بینکاری شعبہ نے متواتر توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ، سہ ماہی کارکردگی جائزہ رپورٹ جاری

بینکاری شعبہ نے متواتر توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ، سہ ماہی کارکردگی جائزہ ...

لاہور(کامرس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے 31 مارچ 2017 کو ختم ہونے والی سہ ماہی (پہلی سہ ماہی 2017) کی بینکاری شعبے کا سہ ماہی کارکردگی جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بینکاری شعبے کے اثاثوں میں توسیع ہوئی ہے جس کا سبب قرضوں اور سرمایہ کاری دونوں میں اضافہ ہے جبکہ اس توسیع کو ڈپازٹس میں معمولی اضافے اور مالی اداروں سے قرض گیری کے بڑھنے سے بھی تقویت ملی ہے۔ بینکاری شعبے کی نفع یابی معتدل ہو گئی ہے جبکہ اثاثہ جاتی معیار میں بہتری آئی ہے اور کفایت سرمایہ اطمینان بخش سطح پر رہی ہے۔سال کی پہلی سہ ماہی میں قرضوں کی روایتی واپسی کے عام رجحان کے برعکس 2017 کی پہلی سہ ماہی میں نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہو گیا۔ کارپوریٹ شعبے کی جانب سے معین سرمایہ کاری قرضوں کے علاوہ گنے کی پیداوار میں شاندار اضافے کے نتیجے میں چینی کے لیے فنانسنگ کی مد میں سرکاری و نجی دونوں شعبوں کی طرف سے لیے گئے قرضوں کی سطح بلند ہو گئی۔ کارپوریٹ شعبہ کم شرح سود اور بہتر کاروباری ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے طویل مدتی exposure کو بڑھا رہا ہے، جس سے تشکیل سرمایہ مستحکم ہو رہی ہے۔ صارفی فنانس میں گاڑیوں اور مورگیج کے قرضوں کا اس ذیلی جز کی نمو میں اہم حصہ رہا ہے۔ علاوہ ازیں مجموعی قرضوں کی نمو میں اسلامی بینکاری کا بھی خاصا حصہ ہے۔ڈپازٹس کو بینکاری شعبے میں فنڈنگ کے اہم ذریعے کی حیثیت حاصل ہے، 2017 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ان میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2016 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 0.6 فیصد کم ہوئے تھے۔ فنڈز کا بہاو زیادہ تر بچتوں (54 ارب روپے)، منافع بخش جاری کھاتہ (44 ارب روپے) اور دیگر زمروں میں دیکھا گیا۔ ڈپازٹس کے علاوہ مالی اداروں سے قرض گیری کے ذریعے اثاثوں میں توسیع کے لیے درکار فنڈنگ مہیا کی گئی۔غیر فعال قرضوں کا تناسب کم ہو کر 9.9 فیصد رہ گیا ۔

جس سے بینکاری شعبے کے اثاثہ جاتی معیار میں بہتری آ گئی۔ اس مثبت تبدیلی میں غیر فعال قرضوں میں 2.4 فیصد سال بسال کمی اور قرضوں میں 15.5 فیصد(سال بسال)کی مضبوط نمو کا اہم کردار ہے۔ انفیکشن کا تناسب 2009 کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر ہے۔2017 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بینکاری شعبے کو بعد از ٹیکس 49 ارب روپے منافع ہوا جبکہ 2016 کی پہلی سہ ماہی میں 52 ارب روپے ہوا تھا۔ منافع میں آنے والے اس اعتدال کے ساتھ ساتھ اثاثوں میں نمو سے اثاثوں پر منافع 1.2 فیصد پر آ گیا (جو آخر مارچ 2016 میں 1.5 فیصد تھا)۔شرح کفایت سرمایہ (CAR) 2017 کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی طور پر نجی شعبے کے قرضوں میں مسلسل نمو کی وجہ سے معمولی کمی کے بعد 15.9 فیصد پر آ گئی۔ بینک ادائیگی قرض کی صلاحیت کے حوالیسے اچھی پوزیشن میں ہیں کیونکہ شرح کفایت سرمایہ کی موجودہ سطح کم از کم مطلوبہ سطح 10.65 فیصد سے کافی بلند ہے۔سہ ماہی کارکردگی جائزہ درج ذیلhttp://www.sbp.org.pk/publications/q_reviews/qpr.htm لنک پر بھی دستیاب ہے۔

مزید : کامرس


loading...