’’بیٹا، سیاست سے دور رہنا‘‘

’’بیٹا، سیاست سے دور رہنا‘‘
’’بیٹا، سیاست سے دور رہنا‘‘

  

انسان اپنی زندگی میں دوست ، بھائی ، عزیز وغیرہ بہت سے رشتوں سے منسلک ہوتا ہے ۔ ان رشتوں میں کچھ اس سے مخلص ہوتے ہیں ، کچھ حاسد اور کچھ دوستوں کے روپ میں دشمن بھی ۔ دوست آپ کے کام آتے ہیں، آپ کے ساتھ چلتے ہیں ، آپ کی ترقی سے خوش ہوتے ہیں،لیکن اتنی ہی ترقی کہ آپ ان سے ایک درجہ نیچے رہیں ، جونہی آپ ترقی میں ان سے آگے بڑھنے لگتے ہیں تو یہی دوست ’’بروٹس‘‘ بن جاتے ہیں ۔ بھائی جیسا خوبصورت رشتہ بھی نعمت ہوتا ہے ، بڑا سہارا ہوتا ہے، لیکن اگرایک بھائی بہت زیادہ ترقی کرجائے تو دوسرا بھائی حسدکا شکار ہوسکتا ہے ۔ اِسی طرح دوسرے رشتے بھی ہیں، بہت مخلص ہوتے ہیں، لیکن ان کے خلوص کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اگر کوئی انسان دُنیا میں سو فیصد کسی سے مخلص ہے تو اس کا نام ’’باپ‘‘ ہے ۔وہ دل کی گہرائیوں سے تمنا کرتا ہے کہ اُس کا بیٹا اس سے آگے جائے ،ترقی اور عروج کی منزلوں کو چھوئے ۔ باپ اگر ڈسپنسر ہے تو اس کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ بیٹا ڈاکٹر بنے ۔ وہ اپنے بیٹے کی تعلیم اور ترقی کے لئے تن من دھن ایک کردیتا ہے ۔ کوئی دوسرا اگر کسی کو کوئی مشورہ دیتا ہے تو اس میں کوئی چال ہو سکتی ہے ، دوسرے کا مفاد ہوسکتا ہے، مگر ایک باپ کی اپنے بیٹے کو جو نصیحت یا وصیت ہوتی ہے و ہ سراپا خلوص ہوتی ہے ، اس میں کوئی چال،مکریا کھوٹ نہیں ہوتا، بیٹے کی بہتری اور بھلائی ہی کے لئے ہوتی ہے ۔وصیت کی بات ہوئی ہے تو اس حوالے سے ’’صولت مرزا‘‘ کی جو وصیت منظر عام پر آئی ہے اس میں اس نے اپنے بیٹے کو یہ کہا ہے ’’بیٹا سیاست سے دور رہنا‘‘ سیاست کو اگر مخلوق کی خدمت اوربھلائی کے لئے اختیار کیا جائے تو یہ عبادت بن جاتی ہے، مگر آج سیاست کا جو حال ہے اس میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ اس کو عبادت سمجھا اور کہا جائے، بلکہ اب تو سیدھا سادا اس کو تجارت ہی کہا جائے گا۔ سینٹ کاالیکشن دس کروڑ لگا کر جیتئے اور دس کروڑ کا ایک ارب بنایئے۔ صولت مرزا کو سیاست نے جودیا اس سے اس کی دُنیابھی خراب ہوئی اور عاقبت بھی ۔ اِسی لئے اس نے بیٹے کو یہ وصیت کی ہے کہ مجھ سے جو غلطی ہوئی وہ تم نہ کرنا، ’’بیٹاسیاست سے دور رہنا‘‘۔

صولت مرزا اور اس جیسے کئی لڑکے جو پکڑے گئے ہیں ، ان سب کی کہانیاں ایک جیسی ہیں، بلکہ ایک ہی کہانی ہے ۔ یہ بیک وقت ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی ۔ ہر کہانی کا کردار اٹھارہ بیس سالہ غریب گھرانے کا بے روزگار نوجوان ہے ۔ماں باپ نے جیسے تیسے کرکے میٹرک یا ایف اے کرا دیا ہے اور اب اوپر آسمانوں پر نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں کہ کب ان کی دُعاؤں کو قبولیت ملتی ہے اور بیٹا کہیں برسرروزگار ہوتا ہے ۔ بیٹا بھی نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہوتا ہے کہ علاقے کا ایک واقف اسکا ہمدرد بن کر اس کا ہاتھ تھام لیتا ہے کہ آؤ تمہیں کام دلاؤں ۔ واٹر بورڈ یا بلدیہ کے کسی دوسرے محکمے میں اس کو کاغذی ملازمت دلائی جاتی ہے، لیکن ڈیوٹی اپنے علاقے کی ’’ایک سیاسی جماعت ‘‘کے دفتر میں۔ شروع شروع میں اس سے جماعت کے بینر لگوائے جاتے ، وال چاکنگ کرائی جاتی ہے یا پھر جماعت کے جلسوں میں نعرے لگوائے جاتے ہیں ۔مہینے میں صرف ایک دن اپنے محکمے میں حاضری ضروری ہوتی ہے صرف تنخواہ لینے کے لئے اور اس میں بھی ایک حصہ جماعت کو چندے کے نام پر دینا ہوتا ہے اور جن محکموں کی تنخواہ اس کے ملازموں کے بنک اکاؤنٹ میں براہ راست جاتی ہے ان کو اس ایک دن کی حاضری سے بھی استثنیٰ مل جاتا ہے ۔ آدمی کسی بھی محکمے میں کام کرے ، ایک دن آتاہے جب اس کو ترقی بھی ملتی ہے اس کا عہدہ ایک درجہ اوپر ہوجاتا ہے ۔

