دلدلی اکھاڑہ

دلدلی اکھاڑہ
 دلدلی اکھاڑہ

  


  • عمران خان ‘ شیخ رشید ‘ چودھری شجاعت وغیرہ وغیرہ اور ’’بھائی لوگ‘‘ ایک بارپھر امید سے ہیں۔ انہیں لگ رہا ہے کہ شاید اس بار ان کا داؤ چل جائے گا اور وزیراعظم نواز شریف کی چھٹی ہو جائے گی۔ ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جانے والے مولوی کینیڈی کی رائے اب مختلف ہے۔ چندہ مہم کے لئے اپنے وطن کینیڈا سے چند روز دورے پر لاہور آئے تو شور مچا دیا کہ جے آئی ٹی درحقیقت مسلم لیگ (ن) کے الیکشن سیل کا کردار ادا کر رہی ہے ،ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس کا پورا پورا فائدہ شریف برادران کو ہی ہو گا۔ طاقتور عناصر کے آلہ کار اس معاملے پر آپس میں ہی متفق نہیں۔ بہرحال ایک طرف تو یہ ٹولہ ہے کہ خیالی پلاؤ پکاتے ہوئے اقتدار اپنی جانب آنے کے امکانات دیکھ کر رالیں ٹپکا رہا ہے دوسری جانب خود حکومت ہے کہ اپنے لیڈروں اور کارکنوں کو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے پر لگا رکھا ہے۔اس زبانی کلامی ’’طوفان بدتمیزی‘‘ سے مخالفین کی صفوں میں وقفے وقفے سے تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کو بذات خود جمعرات کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوناہے۔ سمن جاری ہونے سے پہلے دورہ چین کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کھل کر کہہ دیا تھا کہ پانامہ لیکس اور ڈان لیکس جیسی چیزیں آتی رہتی ہیں ان سے کچھ ہونے والا نہیں۔ پانامہ کی حد تک تو شاید بات ایک ہی تناظر میں جانچی جاتی مگر ڈان لیکس کا ذکر کر کے وزیراعظم نے کم و بیش براہ راست ہی ’’بھائی لوگوں‘‘ کا حوالہ دے دیا۔ اس سے پہلے ایسی خبریں بھی شائع ہو چکی ہیں کہ نہ صرف جے آئی ٹی کی عمارت بلکہ اس کے ارکان پر بھی کسی اور کا کنٹرول ہے۔ بظاہر تو اس کی نگرانی سپریم کورٹ کے سپرد ہے مگر کوئی تو ہے جو اپنا کام دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جے آئی ٹی کے بعض ارکان پر حکومت کے مخالف ہونے کا الزام ہے۔ایک رکن بلال رسول سابق گورنر پنجاب میاں اظہر کے قریبی عزیز ہیں جن کا پورا خاندان فی الوقت تحریک انصاف میں ہے۔ بلال رسول کی اہلیہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست پر ایم پی اے بننے کے لئے مسلم لیگ (ق) جیسی جماعت کی امیدوار تھیں۔ ایک ایسی پارٹی جس کا کام ہی آمر کی قدم بوسی کر کے مفادات حاصل کرنا تھا۔عامر عزیز کو مشرف دور میں بھی شریف خاندان کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔گویا وہ پہلے ہی پارٹی بن چکے تھے۔

