سپیکر رولنگ کیس:اٹارنی جنرل کا بنچ پر عدم اعتماد، ’غیر مہذب اشارے ‘ اور چیف جسٹس سے بنچ سے علیحدگی کا مطالبہ

سپیکر رولنگ کیس:اٹارنی جنرل کا بنچ پر عدم اعتماد، ’غیر مہذب اشارے ‘ اور چیف ...
سپیکر رولنگ کیس:اٹارنی جنرل کا بنچ پر عدم اعتماد، ’غیر مہذب اشارے ‘ اور چیف جسٹس سے بنچ سے علیحدگی کا مطالبہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) و زیراعظم کی توہین عدالت پر دی جانے والی سپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر کی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی جس پر عدالت میں موجود وکلاءنے اٹارنی جنرل کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور عدالت میں حالات بے قابو ہونے پر سماعت کچھ دیر کےلئے ملتوی کر دی گئی جب سماعت کا دوبارہ باقاعدہ آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل آرام سے بیٹھے رہے۔مقامی میڈیا کے مطابق اٹارنی جنرل نے عدالت کے ساتھ جب غیر مہذب رویہ اختیار کیاتو ججز نے اُنہیں کہا کہ وہ بدتمیزی نہ کریںجس پر اٹارنی جنرل باز نہ آئے اور انہوں نے نازیبا اشارہ کر دیا جس پر وکلاءنے احتجاج شروع کردیا ۔ نوجوان وکلاءنے اٹارنی جنرل کے خلاف نعرہ بازی کا سلسلہ شروع کردیاجس پر عدالت میں حالات قابو میں نہ رہے اور ججزنے عدالت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی اور کمرہ عدالت چھوڑ کرچلے گئے ۔ اٹارنی جنرل نے ججز کے جانے پر یہ بھی کہا کہ ججز عدالت چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔پولیس کی سپیشل نفری اور سینئر وکلاءکی مداخلت پر حالات معمول پر آگئے اور کیس کی دوبارہ سماعت شروع کر دی گئی۔سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل حامد خان دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی سزا وزیراعظم پر حتمی ہوچکی ہے۔عدالت میں کارروائی کے ملتوی کیے جانے سے پہلے سپیکر رولنگ کیس میں اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کی سربراہی میںکیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بنچ پر عدم اعتما د کااظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سے سوال کیا تھا کہ کیا عدالت کیس کوایک ہی روز میں ختم کرنا چاہتی ہے اورکیا کیس آئین کی روح سے نہیں چلایا جاسکتا؟ اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے چیف جسٹس سے مزید کہا کہ وہ اِس کیس میںمیرٹ پر نہیں لگ رہے جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کومخاطب کرکے کہا کہ وہ کس اتھارٹی کے تحت عدالت کو یہ کیس نہ سننے کا کہہ رہے ہیں ۔ جسٹس جوادخواجہ نے کہا کہ عدالت کو پتہ ہے کہ اُس کی کیاذمہ داریاں ہیں۔اٹارنی جنرل کو مخاطب کرکے اُنہوں نے کہا کہ وہ ملک کے سب سے بڑے قانونی افسر ہیں اور جوالفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ ججز نے سن لیے ہیں۔اِس سے قبل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں درخواست کی کہ چھ جون کے نوٹس کو تبدیل کیا جائے جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاکہ نوٹس میں تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے کہاکہ وفاق اور وزیراعظم کونوٹس جاری کیے لیکن اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہاہے کہ 18ترمیم کے بعدآرٹیکل 63ون جی کے تحت سپیکر اور چیف الیکشن کمیشن کا کردارختم ہوگیا ہے جس سے خود کار طریقے کے تحت وزیراعظم نااہل ہوچکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمیشن یا الیکشن کمیشن عدالت نہیںہے۔ وزیراعظم نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔اے کے ڈوگر نے دلائل د یتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے جان بوجھ کرعدالتی حکم کو ماننے سے انکارکیا ہے۔ اُن کاکہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کوتوہیں عدالت کامرتکب قرار دے دیا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اِس کیس میں صرف میرٹ پر بات کی جائے گی۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر سے کہا کہ پٹیشن میں دیئے گئے پوائنٹس پڑھ کرسنائیںجنہیں وہ نو ٹ کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لمبی تحریر پیش نہ کی جائے بلکہ دلائل پیش کیے جائیں۔عدالت نے کہاکہ یہ کیس مہینوں نہیں چلنے دیا جائے گا۔این آر او کیس یا توہین عدالت کیس میں کیا ہوا سب کو علم ہے۔بیرسٹر چوہدری اعتزا ز احسن نے عدالت کوبتایا کہ وہ کیس میںوزیراعظم کے وکیل کے طورپر حاضرہوئے ہیں جبکہ ان کو تیاری کے لیے بدھ تک تیاری کی مہلت دی جائے جس پر عدالت نے اعتزاز احسن کی درخواست قبول کی اور کل تک کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

مزید : سیاست /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...