وزیراعظم نواز شریف کی مصالحتی کوششیں

وزیراعظم نواز شریف کی مصالحتی کوششیں

پاکستان نے سعودی عرب اور قطر کے درمیان اختلافات ختم کرانے کے لئے مصالحتی کوششیں تیز تر کر دی ہیں، وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اِس سلسلے میں سعودی عرب کے ہنگامی دورے کے بعد وطن واپس پہنچ کر ان کوششوں کے حاصل پر غور کر رہے ہیں۔ امکان ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کویت بھی جائیں گے، ساتھ ہی ساتھ متحدہ عرب امارات اور قطر کا دورہ بھی متوقع ہے۔امیر کویت اِس سے پہلے اپنی مصالحتی کوششیں الگ سے شروع کر چکے ہیں اور انہوں نے قطر کے ساتھ سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے فوری بعد اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا اور ریاض میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔ امیر کویت کی اِن کوششوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ اِن کے ذریعے تعلقات کی بحالی کا امکان کس حد تک پیدا ہوا ہے اور الجھی ہوئی گتھی میں پڑی ہوئی گرہیں کس حد تک سلجھائی جاسکی ہیں۔ سعودی عرب دورے پر جانے سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے عرب ممالک میں مقیم پاکستانی سفیروں سے خطاب بھی کیا اور کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے درمیان تناؤ ختم کرنے کے لئے مخلصانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک سے گہرے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

پاکستان کے نہ صرف سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں، بلکہ دوسرے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، سعودی عرب دُنیا بھر کو سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا مُلک ہے تو قطر پوری دُنیا کو گیس سب سے زیادہ برآمد کرتا ہے، پاکستان سعودی عرب سے تیل اور قطر سے گیس درآمد کرتا ہے اِس لحاظ سے اقتصادی مفادات کی وسعت اور گہرائی بھی معمول کے تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ خلیجی عرب ریاستوں میں40لاکھ پاکستانی بھی کام کرتے ہیں اور ہر ماہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی مُلک میں بھیجتے ہیں ان تمام اقتصادی مفادات کو بھی ہر لمحہ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب ایران بھی پاکستان کا برادر ہمسایہ مُلک ہے جس کے یمن کے بحران کے دوران سعودی عرب سے پیدا ہونے والے اختلافات اب وسیع تر ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ قطر کی سرحد بند ہونے کی وجہ سے قطر میں غذائی اشیا کی قلت پیدا ہونے کا جو خدشہ پیدا ہو گیا تھا اُس کے پیشِ نظر ایران نے فوری اقدام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں غذائی اشیا قطر بھیج دی ہیں، ترکی نے اپنی فوج قطر کی سرحد پر لگا دی ہے یہ سارے اقدامات بتاتے ہیں کہ سعودی عرب کے اقدام کے نتیجے میں عرب ممالک میں جو تفریق پیدا ہوئی ہے اس کی وجہ سے اِن ممالک کی باہمی تقسیم بڑھ گئی ہے اور کوئی نہ کوئی مُلک کسی ایک کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، لیکن پاکستان کی پوزیشن اِس لحاظ سے مثالی ہے کہ اس کے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ قطر اور ایران سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ ہمسائیگی کا رشتہ اس پر مستزاد !

ماضی میں اِس طرح کی صورتِ حال جب کبھی پیدا ہوئی پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اور مصالحتی کردار ادا کیا، ملک کا حکمران کوئی بھی ہو، پاکستان نے ہمیشہ اُمت کے مفاد میں اقدام اٹھایا۔ ایران عراق آٹھ سالہ جنگ کے دوران بھی پاکستان مسلسل کوششیں کرتا رہا کہ یہ جنگ بند ہو جائے، لیکن فریقین اپنے موقف سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور یوں یہ جنگ طول کھینچتی رہی اور اپنے وقت پر ہی اس وقت ختم ہوئی جب فریقین لڑتے لڑتے تھک ہار گئے۔یمن کا تنازعہ پیدا ہوا تو بھی وزیراعظم نواز شریف اور اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عرب اور ایران کے دورے پر گئے اور مصالحتی کوششیں کیں، لیکن یہ کوششیں بھی اِس لحاظ سے کامیاب نہ ہو سکیں کہ یمن کا بحران بھی تاحال جاری ہے اور اس بحران کی وجہ سے دونوں ممالک کے جو سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے وہ بھی بحال نہیں ہو سکے۔

