انصاف "خریدنے "کا مقدمہ ،قانو ن سے بالا کو ئی نہیں ،ارسلان افتخا ر ،ملک ریا ض اور سلیما ن کیخلا ف سخت کا رروائی کی جا ئے :سپریم کو رٹ

انصاف "خریدنے "کا مقدمہ ،قانو ن سے بالا کو ئی نہیں ،ارسلان افتخا ر ،ملک ریا ض ...
انصاف

  

اسلام آباد (مانٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے چیف جسٹس افتخا ر محمد چودھری کے صا حبزادے ارسلان افتخا ر ،بحریہ ٹا ﺅن کے بانی ملک ریا ض اور ان کے داما د سلما ن علی کیخلا ف سخت کا رروائی عمل میں لا نے کی ہدایت کر دی ہے ۔جسٹس جو اد ایس خواجہ کی سر براہی میںسپریم کو رٹ کے بینچ نے چیف جسٹس کی طر ف سے لیے جا نے والے ازخو د نو ٹس پر فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم خواہ کتنا ہی با اثر کیو ں نہ ہو قانو ن کی نظر میں وہ تمام شہریو ں کے برابر ہو تا اور اس ضمن میں وزیراعظم کو سپریم کو رٹ کی طرف سے سنا ئی جانے والی سزا ایک مثا ل ہے ۔مختلف مقدما ت میں من پسند فیصلے کرانے کیلئے بھاری رقوم لینے کے الزاما ت سامنے آنے پر چیف جسٹس نے ازخو د نو ٹس لیکر اس کیس کی سماعت کے لیے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سر بر ا ہی میں بینچ تشکیل دیا تھا جس نے اٹا رنی جنر ل کو قا نو ن حرکت میں لا نے کی ہدایت کر دی ۔ اگر پیسے لے کر مرضی کے فیصلوں کی یقین دہانی ہے کرائی تو اسے سزا ہونی چاہیے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سچ سامنے آنا چاہیے تاہم یہ زہین میں رہے کہ جب تک کسی کو سزا نہ دی جائے وہ معصوم ہوتا ہے سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملک ریاض، ارسلان افتخار اور سلمان علی کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا چاہیئے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے  ا بزویشن دی کہ میڈیا پر ہونیوالی گفتگو میں سپریم کورٹ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ میڈیا ایسے لوگوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہو جو آئین اور قانون کا احترام نہیں کرتے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے قراردیاکہ کہ کوئی خواہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو آئین اور قانون سے بالانہیں، ہر ادارہ اپنے وقار اور عزت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے اور سپریم کورٹ آئین کے دفاع کا کام کسی خوف اور خطرے کے بغیر سر انجام دیتی رہے گی۔ عدا لت نے ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل قانون حرکت میں لائیں اور ملک ریاض، ارسلان افتخار اور سلمان علی تینوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم گیلانی کو دی جانے والی سزا سب کے سامنے ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ شاہین صہبائی نے تسلیم کیا کہ چیف جسٹس کو ٹارگٹ کرنے کےلئے ان کے بیٹے کو استعمال کیا جارہا ہے۔آئین اورقانون کی محافظ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ،ملک ریاض کے الزامات کے بعدٹاک شوز میں چیف جسٹس کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ملک ریاض نے رشوت دے کر انصاف خریدنے کی کوشش کی جو قانون کے تحت قابل سزا جرم ہیں۔ملک ریاض نے تسلیم کیا کہ انہوں نے 34کروڑ روپے سے زائد رقم دی ہے جو کہ انصاف کو خریدنے کی کوشش کے زمرے میں آتی ہے اوراس کا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ ہرادارہ اپنے تحفظ اوروقار کا خود ضامن ہوتاہے،میڈیا نے بے بنیاد الزامات پر عوام کو یرغمال بنائے رکھا۔میڈیانے جو کچھ دکھایا اس کی تصدیق نہیں کی۔عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مزید : جرم و انصاف /اہم خبریں