چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے مقامی صنعتیں مستحکم ہونگی ، وزارت منصوبہ بندی

چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے مقامی صنعتیں مستحکم ہونگی ، وزارت ...

اسلام آباد (اے پی پی) پاک چین صنعتی تعاون پاکستان کو خطے میں پیداواری مرکز بنا دے گا۔ صنعتی زونز کے قیام سے مقامی صنعت کاروں کے لئے سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہونگے۔ چین کی صنعت پاکستانی صنعت کے لئے خطرہ نہیں بلکہ تجربہ مہارت اور سیکھنے کے مواقع لائے گی، چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے پاکستان کا صنعتی شعبہ مستحکم ہوگا، چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی سے بے روزگاری کا خاتمہ، مختلف شعبوں میں معلومات کا تبادلہ اور مہارت میں اضافہ ہوگا۔ منگل کو وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے حکام نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر میں 9 صنعتی زونز بنائے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ چھٹے جے سی سی اجلاس میں پاک چین صنعتی تعاون کے شعبے میں کام مزید تیز کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ پاک چین صنعتی تعاون کے تحت صوبوں کی جانب سے منتخب9 زونز کی شمولیت کا فیصلہ ہوا، اس مقصد کیلئے صوبوں نے مختلف مقامات کی نشاندہی کی تھی جن میں خیبر پختونخوا کی جانب سے رشکئی اکنامک زون اور سندھ کی جانب سے چائنہ اکنامک زون داریجی، بلوچستان کی جانب سے بوستان اکنامک زون اورپنجاب کی جانب سے چائنہ اکنامک زون شیخوپورہ، گلگت بلتستان کی جانب سے مقپونداس گلگت جبکہ کشمیر کی جانب سے بھمبر صنعتی زون کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ دارالحکومت اسلام آباد میں آئی سی ٹی ماڈل انڈسٹریل زون اورپورٹ قاسم میں پاکستان سٹیل مل کی اراضی پرانڈسٹریل پارک بنانے جبکہ فاٹا کی جانب سے مومند ماربل انڈسٹریل زون بنائیں جائیں گے۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین کے تعاون سے پاکستان میں صنعتی زونز قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی ترقی کا فروغ پاک چین اقتصادی راہداری کا چوتھا اہم ستون ہے، پاکستان اور چین کے مابین صنعتی تعاون کے نتیجے میں مقامی صنعت کو فروغ اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

، صنعتی تعاون کے نتیجے میں چین کی صنعتیں دیگر مملک منتقل ہونے کی بجائے پاکستان منتقل ہوں گی۔

مزید : کامرس


loading...