس انہیں قتل کے مقدمے میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ یہ دُنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ ایک شخص (جس کا مقدمہ عدالت میںزیر سماعت ہے) نے پوری عدلیہ کو اپنے نشانے پر رکھ لیا اور مقدمہ عدالت کے کٹہرے کی بجائے ٹی وی سیکرینوں پر لڑا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ ملک ریاض نے قرآن ہاتھ میں تو پکڑا، لیکن اپنی گفتگو میں ابہام چھوڑ دیا۔ اول تو اِس قسم کے معاملات میں قرآن پاک کا سہارا لینا ہی نہیں چاہئے، لیکن اگر قرآن اُٹھا ہی لیا ہے تو کیا لازم نہیں دو ٹوک گفتگو کی جائے؟ تنازعات میں جب قرآن اُٹھایا جاتا ہے، تو اس کا مقصد بات واضح کرنا ہوتا ہے یا لوگوں کے دلوں میں شک پیدا کرنا؟ ملک ریاض کو چاہئے تھا کہ وہ صاف الفاظ میں گفتگو کرتے اور بتاتے کہ اُن کی چیف جسٹس سے ملاقاتیں کب ہوئیں اور کس مقصد کے لئے ہوئیں؟

 دوسری جانب اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ انہوں نے چیف جسٹس سے اِس بات کا تذکرہ ضرور کیا تھا، لیکن کوئی دستاویز اُن کے پاس تھیں، نہ انہوں نے دکھائیں۔ اِس سے اگر ارسلان افتخار کا جرم ثابت ہو جائے تو یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ چیف جسٹس اپنے بیٹے کی سرگرمیوں کے بارے میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے، لیکن اُن کے اپنے کردار پر یا دیگر ججز کے بارے میں سوالات نہیں اُٹھائے جا سکتے۔ اُن کے کسی فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن نیت یا کردار پر نہیں۔ جج میڈیا پر آ کر پریس کانفرنس نہیں کر سکتے۔ اُن کا میڈیا ٹرائل کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ملک ریاض کی پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ نے سو موٹو لیتے ہوئے انہیں شو کاز جاری کر دیا ہے۔ بہر صورت انہیں اپنے الزامات کو ثابت کرنا ہو گا ورنہ اُن کی جیل جانے کی خواہش جلد پوری ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کو چا ہئے کہ اِس کیس کو جلد سے جلد نمٹا دے۔ عدلیہ اِس ملک کے عوام کی امیدوں کا محور ہے۔ یہ امید کسی صورت ٹوٹنی نہیں چاہئے۔ ملک ریاض صاحب کا اصرار ہے کہ یہ کیس تفتیشی ادارے کے سپرد کیا جائے، لیکن اس سے قبل اہم مقدمات میں تفتیشی اداروں کا جو کردار رہا ہے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔ اِس معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جانا چاہئے اور اسے پابند کیا جانا چاہئے کہ دو ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے۔ اِس کیس میں جس پر بھی جرم ثابت ہو جائے وہ ملک ریاض ہو یا ارسلان افتخار، اسے سخت ترین سزا ملنی چاہئے۔ ٭

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...