اِس پس منظر میں اب یہ سوال اہمیت رکھتا ہے کہ کیا وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مصالحتی کوششیں کامیاب ہوں گی؟ یہ بحران یمن کے بحران سے زیادہ گہرا اور عمیق ہے، اور قطر نے فوری طور پر کشیدگی کے اثرات محسوس کرنا شروع کر دیئے ہیں اور جوں جوں وقت گزرے گا اس کے منفی اثرات زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئیں گے،لیکن قطر کو بعض امور میں سبقت اور برتری بھی حاصل ہے جو اِس بحران کے حل میں اس کی مدد کو آ سکتی ہے۔ قطر دُنیا کے بیشتر ممالک کو گیس برآمد کرتا ہے گیس کی اس قطری دولت کے محتاج امیر یورپی ممالک بھی ہیں اور عرب ممالک بھی، قطری گیس سے سردیوں میں برطانیہ کے ٹھٹھرتے عوام اپنے گھروں کوگرم کرتے ہیں۔ برطانیہ کی ضرورت کا ایک تہائی قطری گیس پورا کرتی ہے تو متحدہ عرب امارات کے تھرمل پاور سٹیشن قطری گیس کی وجہ سے بجلی پیدا کرتے ہیں، جو مُلک قطر کی گیس پر انحصار کرتے ہیں بحران کے گھمبیر ہونے کی صورت میں وہ اپنی گیس کی سپلائی بحال رکھنے کے لئے قطر کی مدد کو آ سکتے ہیں اور اِس بحران کے حل میں کوئی نہ کوئی ایسا کردار ادا کر سکتے ہیں،جو اس بحران کے حل میں مُمد ثابت ہو، کیونکہ قطری گیس رُکنے کی صورت میں برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا اور چین میں بھی توانائی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، اِس لئے یہ سب مُلک کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ بحران طویل سے طویل تر ہو، خود امریکہ بھی اگرچہ دہشت گردی کے معاملے پر قطر کے ساتھ اختلافات رکھتا ہے،لیکن وہ بھی چاہے گا کہ یہ بحران زیاہ طویل نہ ہو، کیونکہ ایسی صورت میں ایران اور قطر کے تعلقات زیادہ قریبی ہو جائیں گے اور کئی دوسرے مُلک بھی اُن کے ساتھ کھڑے ہوں گے،جو امریکی حکمتِ عملی کے خلاف ہو گا۔

امید کرنی چاہئے کہ پاکستان نے قطر اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیدا ہونے والی یہ تلخی کم کرانے کی جو کوششیں شروع کی ہیں اُن کا کوئی نہ کوئی مثبت نتیجہ ضرور نکلے گا، پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ وہ اِس بحران میں غیر جانبدار رہے،لیکن پاکستان کی پوزیشن اِس لحاظ سے نازک ضرور ہے کہ بحران کے تمام فریقوں کے ساتھ اُس کے تعلقات قریبی ہیں اور مصالحت کی کوششیں کرتے ہوئے اس کی نزاکتوں کو پوری طرح ملحوظ رکھنا ضروری ہے اس میں ذرا سی غیر محتاط جنبش پاکستان کی اپنی نازک پوزیشن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کے اندر اور باہر ایسی لابی موجود ہے جو ہر ایسے موقع پر پاکستان کی نازک پوزیشن کے استحصال پر اُتر آتی اور پَر پُرزے نکال لیتی ہے،ایسا مشاہدہ یمن کے بحران کے موقع پر ہوا، پھر اس کا اعادہ اس وقت ہوا جب اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کی تشکیل ہو رہی تھی۔ یہ معاملہ ذرا ٹھنڈا ہوا تو جنرل راحیل شریف کے اس اتحاد کی سربراہی کے معاملے نے بعض حلقوں کو خاصا پریشان کر دیا اور وہ اِس بات پر کھل کر سامنے آ گئے کہ جنرل راحیل شریف کو یہ پوزیشن قبول نہیں کرنی چاہئے، حالانکہ یہ پاکستان کا ایک ایسا اعزاز ہے جس کے مثبت نتائج بہت جلد پاکستان کے حق میں نکلنے والے ہیں،لیکن بعض عناصر خارجہ پالیسی کے ان نازک معاملات کو بھی اپنی سیاسی مصلحتوں کے طابع رکھنا چاہتے ہیں اس لحاظ سے وزیراعظم نواز شریف کی پوزیشن بھی خاصی نازک ہے ، تاہم دعا کرنی چاہئے کہ اُنہیں اس مشن میں کامیابی ہو کہ اسی کے ساتھ اُمت کا اتحاد جڑا ہوا ہے۔

مزید : اداریہ


loading...