شوکت عزیز نے کاٹن کمیٹی کی بلڈنگ کیوں بیچ دی؟

شوکت عزیز نے کاٹن کمیٹی کی بلڈنگ کیوں بیچ دی؟

حکومت ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی آ رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں شوگر ملوں کی طرف دھیان زیادہ اور اس صنعت کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے شوگر ملوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ برخلاف ٹیکسٹائل کے شوگر مل تقریباً چار مہینے چلتی ہے۔ اس طرح اگر چار مہینے میں سال بھر کی کمائی ہو جائے تو ٹیکسٹائل مل کون لگائے اور سارا سال سر کھپائے۔ بڑے بڑے سیاستدان متعدد شوگر ملوں کے مالک ہیں اس لئے حکومت کی نظر کرم اس شعبہ کی طرف ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کپاس اس کی شہ رگ ہے اسی لئے یہ ہمیشہ دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتی رہی ہے۔ ماضی میں کپاس پر کئی حملے ہوئے مگر یہ سخت جان ثابت ہوئی اور ترقیوں پر ترقی کرتی چلی گئی۔ پھر ہم نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری اور وزارت زراعت و خوراک ختم کر دی۔ دنیا میں شاید پاکستان واحد ملک ہے جس میں یہ وزارت نہیں۔ امریکہ جو ایک صنعتی ملک ہے وہاں بھی وزارت زراعت ہے اور اس کا بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے زیادہ ہے۔

پاکستان میں کپاس کی زبوں حالی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کپاس کا زیر کاشت رقبہ 2016-17ء میں پچھلے سال 15.76 فیصد کم ہے۔ پیداوار جو کہ 2014-15ء میں 2.30 ملین ٹن تھی کم ہو کر 2016-17ء میں 1.82 ملین ٹن رہ گئی ہے۔ فی ایکڑ پیداوار بھی 812 kg/ha سے کم ہو کر 787 kg/ha رہ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار Cotton Review (PCC, GOP) Vol. 49, No. 05, Jan. 207 سے لئے گئے ہیں۔

سابقہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے کپاس پر ظلم کی انتہا کر دی۔ انہوں نے پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی (PCCC) اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ کاٹن ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی (Picrt) کی عالیشان بلڈنگ جو21000مربع گز کے پلاٹ پر کراچی کے ایک اعلیٰ اور مہنگے علاقے میں تھی منہدم کر کے خالی پلاٹ امریکہ کو بیچ دیا۔ میرا ان سے اور سب پاکستانیوں سے سوال ہے کہ کیا حکومت امریکہ ہارورڈ یا ییل (Yale) یونیورسٹی کی بلڈنگ پاکستان کے ہاتھ فروخت کرے گی؟ بلڈنگ منہدم کی گئی اور نہایت قیمتی مشینری اور آلات کراچی کے گوداموں میں پھنکوا دیئے گئے جو شاید آج بھی وہیں ہیں۔ ان میں ایک پوری ٹیکسٹائل مل 60-70 ٹن کا ایئرکنڈیشنگ پلانٹ،10یا 12 چھوٹے پلانٹ، ایکسرے مشین، الیکٹران مائیکرو اسکوپ اور بہت قیمتی سائنسی آلات، کاریں، موٹرسائیکل وغیرہ ہیں یہ سب کچھ کراچی کی مرطوب آب و ہوا میں گزشتہ کئی سالوں سے بند پڑا ہوا ہے۔ شاید ناکارہ ہو چکا ہو۔ اگر آج یہ سامان پھر خریدا جائے تو لاگت شاید 100 کروڑ سے تجاوز کر جائے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اور آج تک اس سامان کو نکال کر ملتان کیوں نہیں شفٹ کیا گیا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟؟ کاٹن کمیٹی کئی لاکھ روپے ان گوداموں کا کرایہ دے رہی ہے۔ اس کاذمہ دار کون ہے؟

شہادت مسجد: کاٹن کمیٹی کے دفتر کے احاطے میں ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بھی تھی۔ مسجد کمیٹی کے ملازمین نے باقاعدہ اجازت لے کر اور چندہ کرکے تعمیر کی تھی۔ مسجد میں پنجگانہ اور جمعتہ المبارک کی نمازیں ہوتی تھیں۔ مسجد شہید کر دی گئی۔ اس کا ذمہ دار کون؟؟

کاٹن کمیٹی کے اعزازات: پاکستان میں کاٹن کی پیداوار 1947-48ء میں 17لاکھ گانٹھیں تھیں جو کہ 1992-93ء میں 12ملین ہو گئیں آج کل 10اور 11ملین کے درمیان ہے۔ اس میں کاٹن کمیٹی ، صوبائی محکمہ زراعت اور PAEC کی کاوشیں شامل ہیں۔ Picrtکو Centre of Excellenceقرار دیا گیا۔ ترکی، ایران اور انڈونیشیا کے ٹیکنالوجسٹ یہاں ٹریننگ کے لئے آئے۔ Picrt نے تین پیٹنٹ Patents حاصل کئے۔ کاٹن کمیٹی کے ماہرین ورلڈ بینک یونیسکو، ایف۔ اے او، آئی سی ۔ اے سی، یونیڈو، کامن فنڈ کے لئے ورلڈ وائیڈ اوپن کمپیٹیشن میں چنے گئے۔ ان ماہرین نے صومالیہ،واشنگٹن ،برما، سری لنکا، سوڈان وغیرہ میں کام کیا۔

ان سب کو نظر میں رکھتے ہوئے کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ

1۔ کاٹن کمیٹی کا ٹیکنیکل آڈٹ کروایا جائے۔

2۔حکومت پاکستان کاٹن کمیٹی کی بلڈنگ کی فروخت کی انکوائری کروائے۔

3۔معزز سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے کہ یہ بلڈنگ کیوں فروخت ہوئی؟

4۔معزز فیڈرل شریعت کورٹ مسجد کی شہادت کا نوٹس لے۔

(5)100کروڑ سے زائد کے نقصان کے لئے ایک غیر جانبدار کمیشن بنایا جائے۔

(6)کپاس کی پیداوار میں کمی کا جائزہ لیا جائے اور خاص طور پر دیکھا جائے کہ CLCV،میلی بگ اور دوسری بیماریاں صرف سرحد کے مغرب میں ہی کیوں ہوتی ہیں، مشرق میں کیوں نہیں؟

(7)کاٹن کمیٹی کی فروخت کی رقم کہاں ہے، یہاں ہے یا دوبئی چلی گئی؟

مزید : کالم


loading...