30ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ باعث تشویش ہے، خالد اقبال ملک

30ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ باعث تشویش ہے، خالد اقبال ملک

اسلام آباد (آن لائن) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خالد اقبال ملک نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 30ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ایک ریکارڈ اضافہ ہے اور جس سے معیشت کیلئے متعدد نئے مسائل پیدا ہوں گے لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ برآمدات کی بہتر حوصلہ افزائی کیلئے برآمداتی شعبے کو نئی مراعات فراہم کرنے پر غور کرے جس سے برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا اور تجارتی خسارے میں کمی واقع ہو گی۔انہوں نے کہا کہ 2013میں جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو پاکستان کا تجارتی خسارہ تقریبا 20ارب ڈالر تھا اور تاجر برادری یہ توقع کر رہی تھی کہ حکومت برآمدات کو بہتر فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔ تاہم اس کے برعکس 2013 تا2017کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے جو اس بات کا عکاس ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں برآمدات کو ان کی اصل صلاحیت کے مطابق فروغ دینے میں ناکام رہی ہیں۔

خالد اقبال ملک نے کہا کہ حکومت نے تین سالہ سٹریٹیجک تجارتی پالیسی میں 2018تک برآمدات کو 35ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن اس کے برعکس موجودہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں ہماری برآمدات کم ہو کر 18.54ارب ڈالر تک آ گئی ہیں جبکہ پچھلے سال اس عرصے میں ہماری برآمدات 19.14ارب ڈالر تھیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی کا رجحان برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے صنعتی شعبے کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کے دعوے کے باوجود برآمدات میں کمی پالیسی سازوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے2016سے برآمداتی شعبے کو بجلی کی قیمت میں 3روپے فی یونٹ کی رعایت فراہم کی ہے اور اس کے علاوہ حکومت نے ٹیکسٹائل و کپڑا، سپورٹس، چمڑے اور قالین شعبوں کو 180ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ تمام مراعات برآمدات کو ترقی دینے میں ناکام رہی ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں برآمدات کیلئے ماحول ابھی تک سازگار نہیں ہے ۔خالد اقبال ملک نے کہا کہ پاکستان برآمدات کیلئے زیادہ تر ٹیکسٹائل مصنوعات پر انحصار کر رہا ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کا حصہ کم ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انجینئرنگ گڈز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کرے جس سے ہماری برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور ملک کے تجارتی خسارے میں بھی مناسب کمی ہو گی۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے بجٹ 2017-18میں بھی برآمداتی شعبے کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی خاص اقدامات انہیں اٹھائے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت صنعتی شعبے کی بہتر ترقی ، کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے اور پاکستان کی مصنوعات کی مسابقت کو بہتر کرنے کیلئے نجی شعبے کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے جس سے ہماری برآمدات کو بہتر ترقی ملے گی اور تجارتی خسارہ کم ہو گا۔ #/s#

مزید : کامرس


loading...