  • جے آئی ٹی اِدھر اُدھر سے ہدایات لینے کے بجائے میرٹ پر شفاف انداز میں کام کرتی تو شاید اس قدر متنازعہ نہ ہوتی۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے حیرت انگیز طور پر انہی افراد کے نام وٹس ایپ کال کے ذریعے مختلف محکموں کے سربراہوں کو بھجوائے جن کی اس کمیٹی میں شمولیت پر سوال اٹھائے جا سکتے تھے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر معاملے کی شدت کم کر دی کہ یہ نام ہم نے ہی دیئے تھے مگر چنگاری بجھی نہیں ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہیں یہ نام کس نے دیئے تھے۔جے آئی ٹی کے روبرو جس طرح سے وزیراعظم کے صاحبزادوں سمیت مختلف شخصیات کو طلب کر کے سوال جواب اور انتظار کے طویل سیشن کرائے گئے اس کے متعلق بھی تحفظات پیدا ہونا فطری امر تھا۔ وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع کو بیان سے منحرف ہونے کے لئے دھمکایا گیا اور یہاں تک کہا گیا کہ وزیراعظم بچ بھی گئے تو آپ کو سالوں جیل یاترا کرنا پڑے گی۔ جاوید کیانی کو بلا کر سیدھا سیدھا سلطانی گواہ بننے کا ’’حکم‘‘ دیا گیا۔ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کو بھی دھمکیاں دی گئیں ۔ان تمام شخصیات کی عزت نفس مجروح کرنے کے لئے گھنٹوں انتظار بھی کرایا گیا۔بغیر وقفے کے ہونے والے سوالات کے سیشن بھی کئی کئی گھنٹوں پر محیط تھے۔ حسین نواز شریف کی پیشی کے دوران ایمبولینس منگوا کر بزعم خود عسکری میڈیا نیٹ ورک پر جھوٹی خبر چلائی گئی کہ خوف اور گھبراہٹ کے مارے ان کی شوگر لو ہو گئی ہے۔ہر پیشی کے بعد میڈیا کے سامنے انتہائی اعتماد سے گفتگو کرنے والے حسین نواز کی دوران تفتیش ایک ایسی تصویر جاری کی گئی جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ ڈرے سہمے نظر آ رہے ہیں۔ سکرپٹ رائٹر کا منصوبہ شاید یہ تھا کہ وزیراعظم کو نااہل قرار دینے سے قبل پورے خاندان کو خوب رگیداجائے۔ حکمران خاندان کے مرحومین کے ٹیکس ریکارڈ اور جائیدادوں کے حساب کادائرہ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کی فیملی تک پھیلا دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اب تک تو یہی صورتحال ہے کہ ساری امیدیں کسی کے وعدہ معاف گواہ بننے سے وابستہ کر لی گئی ہیں کیونکہ پوچھ گچھ کے دوران تاحال کچھ نہیں ملا۔

    مسلم لیگ (ن) نے اس تمام صورتحال کے پیش نظر یقیناًصف بندی کر رکھی ہے۔ بیانات کے گولے بے مقصد نہیں داغے جا رہے ،ادھر اسٹیبلشمنٹ سے منسلک چھوٹی بڑی پارٹیاں ‘ مسلکی ٹولے اور میڈیا ہاؤسز بھی حرکت میں ہیں اور تو اور حالات کو گرم ہوتے دیکھ کر چودھری شجاعت نے بھی پریس کانفرنس کر ڈالی۔ موصوف نے انکشاف فرمایا کہ جسٹس سجاد شاہ کے دور میں ان کی مکمل جاسوسی کی جاتی تھی اور پتہ نہیں کیا کیا ہوتا تھا۔ مضحکہ خیز بات مگر یہ ہے کہ جب وہ سب کچھ ہو رہا تھا اس وقت ملک کے وزیر داخلہ چودھری شجاعت خود تھے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد یہ بھی کہا گیا کہ چودھری صاحب کو ’’اوپر‘‘ سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ موجودہ حکمرانوں پرالزامات لگانے کی مہم کو آگے بڑھائیں مگر اس سے کیا ہو گا، نہ پہلے کچھ ہوا نہ ہی اب ہو گا ہاں مگر لڑائی کے اصل فریق اگر حتمی ’’یدھ‘‘ کی راہ پر چل پڑے تو اللہ نہ کرے غدرمچ سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ،کارکن یہ فضا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جے آئی ٹی پوری طرح سے متنازعہ ہے اور اس کے پردے میں ’’بھائی لوگ‘‘ کام دکھا رہے ہیں ۔حکومت کے مخالفین کے لئے تو ’’کوا سفید ہی رہے گا‘‘ مگر رائے عامہ میں بھی یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ جے آئی ٹی میں بیٹھے لوگ اور ان کی سرپرستی کی ڈیوٹی ’’ازخود‘‘ سنبھالنے والوں کا ٹارگٹ انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ ہر صورت حکمران خاندان کو نشانہ بنانا ہے۔ سپریم کورٹ کے انتہائی قابل احترام معزز جج صاحبان سمیت کوئی مانے یا نہ مانے زمینی حقائق یہی ہیں کہ غیر یقینی اور بدگمانی کی گرد اڑنا شروع ہو چکی۔ اب جب وزیراعظم نے جے آئی ٹی کی طلبی پر پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اسے سراہا جانا چاہیے۔آزاد تجزیہ کاروں کی رائے یہی ہے کہ اس عمل سے جہاں ملک میں اداروں کے احترام کی روایت قائم ہو گی وہیں مسلم لیگ (ن) کو یہ پوائنٹ سکور کرنے کو ملے گا کہ نواز شریف نے اپنی ہی حکومت کے ماتحت افسروں کے سامنے پیش ہو کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

