ڈاکٹر ایم اے صوفی: آسمان تیری لحد پر شبنم فشانی کرے

ڈاکٹر ایم اے صوفی: آسمان تیری لحد پر شبنم فشانی کرے
 ڈاکٹر ایم اے صوفی: آسمان تیری لحد پر شبنم فشانی کرے

  


پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی(محمد اسلم صوفی) ہر ی پورہزارہ صوبہ سرحد میں 28جولائی 1931ء کو پیدا ہوئے۔ 1949ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ہری پور سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ 1952ء میں پشاور یونیورسٹی سے فیکلٹی آف سائنس سے ایف سی میڈیکل کی سند حاصل کی۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور بیچلر آف ڈینٹل سرجری(بی ڈی ایس) کی ڈگری حاصل کی۔آپ کا شمار وطن عزیز میں چوٹی کے ڈینٹل معالجین میں ہوتا تھا۔انہوں نے ملک و بیرون ملک متعدد قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی، کالج آف کمیونٹی میڈیسن لاہور میں تدریسی فرائض انجام دینے کے علاوہ پرنسپل کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔

زمانہ طالب علمی میں تحریک سول نافرمانی کے لیڈر اور تحریک پاکستان کے متحرک رکن تھے۔ مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے باڈی گارڈبھی رہے۔1946ء کے تاریخ ساز انتخابات میں ہری پور ہزارہ کے علاقے میں مسلم لیگی امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لئے دن رات جدوجہد کی۔ قیام پاکستان کے بعد بڑی تندہی سے مہاجرین کی دیکھ بھال اور آباد کاری کے کاموں میں حصہ لیا۔تحریک پاکستان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے انہیں2010ء میں گولڈ میڈل بھی عطا کیا گیا۔وہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ روزنامہ نوائے وقت ، روزنامہ پاکستان اور دیگر قومی اخبارات و جرائد میں باقاعدگی سے کالم اور مضامین لکھتے تھے، جن میں تحریک پاکستان ، نظریہ پاکستان اور اہم قومی و بین الاقوامی مسائل پر اظہار خیال کیاجاتا تھا۔راقم الحروف سے پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی سے بہت پرانی شناسائی تھی۔ 60 کی دہائی کے اوائل میں راقم الحروف سے ان کا پہلی بار تعارف ہوا، پھر جو ایک مضبوط تعلق جڑا تو صوفی صاحب کی وفات تک قائم رہا۔

+

مرحوم اخبارات میں خبریں اور مضامین شائع کرانے کے لئے آیا کرتے تھے اور میرے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے۔ زندگی کے آخری ایام میں ویل چیئر پر نظریہء پاکستان ٹرسٹ کی تقریبات میں آتے تو مجھ سے بھی ملاقات ہو جاتی۔ بہت شفقت کرنے والے اور پاکستان سے سچے خیرخواہ انسان تھے۔ انہیں قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔ نظریہ پاکستان پر پختہ یقین رکھتے تھے اور نوجوانوں کو اسی حوالے سے جدوجہد کرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ڈاکٹر ایم اے صوفی نے نظریہ پاکستان کو فروغ دینے کے حوالے سے بھرپور زندگی بسر کی۔ وہ کارکنان تحریک پاکستان سے وابستہ رہے۔ وہ بے حد خوش مزاج تھے۔

مزید : کالم


loading...