مستونگ آپریشن: چند تاثرات (2)

مستونگ آپریشن: چند تاثرات (2)
 مستونگ آپریشن: چند تاثرات (2)

  


مستونگ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے تھے۔ مولانا غفور حیدری کے قافلے پر حملہ اور چینی انسٹرکٹروں کا اغوا ایسے واقعات تھے جن کا فال آؤٹ پورے ملک اور بیرون ملک (چین تک) پھیل رہا تھا چین نے اپنے انسٹرکٹر واپس بلا لئے تھے اور حکومت نے وہ لینگوئج ٹریننگ سنٹر تا حکم ثانی بند کر دیا تھا۔ نہ صرف پاکستانیوں نے بلکہ چینیوں نے بھی سیکیورٹی انتظامات کے ناکافی ہونے کی طرف اشارے شروع کر دیئے تھے اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ دہشت گردوں کے آئندہ منصوبے بالا ترین سطح پر مرکزی اور صوبائی انتظامیہ کو جھنجوڑنا اور خبردار کرنا تھے۔ یہی وجہ تھی کہ سارا دباؤ سیکیورٹی اداروں پر آن پڑا تھا۔ جنرل عامر ریاض، کمانڈر سادرن کمانڈ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ چلانے میں دن رات ایک کر دیئے۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے سارا بلوچستان نیم صحرائی اور نیم کوہستانی علاقہ ہے۔ مجھے ان علاقوں میں دو بار سروس کرنے کا پانچ سالہ تجربہ ہے۔ ژوب سے گوادر تک اور خضدار سے ایرانی بلوچستان تک شائد ہی کوئی علاقہ ہوگا جہاں مجھے جانے کا اتفاق نہ ہوا ہوگا۔ 1970ء کے عشرے کے اوائل میں بلوچستان میں پہلی پوسٹنگ خضدار میں ہوئی اور وہاں مارچ 1973ء تک قلات سکاؤٹس میں کام کرنے کا موقع ملا اور دوسری بار 1982ء سے 1985ء تک کوئٹہ میں ایک ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں خدمات انجام دیں۔

1970ء کے عشرے کے اوائل کے برسوں میں کوئٹہ سے لے کر کراچی تک کوئی �آرمی یونٹ صف بند نہیں تھی۔ مارچ 1973ء میں جب مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں ٹھن گئی اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عطاء اللہ مینگل کو ذوالفقار علی بھٹو نے برطرف کر دیا تو تب فوج کی پہلی یونٹ خضدار میں وارد ہوئی۔ اسی ماہ میری پوسٹنگ اسلام آباد میں (آئی ایس آئی میں) ہو گئی اور جب میں خضدار سے نکل کر کوئٹہ جا رہا تھا تو آرمی کی گاڑیاں خضدار میں داخل ہو رہی تھیں۔

قلات سکاؤٹس ایک وَن ونگ کور تھی جو ڈی آئی جی فرنٹیئر کور بلوچستان کے ماتحت تھی۔ اس کی نفری اور دیگر سازو سامان ایک نارمل انفنٹری بٹالین کے برابر تھا۔ لیکین آفیسرز کی تعداد صرف 4تھی۔ میجر دلاور آفریدی اس کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ ان کے علاوہ تین آفیسر اور تھے۔ نارمل انفنٹری بٹالین میں تو آفیسرز کی تعداد 17 ہوتی ہے لیکن یہاں کی Toe مختلف تھی ہمارے تمام ٹروپس کا تعلق فاٹا سے تھا۔ جس آفیسر کو پشتو نہیں آتی تھی اسے یا تو یہ زبان سیکھنی پڑتی تھی یا اس کو پوسٹ آؤٹ کر دیا جاتا تھا۔ مجھے بھی تین ماہ کے اندر پشتو زبان کا امتحان پاس کرنا پڑا۔ میرا اپنا پس منظر بھی مدد گار ثابت ہوا۔ میرے پردادا لورالائی سے ہجرت کر کے ریاست بہاولپور میں آ بسے تھے اور پھر وہاں سے ہم لوگ پاک پتن چلے آئے تھے۔ والد صاحب کم کم پشتو بولتے تھے اور میں ان سے بھی کم کم پشتو جانتا تھا۔ لیکن یہاں پشتو بولنے والے ٹروپس میں گھل مل کر رہنے کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے جلد ہی پشتو بول چال سے ایک طرح کی اپنائیت ہو گئی اور اس طرح میں نے یہاں اڑھائی برس گزارے۔

سکاؤٹس اور ملیشیاء کی یونٹوں میں رہنے کا ایک مالی فائدہ بھی ہوتا تھا۔ آفیسرز کو تنخواہ کے علاوہ تقریباً 200 روپے ماہانہ سفر خرچ (Fixed T.A) ملا کرتا تھا۔ ان ایام میں کیپٹن کی ماہانہ تنخواہ 750 روپے ہوتی تھی۔ اس طرح 200 روپے کا یہ الاؤنس آفیسرز کے لئے ایک خاصا معقول مالی اضافہ تھا لیکن یہ ’’سفر خرچ‘‘ اس صورت میں ملتا تھا جب آپ مہینے میں چار گشتیں (Patrols) سر انجام دیتے تھے۔ ان کے نام IGFC گشت اور DIG FC گشت تھے۔ اول الذکر گشت میں آفیسر کو ٹروپس کے ہمراہ اپنے مقام تقرری سے باہر نکل کر 25 میل کی ریکی کرنی پڑتی تھی اور موخر الذکر گشت میں 15 میل کا فاصلہ پیدل طے کرنا ہوتا تھا۔