ماں باپ خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں۔ دعائیں دیتے اور مٹھائیاں بانٹتے ہیں ۔ ان لڑکوں کی بھی دوسروں کی طرح ترقی ہوتی ہے ، ان کا درجہ بھی بڑھتا ہے اور ڈیوٹی بھی تبدیل ہوتی ہے ، ان کی نئی ڈیوٹی اب ’’بھتا‘‘ اکٹھا کرناہوتا ہے ۔ ظاہر ہے اس کام میں غنڈہ گردی بھی کرناہوتی ہے، کبھی گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو پھر کسی کو ’’ٹھوکنا‘‘ بھی پڑتا ہے ، اگر کارکردگی اچھی رہے توکچھ عرصہ بعداگلے درجہ پر ترقی کا وقت آجاتا ہے اور نئے درجہ کے عہدے کا نام ہے ’’ٹارگٹ کلر‘‘ چونکہ یہ عہدہ بڑا ہوتا ہے اس لئے ایک مخصوص مقام پر ’’حلف منصب‘‘ یعنی حلف برداری کی تقریب بھی ہوتی ہے، مگر اس تقریب میں جو حلف اٹھایا جاتا ہے وہ یہ نہیں ہوتا کہ میں کوئی کام اﷲتعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے احکام کے خلاف نہیں کروں گا اور نہ ہی یہ حلف کہ میری تمام ترصلاحیت پاک وطن کی بہبود اور ترقی کے لئے ہو گی، بلکہ یہ حلف اٹھایا جاتا ہے کہ میراقائد جو بھی کہے گا وہ میں بلاچون و چرا کروں گاچاہے کسی کو ’’ٹھوکنا‘‘ ہو یا پاک وطن کی جڑ کاٹنے کے لئے ’’را‘‘ سے تربیت حاصل کرنے کے لئے انڈیا جاناہو ۔اس موقع پر ان کو نئی پہچان بھی ملتی ہے۔ ماں باپ نے لغات دیکھ کر یا کسی عالم سے پوچھ کر اپنے بیٹے کا جو اچھا سا نام ر کھا ہوتا ہے اس کے ساتھ ایک عرفیت جوڑ دی جاتی ہے ۔ کوئی سرپھٹا بن جاتا ہے اور کوئی کن ٹٹا، کسی کو بادام کہا جاتا ہے اورکسی کو آلو۔کوئی پہاڑی۔ حاجی ہیلمٹ، بھیانک، موٹا،انٹینا وغیرہ وغیرہ۔ایسے عرفی ناموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیادت کی نظر میں ان کی کیا اہمیت ہے۔ صولت مرزا نے سچ کہا تھا کہ قیادت کی نظر میں ہم ’’ٹشو پیپر‘‘ ہیں، استعمال کیا اورپھینک دیا، جن کے لئے یہ سب کیا ،پکڑے گئے تو سب سے پہلے انہوں نے ہی کہاکہ ہم اسے نہیں جانتے،’’لٹکا دو سالے کو‘‘ اسی لئے یہ ’’مظلوم‘‘ بھی کہے جاسکتے ہیں، لیکن کچھ بھی کہیں کسی بھی حالت میں قتل کی اجازت نہیں سو ان پر ترس بھی نہیں کھایا جاسکتا۔ قرآن پاک کی ایک آیت کا ترجمہ ہے کہ

’’جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا‘‘۔۔۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان نام نہاد ’’ مظلوموں‘‘ میں سے ہر ایک نے ایک دو نہیں، بلکہ پچاس پچاس قتل کئے ہوئے ہیں اور کئی ایک تو باقاعدہ ’’سنچری ہولڈر‘‘ ہیں اور کئی ایک تو درجنوں قتل کرنے کے بعد عدالت سے باعزت بری ہوچکے ہیں، کیونکہ گواہ کوئی نہیں اور جو گواہی پر تیار ہوجائیں وہ عدالت جانے سے پہلے ہی ’’اوپر‘‘پہنچا دئے جاتے ہیں۔ اسی لئے ان کے سبھی لیڈر بیک وقت ایک ہی بولی بولتے ہیں کہ ہمارا میڈیا ٹرائل نہ کرو، بلکہ عدالتوں میں ثابت کرو۔ لندن میں ایک قتل ہوا تو اس کی تفتیش کے لئے سینکڑوں لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی ۔نیت سے تفتیش کی گئی تو کہا جارہا ہے کہ معاملہ حل ہونے کے قریب ہے، لیکن ایک ہمارا ملک ہے کہ ہزاروں پاکستانی قتل ہوگئے، لیکن کہا گیا ہے کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ قتل کرگئے ۔ سینکڑوں پولیس آفیسر قتل ہو گئے،لیکن آفرین ہے ہمارے سیاسی حکمرانوں اور لیڈروں پر ۔ انہوں نے اپنی عاقبت خراب کرلی لیکن دُنیاوی سیاست کے لئے ان ہی قاتلوں سے’’مفاہمت‘‘ کرلی۔ کسی قاتل کو اگر آپ تھانے سے چھڑاتے ہیں یا پھر ’’این آر او‘‘ کرکے اس کے پچھلے قتل نظر انداز کرتے ہیں تو اس کے بعد اس نے جو قتل کئے اس میں آپ بھی قتل کے برابر مجرم ہیں، سو سیدھی بات ہے کہ ان سیاست دانوں کا نام بھی ، جو ان کی سرپرستی کرتے ہیں اگلے جہاں میں قاتلوں کے رجسٹر میں ہی ہو گا ۔

مزید :

کالم -