  • جے آئی ٹی کو صرف اتنا ہی کرنا ہے کہ غیبی اشاروں پر غیر ضروری زور نہ لگائے۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد واقعی ٹھوس ثبوت ملے ہیں تو عدالت عظمیٰ کو وزیراعظم کے خلاف کارروائی کا مکمل آئینی اور قانونی اختیار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے قربت کے دعویدار حلقے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ڈان لیکس پر ٹویٹ کی واپسی سمیت بعض معاملات نے ’’بھائی لوگوں‘‘ کو بے حد ناراض کر رکھا ہے، انہیں مطمئن کرنے کیلئے وزیراعظم کیخلاف کارروائی کرنا ضروری ہے’’بھائی لوگوں‘‘ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ قوم نے آج تک جو توقعات ان سے وابستہ کی تھیں وہ کس حد تک پوری ہوئیں، آئین اور قانون کے دائرے میں کون رہا اور کس نے روند ڈالا، بہتر ہو گا کہ ساری ناراضگی اور غصہ کو سرحد پار معاملات کیلئے بچا کر رکھا جائے کہ کسی بھی وقت رن پڑ سکتا ہے۔ اب تو افغان سرحد محفوظ ہے اور نہ ہی ایرانی سرحد سے ہوا کے ٹھنڈے جھونکے آنے کی امید باقی رہی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سے گزارش ہے کہ سیاسی حکومت کے احتساب کی ’’عظیم روایت‘‘ قائم کرنے کے بعد ہی مگر دوسری جانب بھی توجہ دیں، معاملات تو تازہ ہیں چلیں انہیں نہ چھیڑیں کم از کم سنگین جرائم میں ملوث مفرور مشرف کو ہی واپس لا کر کسی ٹھنڈی جگہ بٹھا کر اس کا بھی احتساب کر لیں، خود عدلیہ کی نیک نامی کیلئے جسٹس ارشاد حسن خان اور جسٹس ڈوگر سمیت ان تمام ججوں کا حساب بھی ہو جائے جو آئین روندنے والوں کی بیساکھی بنے تھے ۔اس کے بعد تمام اداروں میں موجود ایسے حاضر سروس اور ریٹائرڈ عناصر کو بھی پوچھ گچھ کیلئے بلالیا جائے۔ یہ عمل جلد یا بدیر ہونا تو بہر صورت ہے کیونکہ ملک کی بقاء اور ترقی کا واحد راز سب کے بے لاگ احتساب میں ہی مضمر ہے۔ باقی سب کو پینے پلانے، عیاشی اور رقص کرنے، مال ،دولت لوٹنے اور اڑانے کیلئے کھلا چھوڑ کر صرف شریف خاندان کو ’’رگڑا ‘‘دینے کے متمنی جان لیں اگلادنگل دلدلی اکھاڑے میں لڑا جائے گا۔ ایک فریق کو چت کر بھی لیاگیا تو خود کو فاتح سمجھنے والا جلد ہی خود کو دلدل میں دھنسا پائے گا۔

مزید : کالم


loading...