خود ساختہ مہنگائی اور رمضان المبارک

خود ساختہ مہنگائی اور رمضان المبارک

سعودی عرب نے قطر کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے تنہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ بعض اسلامی ممالک سعودی عرب کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ایران نے خوراک سے بھرے ہوئے جہاز قطر پہنچا دیئے ہیں، ترکی بھی سعودی عرب کو اپنا فیصلہ واپس لینے کو کہہ ہا ہے۔ سعودی عرب نے گزشتہ روز قطر سے آنے والے زائرین عمرہ کو بھی واپس بھیج دیا ہے۔ ایک اسلامی مُلک کے باشندوں کو روضۂ رسولؐ اور اللہ کے گھر آنے سے روکنے کا یہ عمل کسی طور پر بھی پسندیدہ نہیں ہو سکتا، ایک مسلمان پر یہ پابندی نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ روضۂ رسولؐ اور خانہ خدا پر حاضر نہیں ہو سکتا۔ سعودی عرب کو چاہئے کہ وہ اپنے اس رویے میں تبدیلی پیدا کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے اُمت مسلمہ میں سعودی عرب کے حکمرانوں کے وقار میں کمی ہوئی ہے۔ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تنازع درحقیقت مسلمانوں کو مسلمانوں کے درمیان لڑانے کی کوشش ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ امریکہ اب براہِ راست کسی مُلک پر چڑھائی کا ارادہ نہیں رکھتا اور وہ ایک ’’بیوپاری‘‘ کے طور پر اپنے کردار کو آگے بڑھانا چاہتا ہے ،اس کے لئے وہ اسلامی ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرتے ہوئے میدان جنگ سجانا چاہتا ہے ۔ظاہر ہے کہ سامانِ جنگ بیچنے کے لئے کسی نہ کسی ’’میدانِ جنگ‘‘ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، سو وہ اپنی ضرورت کے مطابق اپنے عزائم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ عجیب بات ہے کہ امریکہ کے صدر کا دورہ ابھی امریکہ میں زیر بحث تھا کہ سعودی عرب نے قطر کے خلاف پابندیاں عائد کر کے امریکہ کے عزائم کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا اور جنگی سازو سامان کے حوالے سے تو سعودی عرب ٹرمپ کے ساتھ پہلے ہی کروڑوں ڈالر کے معاملات کر چکا ہے۔

قطر اور سعودی عرب کے درمیان تنازع درحقیقت آنے والے دِنوں میں ایک خطرناک شکل اختیار کرتا نظر آتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان ممالک دونوں ممالک کے درمیان تنازع حل کرانے کے لئے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف بھی اِس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے سعودی عرب کا دورہ کر کے واپس آچکے ہیں۔پاکستان ایک اہم اسلامی مُلک ہے اور اپنے تمام تر مسائل کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بعض تبصرہ نگاروں کا خیال ہے کہ نواز شریف دونوں ممالک کے درمیان ’’ثالثی‘‘ کا عزم رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں نواز شریف ’’مصالحتی کردار‘‘ ادا کرنے کا رادہ رکھتے ہیں ۔وہ عرب قیادت کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو بھی استعمال میں لاتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔نواز شریف ایک عرصے تک سعودی عرب میں جلا وطن رہے ہیں اور سعودی حکومت کی خواہش پر ہی جنرل پرویز مشرف نے انہیں رہا کرتے ہوئے سعودی عرب بھیجا تھا۔نواز شریف اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتے ہیں کہ وہ خاصے طویل عرصے تک سعودی عرب میں رہنے کی وجہ سے سعودی حکمرانوں کے ’’مزاج شناس‘‘ بھی ہیں اور علاقائی سیاست کے حوالے سے بھی بہت کچھ جانتے ہیں ،یہ بھی جانتے ہیں کہ دونوں حکمرانوں کے درمیان کن کن امور پر اتفاق کرایا جا سکتا ہے۔یقیناًنواز شریف اپنے اس مشن میں کامیاب ہو سکتے ہیں، کیونکہ اِس حوالے سے تین ممالک سعودی عرب کو رویے میں تبدیلی کا پیغام دے چکے ہیں اور بعض ممالک سعودی عرب کی علاقائی اہمیت کی وجہ سے بظاہر خاموش ضرور ہیں، مگر وہ قطر کے خلاف سعودی عرب کی پابندیوں کو ناپسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سعودی عرب قطر کے خلاف پابندیاں واپس لے۔ بہرحال نواز شریف اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اس حوالے سے بہت جلد کچھ ہوتا نظر آ جائے گا۔۔۔!

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ خود نواز شریف اپنے خاندان سمیت مشکل میں ہیں اور ان کا خاندان سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیشیاں بھگت رہا ہے۔ پاناما کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی نے نواز شریف کے صاحبزدادے حسین نواز کو پانچ بار حاضر ہونے کا حکم دیا اور کئی کئی گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کی۔ اب اس جے آئی ٹی نے نواز شریف کو بھی طلب کر لیا ہے۔ یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے کہ ایک طرف نواز شریف بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے سعودی عرب اور قطر کے درمیان مصالحتی کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف اپنے مُلک کے ایک ادارے نے انہیں طلب کر رکھا ہے۔عوامی سطح پر نواز شریف کی طلبی کو جہاں آئین اور قانون کی بالادستی قرار دیا جا رہا ہے، وہاں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف اگر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو جاتے ہیں تو یہ ایک قابلِ تعریف بات ہو گی، میاں محمد نواز شریف ایک عام شہری کی طرح جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ وزیراعظم کا پروٹوکول حاصل کئے بغیر ایک عام شہری کی طرح کمیشن کا سامنا کریں، کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اس سے جہاں ان کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا، وہاں دیگر سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کے اشتعال میں بھی کمی آئے گی۔ اس موقع پر نواز شریف کو چاہئے کہ وہ بطور سربراہ مسلم لیگ(ن) اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت جاری کریں کہ پیشی والے دن کوئی بھی کارکن اسلام آباد آنے کی کوشش نہ کرے ،وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوتے ہوئے سوالوں کے جوابات کا جواب دیں گے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کے بلائے جانے پر بھی بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو بلایا جانا سمجھ سے باہر ہے، مگر مسلم لیگ(ن) کے رہنما میاں نواز شریف کے بلاوے پر خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی پیشی درحقیقت ان کے سیاسی قد کا ٹھ میں اضافے کا باعث بنے گی، کیونکہ اب تک کے شواہد بتاتے ہیں کہ ساری تفتیش نواز شریف کے خاندان اور بیٹوں سے کی جا رہی ہے اور کسی بھی مرحلے پر نواز شریف کا نام سامنے نہیں آیا، گو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مریم نواز اور نواز شریف کا نام بار بار لیا گیا، مگر عدالتی کارروائی کے دوران ان دونوں باپ بیٹی کے حوالے سے کوئی بھی حکم سامنے نہیں آیا۔۔۔ البتہ حسین نواز اور حسن نواز کے نام سامنے آتے رہے۔ بہرحال یہ تو جمعرات کے روز ہی پتہ چلے گا کہ نواز شریف کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ خیال ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد نواز شریف ایک نئے نواز شریف کے طور پر سامنے آئیں گے اور ان کے اعتماد میں مزید اضافہ ہو گا۔

مزید : کالم


loading...