معاشی شعبہ میں اصلاحات مالیاتی نظم و ضبط کے باعث افراط زر میں کمی

معاشی شعبہ میں اصلاحات مالیاتی نظم و ضبط کے باعث افراط زر میں کمی

اسلام آباد (اے پی پی) موجودہ حکومت کی جانب سے معاشی شعبے میں اصلاحات اورسخت مالیاتی نظم وضبط کے باعث افراط زر کی شرح میں بتدریج کمی لائی گئی ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2013میں اقتدار سھنبالنے کے وقت ملک میں عام آدمی کیلئے قیمتوں کا حساس اشاریہ 8.6فیصدکی سطح پر تھا،اس وقت اشیائے خوراک اورنان فوڈ اشیاء کیلئے افراط زر کی شرح بالترتیب 9.0اور8.3ریکارڈ کیا گیا۔تاہم حکومت کی جانب سے معاشی شعبے میں اصلاحات اورسخت مالیاتی نظم وضبط کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں کمی آنے کا سلسلہ شروع ہوا۔مالی سال 2014-15میں افراط زر کی شرح 4.445فیصد ریکارڈٖ کی گئی ۔ اشیائے خوراک اورنان فوڈ اشیاء کیلئے افراط زر کی شرح بالترتیب 3.5اور5.3فیصد رہی۔مالی سال 2015-16 میں عام آدمی کیلئے قیمتوں کا حساس اشاریہ 2.9فیصد کی سطح پر رہا، اشیائے خوراک اورنان فوڈ اشیاء کیلئے افراط زر کی شرح بالترتیب 2.1اور3.4فیصد رہی۔زرائع کے مطابق مالی سال 2016-17میں عام آدمی کیلئے قیمتوں کا اوسط حساس اشاریہ 4.1فیصد رہا اور اشیائے خوراک اورنان فوڈ اشیاء کیلئے افراط زر کی شرح بالترتیب 3.9اور4.3فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جولائی2016 سے لیکر اپریل 2017تک خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں 17.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

مزید : کامرس


loading...