میری پوسٹنگ ہوئی تو کمانڈنگ آفیسر نے کہا: ’’کیپٹن جیلانی! یہاں ایجوکیشن کا کوئی تصور (Concept) نہیں تمہیں اپنے دوسرے دو آفیسرز کی طرح وہی فرائض انجام دینے پڑیں گے جو ایک نارمل انفنٹری یونٹ میں ادا کئے جاتے ہیں۔ انہی فرائض کی ادائیگی میں ایک ڈیوٹی یہ ماہانہ گشتیں بھی ہوتی تھیں۔ ہم ایک کمپنی یا کبھی ایک پلاٹون کو لے کر خضدار سے باہر کسی طرف نکل جاتے اور 25,20میل کی دو طرفہ مسافت طے کر کے شام کی واپس آجاتے تھے۔ ٹروپس کے ہمراہ ان کے ذاتی ہتھیار ہوتے تھے۔ آفیسرز کو ایک ریوالور اور ایک کاربائن ساتھ لے کر جانا پڑتا تھا۔ اس پیدل پیٹرولنگ کے دو فائدے ہوتے تھے۔ ایک یہ کہ آس پاس کے علاقے کی تفصیلی ریکی ہو جایا کرتی تھی اور دوسرے ’’شو آف فورس‘‘ کا اہتمام بھی ہو جاتا تھا۔ شرپسند وں کے لئے فورس کا یہ مظاہرہ ضروری تھا۔ اس وقت بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شرپسند (Miscreant) موجود تھے جن کا کام ٹریفک بلاک کرنا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور فوجی دستوں پر گھات لگا کر حملہ کرنا تھا۔ مقامی سیاستدان جو حکومت کے مخالف تھے ان کی سب سے بڑی دھمکی یہ ہوتی تھی کہ :’’ہم پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے‘‘۔

خضدار ، تقریباً چاروں اطراف سے کم بلند اور ننگے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے اور شرپسندوں نے انہی پہاڑوں میں اپنے کئی محفوظ ٹھکانے (Safe Havens)بنارکھے تھے۔ یہ ٹھکانے مخصوص جغرافیائی نقوش سے گھرے ہوئے ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر دشوار گزار گھاٹیاں تھیں اور گہرے غار تھے جن میں اترنا کارے دارد تھا۔ شرپسند خشک راشن لے کر ان غاروں اور گھاٹیوں میں جاچھپتے تھے۔ ان مقامات تک رسائی مشکل تھی۔ لیکن ہمارے گشتی دستوں نے مسلسل پیٹرولنگ کرکے خضدار کے آس پاس کے 25,20کلو میٹر علاقوں میں ان گھاٹ گاہوں(Ambush Sites)کی اچھی طرح دیکھ بھال کرکے ان کو نقشوں پر مارک کردیا تھا اور ان کو باقاعدہ نام دے دئے گئے تھے تاکہ بوقت ضرورت ان کی نشاندہی میں آسانی ہو۔ مستونگ سے لے کر لس بیلا تک ہم نے اردگرد کے اکثر پہاڑوں کو چھان لیا تھا اور ایک ایک کی تفصیل یونٹ ہیڈ کوارٹر میں موجود تھی۔

بلوچستان میں پانی کی شدید کمی ہے اس لئے پہاڑوں سے نکلنے والے چشموں کے پانی کو میدانی علاقوں میں لانے کے لئے کاریزیں کھودی جاتی تھیں (اور ہیں) ان کو ایک طرح کی زیرِ زمین نہریں کہا جاسکتا ہے۔ ان کو کھودنا اور دشوار پہاڑ ی علاقوں سے ہموار علاقوں تک لانا بہت ہمت طلب کام ہے۔ جو بلوچستان کے باسیوں نے بطریق احسن سر انجام دے رکھا ہے اور یہ طریقہ آبپاشی و آب رسانی صدیوں سے وہاں قائم ہے۔ آج بھی بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں کاریزیں (Karezs) موجود ہیں۔ یہ زیر زمین چھوٹی چھوٹی نہریں پاکستان میں کسی بھی اور جگہ نہیں پائی جاتیں۔۔۔

