خبطِ عظمت

خبطِ عظمت

  

پدرم سلطان بود کی طرح خبطِ عظمت کی بیماری نے ہماری قوم کے کچھ ”عالی دماغوں“ کو بُری طرح جکڑا ہوا ہے،جس طرح دائمی زکام جکڑ جاتا ہے اور ٹھیک ہونے کا نام نہیں لیتا ....الیکشن ہونے تک تو ہر بولنے اور لکھنے والا اپنے ”علم“ .... ”خاص معلومات“ اور”خاص الخاص ذرائع“ کے مطابق وہ کچھ بول کر اپنا ، اپنے قارئین اور سامعین کا دل پشوری کررہاتھا، مگر اب وہ خاموش ہے اور شکار کے انتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے۔ خبطِ عظمت بہت پرانی بیماری ہے اور حضرتِ آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی ابلیسِ لعین کے اندر یہ بیماری اپنی پوری شد و مد سے اُبھری ، وہ تو راندئہ درگاہ ہوا، مگر آدم کی اولاد کو جھانسے اور لارا لپادے کر اس بیماری میں مبتلا کرتا رہتا ہے۔

ہم جو بھی علم رکھتے ہیں۔وہ علم کے سمندر کے ایک قطرے سے بھی کم ہے، جیسے کسی دانا نے کہا تھا کہ ہم یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ ہماری پشت پر کوئی دانہ ہے یا مکھی بیٹھی ہے۔ہم جو علم جتنا بھی رکھتے ہیں، وہ سمندر کے ایک قطرے سے زیادہ نہیں۔ قرآنِ پاک علم کا خزانہ ہے اور ہر دور میں اس کی آیات میں پوشیدہ علوم کی دریافت ہوتی رہتی ہے اور ہوتی رہے گی۔مثال کے طور پر صرف جنین کے مسئلے کو لے لیں ،جس کی بناءپر ہی کئی یورپین اور امریکن سائنسدان اسلام پر ایمان لے آئے،جس سے یورپ اور امریکہ میں نئے مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے ۔برطانیہ کو ہی لے لیجئے، اب یہاں کی 5فیصد آبادی نے اپنے آپ کو 2011ءکی مردم شماری میں مسلم لکھوایا ہے۔

یہ جو خبطِ عظمت کی مہلک بیماری کا ذکر چلا ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اخبارات و رسالوں اور چھوٹی اسکرین پر بے تحاشہ بولنے والے کئی حضرات و خواتین اس طرح باتیں کرتے ہیں، جیسے آنے والے الیکشن ،مضمرات اور نتائج کا علم ان کے پاس دو اور دو چار کی طرح ہے۔ان کا انحصار علمی اور تکنیکی انداز کے گیلپ پول پر نہیں ہوتا رہا، بلکہ ان کی ”عظمتِ فکر“ کا نتیجہ ہے۔ایسے لوگ ہر معاملے کا تاریک پہلو ہی دیکھا کرتے ہیں اور کسی بھی ہوئے کام کے بارے میں، کسی واقعاتی شہادت کے بارے میں یا کسی شخصیت کے ارشادات کے بارے میں گفتگو کا آغاز،ہمیشہ منفی انداز ہی میں کریں گے۔

یہ سب لوگ خبطِ عظمت جیسے مہلک مرض کا شکار ہیں۔ معاشرے میں مایوسی اور عدم تحفظ ،بلکہ عدم ایمان پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں،جو پدرم سلطان بود کی ذہنیت کے ساتھ زندگی کی گاڑی چلانا چاہتے ہیں اور خود ”سلطان“ بننے کی نہ خواہش نہ تمنا رکھتے ہیں، وہ بھی معاشرے کے لئے مہلک ثابت ہورہے ہیں۔زندگی ُامید و رجاءکے درمیان ہی گزرتی ہے ،چاہے مشرق میں ہو یا مغرب میں....مایوسی اور بے یقینی پھیلانے سے کوئی اپنے علم اور تجربے کا ڈھنڈورا پیٹنا چاہے تو اس کی مرضی،ورنہ دنیا میں معاملات اسی طرح چلتے ہیں، اگر آپ کسی کو اور کچھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اسے امید تو دیجئے، تاکہ وہ زندگی گزار سکے اور قنوطی بن کر ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ نہ جائے۔امید پر دنیا قائم ہے اور قائم رہے گی۔انشاءاللہ۔    ٭

مزید :

کالم -