مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی نئی لہر

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی نئی لہر

مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے کئی روز تک مسلسل بند رہنے کے بعد دوبارہ کھلنے پر طالب علموں نے زیادہ شدت سے احتجاج کیا ہے۔ طالب علموں نے بھارتی فورسز پر حملے تیز کر دیئے اور بھرپور احتجاج کرتے ہوئے مختلف تعلیمی اداروں پر پاکستانی پرچم بھی لہرائے۔ بھارتی فوجیوں نے حسب معمول سراپا احتجاج طالب علموں اور نوجوانوں پر آنسو گیس کے شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کر کے متعدد طالب علموں کو زخمی کردیا۔ نیشنل کانفرنس کے شریک صدر عمر عبداللہ نے تازہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے سیاسی بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی سرکار کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے سیاسی مفاہمت نہ کر کے حالات کو خطرناک حد تک خراب کر لیا ہے۔ عمر عبداللہ نے کشمیری قیادت اور پاکستان کی حکومت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کشمیریوں کی طرف سے تحریک آزادی کی نئی لہر بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ مختلف تجزیہ نگار برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ لہر بے مثال قربانیوں کی تاریخ مرتب کررہی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ بہت جلد نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔ گذشتہ کئی ماہ سے سرینگر اور دیگر علاقوں میں بھارتی فوجیوں نے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود تحریک آزادی کے متوالے ہر روز تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے احتجاج کرتے ہیں۔ نہتے کشمیری اینٹوں اور پتھروں سے بھارتی فوجیوں کی گولیوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ پیلٹ گن کا استعمال بھارتی فوجیوں نے اس خیال سے شروع کا کیا تھا کہ اس خطرناک ترین ہتھیار کی وجہ سے تحریک آزادی کا زور ٹوٹ جائیگا، لیکن اُن کا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ پلیٹ گن کے چھروں سے احتجاج کرنے والوں نے اپنے جسم چھلنی کروا لئے ایک ہزار سے زائد لوگوں کی آنکھوں میں چھرے لگنے سے بینائی ضائع ہوگئی۔ اس کے باوجود تحریک آزادی جاری ہے ، جس پر بھارتی فوجی ہی نہیں مودی سرکار بھی حیران ہے۔اس مرتبہ آزادی کی لہر کو خاص اہمیت حاصل ہے کہ اس میں نوجوان بہت بڑی تعداد میں شامل ہیں اور بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ خواتین بھی ماضی کی طرح تحریک آزادی میں پورے جوش اور جذبے سے شریک ہیں۔ چنانچہ سری نگر کے علاوہ وادی کے تمام اہم علاقوں میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف اور آزادی کا مطالبہ منوانے کے لئے مسلسل روزانہ کی بنیاد پر احتجاج ہورہا ہے۔ گذشتہ روز شوپیان میں سب سے زور دار احتجاج ہوا حریت کانفرنس کی قیادت نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے آزادی پسندوں کے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے ۔ کاش!مودی سرکار اس حقیقت کو تسلیم کرلے۔

مزید : اداریہ


loading...