امتحانات میں نقل

امتحانات میں نقل
 امتحانات میں نقل

  


1978ء میں میں کوئٹہ ٹیلی ویژن میں کام کر رہا تھا، نقل کے کچھ واقعات اخبارات میں پڑھ کر ہم نے اس رحجان کے خلاف ایک ڈسکشن پروگرام کرنے کا ارادہ کیا۔ شہر سے ایک دو ماہرین تعلیم کو بلایا، ہمارے نیوز ایڈیٹر نے محکمہ تعلیم سے وابستہ اپنی ایک خالہ کو بھی بلا لیا۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے سیکرٹری (کوئی مینگل صاحب تھے) کو دعوت دی۔ ہمارا خیال تھا کہ شاید وہ اس معاملے میں اپنی ناکامی کی وجہ سے ہماری دعوت ٹھکرا دیں، لیکن ایسا نہیں ہوا ہم نے سب شرکاء کو بریف کر دیا، پروگرام شروع ہوا، سب شرکاء نے مختلف واقعات کا ذکر کیا اور اس خطرناک صورتِ حال اور آئندہ نسلوں پر اس کے ممکنہ مضر اثرات کا احاطہ کیا، لیکن مینگل صاحب اس صورت سے بالکل نہیں گھبرائے، بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر سارا کیس ہی ختم کر دیا کہ جی ہاں یہاں نقل تو ہے، لیکن پنجاب سے کم کیونکہ ان کے بقول پنجاب میں تو نقل لاؤڈ سپیکر پر کرائی جاتی ہے (اُن دنوں شاید کوئی ایسا واقعہ اخبارات میں رپورٹ ہوا تھا) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے خصوصاً بلوچستان اور سندھ میں اس مسئلے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

امتحانوں میں نقل کا مسئلہ کوئی نیا مسئلہ نہیں،بلکہ یہ ہمیشہ سے سارے مُلک میں موجود رہا ہے، لیکن یہ معاملہ جس سطح پر کچھ جگہوں خصوصاً سندھ میں پہنچا ہے یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ یونیورسٹیوں میں سمسٹر سسٹم کے درمیان امتحانات ہوتے ہیں ، ظاہر ہے اس میں بھی نقل چلتی ہے ، قائداعظم یونیورسٹی میں میرے دوست پروفیسر مسعود زاہد نے بتایا کہ اس صورت حال سے بچنے کے لئے وہ پیپر نہیں بناتے، کیونکہ یہ لیک ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ سوالات اُسی وقت بلیک بورڈ پر لکھتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں پتہ چلا کہ اس احتیاط کے باوجود جب وہ سوالات لکھ رہے ہوتے ہیں وہ سوالات اسی وقت موبائل فون کے ذریعے باہر پہنچا دیئے جاتے ہیں اور جواب کے لئے رہنمائی حاصل کر لی جاتی ہے۔

ہم ویسے ہی غربت، جہالت اور پسماندگی جیسے مسائل سے دوچار ہیں، لیکن اب چھوٹے چھوٹے مسائل بھی ہماری قومی زندگی میں بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ سندھ میں حکومت اور فوج نے مل کر دہشت گردی اور دوسرے جرائم پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے، لیکن اب کچھ اور مسائل نے سر اُٹھا لیا ہے۔سندھ حکومت پہلے کراچی شہر سے کچرا اُٹھانے سے عاجز آئی ہوئی تھی اوپر سے یہ مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ امتحانات کے شروع میں سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ایک بیان میں اس لعنت کا بجا طور پر نوٹس لیا تھا جس سے ایک خوشگوار اُمید بندھی تھی کہ وزیراعلیٰ خود اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہیں اور وہ اس معاملے میں دھاندلی اور بے ایمانی برداشت نہیں کریں گے، لیکن بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ ان کی کوششوں کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ میرے ایک دوست ظفر قریشی (ریٹائرڈ ڈی آئی جی) نے مجھے بتایا کہ وہ 1991ء میں لاڑکانہ کے ایس پی تھے کہ ایک دن چانڈکا میڈیکل کالج کے پرنسپل کا فون آیا کہ امتحانوں میں نقل پر قابو پانے میں پولیس اُن کی مدد کرے۔ صورتِ حال یہ تھی کہ کئی طالب علموں نے ہتھیار کھلم کھلا اپنے ڈیسکوں پر رکھے ہوئے تھے اور دھڑلے سے نقل کر رہے تھے اور اس صورت میں کالج کے سٹاف نے وہاں ڈیوٹی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ قریشی صاحب نے ایک ڈی ایس پی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں۔ پولیس والے وہاں پہنچے، لیکن صورتِ حال پر قابو نہیں پا سکے۔اس پر ظفر قریشی صاحب نے ڈی ایس کو ساتھ لیا اور کچھ پولیس وردی میں اور کچھ سفید کپڑوں میں لے کر امتحانی مرکز پہنچے۔ حکمت عملی یہ بنائی گئی کہ پہلے سفید کپڑوں والے ملازمین اندر جائیں گے اور اسلحہ اپنے قبضے میں لے لیں گے۔اِسی دوران ایس پی صاحب وردی والی پولیس کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور کڑک کر کہا کہ ان سب کو پکڑو اور انہیں جیل میں ڈالو۔ اس طرح نقل کرنے والے طلباء گھبرا گئے اور صورتِ حا ل پر قابو پا لیا گیا۔

امتحانوں میں نقل کوئی معمولی مسئلہ نہیں،بلکہ یہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہی بچوں نے آگے چل کر ڈاکٹر، انجینئر ، ماہرین تعلیم اور بیورو کریٹ بننا ہے اگر یہی حال رہا تو ہمارے مُلک کا مستقبل خدانخواستہ خطرے میں ہے۔اس کا ایک مظاہرہ تو سی ایس ایس کے امتحان میں نظر آ گیا ہے، جس میں ہزاروں امیدواروں میں سے صرف دو سو امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔سندھ کے دانشوروں کو اس صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہئے ،لیکن سندھ ہی سے افسوسناک خبر ملی ہے کہ نقل کے اس دھندے میں چھوٹے عملے کے علاوہ بہت سے پروفیسر ملوث تھے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے چھوٹے صوبوں کے لوگ بہت سارے مسائل کا ذمہ دار مرکز اور اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرا کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ بعض مسائل کی وجہ ہم بھارت اور امریکہ کی مداخلت قرار دیکر مطمئن ہو جاتے ہیں، لیکن امتحانوں میں نقل کے معاملے میں ایسا کوئی بہانہ موجود نہیں۔ یہ تو صوبائی انتظامیہ کی مکمل ناکامی ہے۔

مزید : کالم


loading...