میں نے یہ تفصیل اس لئے دی ہے کہ قارئین کو اس دشوار گزار پناہ گاہ کا تصور دے سکوں جس میں وہ دہشت گرد چھپے ہوئے تھے جو مستونگ سے نکل کر اردگر د کے علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے تھے۔ اس قسم کی پناہ گاہ یا گھات گاہ کو مستور گاہ (Hide out) کا نام دیا جاتا ہے۔ان مستور گاہوں کا ایک جال سا سارے بلوچستان کے کوہستانی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ان تک پہنچنے کے لئے جب تک مقامی مخبروں اور ایجنٹوں سے رابطہ نہ ہو اور جب تک ان کو کلیئر کرنے کے لئے مطلوبہ عسکری فورس اور سامانِ جنگ وغیرہ موجود نہ ہو کوئی کامیاب کارروائی یا ایکشن لینا ممکن نہیں۔ میں زیر بحث مستونگ آپریشن اور اس کی یہ تفصیل اس لئے لکھ رہا ہوں کہ پڑھنے والوں کو معلوم ہو سکے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا کیف وکم کیا ہے اور اس لعنت کو ختم کرنے میں فوج کو کن کن مشکلات کا سامنا ہے جبکہ فوج کے مقابلے میں دہشت گردوں کو کن کن آسانیوں کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں۔ پہلے قارئین کے سامنے اس رپورٹ کا خلاصہ رکھنا چاہتا ہوں جو اس حالیہ مستونگ آپریشن کے بارے میں پاک فوج نے اپنے متعلقہ /بالا ہیڈ کوارٹرز کو ارسال کی ہے۔ چونکہ یہ رپورٹ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ارسال کی گئی ہے (اور مجھے بھی موصول ہوئی ہے) اس لئے اس کی سیکیورٹی درجہ بندی کو خفیہ (Secret) یا پوشیدہ (Confidential)نہیں کہا جا سکتا۔ آج کا ای (E) میڈیا اسی لئے تو ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یعنی وہ جو معلومات کسی ایسے دوست کو دے دیتا ہے جن کا اسے انتظار ہو وہی معلومات وہ کسی دشمن کو بھی دے دیتا ہے۔ جو اس کے لئے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔۔۔ تاہم یہ رپورٹ دیکھئے:

’’مستونگ آپریشن کا ایک مرحلہ۔۔۔ خبر ملی ہے کہ ایک غار میں داعش سے تعلق رکھنے والے درجن بھر دہشت گرد موجود ہیں۔ اس خبر کے ملتے ہی ایک لائٹ کمانڈو بٹالین نے مستونگ سے 50 میل پیچھے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ دہشت گردوں کا فرار روکا جا سکے۔ ان میں سندھ کا داعش کمانڈر بھی ہے جو غار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ یہ غاز ایک نہایت دشوار گزار علاقے میں واقع ہے۔ اور اس تک کوئی گاڑی نہیں جا سکتی‘‘۔

’’وہ گاڑی جس میں چینی باشندوں کو کوئٹہ سے اغوا کرکے لایا گیا تھا اس علاقے میں موجود تھی جسے متعلقہ حکام تک واپس پہنچایا جا چکا ہے۔ یہ دہشت گرد انتہائی تربیت یافتہ لوگ ہیں اور دو دن سے ہمارے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں ڈالے۔ سادرن کمانڈ نے اس آپریشن کے لئے ایک بریگیڈ کو یہاں بھیجا ہے۔ اس کے ساتھ ایک سپیشل آپریشنز ونگ (SOW) بھی ہے اور ایک لائٹ کمانڈو بٹالین بھی ہے: تجویز دی گئی ہے کہ تربیلا سے ایس ایس جی کی اینٹی ٹیررسٹ کمپنی کو کال کیا جائے جو ان دہشت گردوں کو یہاں سے نکالے۔ اگر یہ ٹارگٹ ہمارے ہاتھ آ گیا تو یہ دہشت گردوں کے لئے ایک بڑا سانحہ ہو گا کیونکہ اس میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے بارڈر پر واقعہ علاقوں کو کنٹرول کرنے والا داعش کمانڈر چھپا ہوا ہے‘‘۔

’’اس غار کے نزدیک ایک دوسری غار سے درج ذیل سامان پکڑا گیا ہے:

1۔چھ خودکش جیکٹیں

2۔گولہ بارود کا ایک بہت بڑا ذخیرہ

3۔سولر پلیٹوں کی بڑی تعداد جس سے بجلی پیدا کی جاتی تھی۔

4۔چینی کی تین بوریاں،300کلو گھی، صابن، چنے، گڑ اور دالیں

بریگیڈیئر بلال جو 20بریگیڈ کے کمانڈر میں وہ آپریشن کی کمانڈ کر رہے ہیں۔ جنرل عامر ریاض کمانڈر سادرن کمانڈ اوور آل کمانڈر ہیں۔ کوبرا ہیلی کاپٹروں اور پاک فضائیہ کو استعمال کیا گیا ہے لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ اس غار کی لوکیشن اتنی مشکل ہے کہ یہاں تک کسی فورس کا پہنچنا ناممکن ہے۔ جناح ٹاؤن کوئٹہ سے جو کار اغوا کرکے یہاں لائی گئی تھی اور جس میں چینی انسٹرکٹروں کو بھی لایا گیا تھا اس کو اس علاقے سے ریکور کرکے ہیڈکوارٹر میں بھیجا جا چکا ہے۔۔۔ باقی آئندہ۔۔۔‘‘(جاری ہے)

مزید : کالم


loading...