سری لنکا کے خلاف جیت سے پاکستان کو سبق حاصل کرنا چاہئے

سری لنکا کے خلاف جیت سے پاکستان کو سبق حاصل کرنا چاہئے
 سری لنکا کے خلاف جیت سے پاکستان کو سبق حاصل کرنا چاہئے

  


پاکستان گرتے پڑتے سیمی فائنل میں پہنچ گیا ہے،جو سج دھج اور شاندار انداز سیمی فائنل تک پہنچنے کے لئے ٹیم کو درکار تھا ، ناقص بیٹنگ کے باعث صورتِ حال اس کے برعکس ہوئی،یوں پاکستان کی بیٹنگ کی روایت ،طرز ، ذہنیت رسوائے زمانہ کمزوری کے تحت برقرار رہی ۔اس طرح ڈراپ کیچز اورلوئر آرڈر بیٹسمین محمد عامر کے ذریعے ایک غیر معمولی اور غیر متوقع جیت حاصل ہوئی۔پاکستان کے چار بیٹسمین بغیر کسی پرفارمنس کے ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ بہتر ہوا کہ طویل عرصے سے ٹیم پر مسلط احمد شہزاد باہر ہوئے اور نوجوان فخر زمان کو موقع مل گیا۔پاکستان کی مڈل اور ٹاپ آرڈر بیٹنگ لائن اپ عرصہ دراز سے مشکلات کا شکار ہے۔پچھلے تین برس میں حفیظ اورشعیب ملک کی جگہ کوئی کھلاڑی متبادل کے طور پر دستیاب نہیں ہوا، نہ ہی قومی سلیکشن کمیٹی نے اس سلسلے میں کوئی گوہرنایاب تلاش کیا ۔ پاکستان کے اوّلین بلے بازوں سمیت وہ تمام بیٹسمین جنہوں نے اس میچ میں رنز کئے اور جنہوں نے رنز نہیں بھی بنائے،وہ سب پاکستان کے ابتدائی بگاڑمیں برابری کے حصہ دار ہیں۔ ٹیم میں شامل بیٹسمینوں کو علم ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ کمزور ترین ہدف کا تعاقب نہیں کرسکتی ،یہ ہمارا کلچر ہے۔ یوں فخر زمان اور اظہر علی بھی سیٹ ہو کر آؤٹ ہوئے ۔ کرکٹ میں سب کچھ ممکن ہے۔ میرا کامل یقین ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ بارش کی نذر نہ ہوتا تو پاکستان کی ٹیم کی بیٹنگ کایہی حشر ہوتاجوہم نے کل دیکھا۔ پاکستان کی باؤلنگ نے وہاں سے شروع کیا جہاں سے انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلا ف اختتام کیا تھا۔ حسن علی کی بعض گیندیں سری لنکن بلے بازوں کے لئے ناقابلِ فہم تھیں۔ حسن علی نے مینڈس کو اس وقت آؤٹ کیا،جب وہ ایک بڑی اننگ کھیلنے کی پوزیشن میں آچکے تھے۔پاکستان نے سری لنکا کی چوتھی، پانچویں ،چھٹی اورساتویں وکٹ صرف سولہ رنز دے کر حاصل کیں،یوں سری لنکا کی ٹیم اس بڑے میچ میں انتہائی کم سکور 236پر آؤٹ ہوئی۔اس میچ نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ پاکستان برصغیر میں فاسٹ باؤلر کے حوالے سے اس روایت پر قائم ہے جس نے اسے بھارت، سری لنکا ، بنگلہ دیش( اور اب افغانستان پر بھی) سبقت دے رکھی ہے۔پہلا میچ کھیلنے والے نوجوان آل راؤنڈر فہیم اشرف نے دو، جبکہ جنید خان اورحسن علی نے3،3 اورعامر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کے آغاز سے قبل پاکستان کی باؤلنگ سے اسی قسم کی پرفارمنس کی توقع تھی۔ سیمی فائنل تک رسائی باؤلنگ کی عمدہ کاوش اورنتیجے کے حوالے سے انتہائی تسلی بخش رہی،تاہم بیٹنگ کا معیار انتہائی ناقص تھا۔ ٹورنا منٹ کی چار ٹاپ کی ٹیموں میں سے پاکستان کی بیٹنگ سب سے کمزور ہے۔ سری لنکا کے خلاف ایک اچھے آغاز کے بعد بابر اعظم تشریف لائے اور انہوں

نے ثابت کیا کہ وہ صر ف مردہ وکٹوں کے کھلاڑی ہیں، وہ بڑے میچ اور بڑے ٹورنامنٹ کے کرکٹر نہیں،اگر ان میں چھپی صلاحیت ہے بھی تو اس کے لئے انہیں تجربہ اور وقت درکار ہے۔ ایک لمحے کے لئے محسوس ہوا کہ پاکستان کے کھلاڑی اہم ترین صورتِ حال اور موقع کی نزاکت سے فائد اٹھانے کی صلاحیت اور خوبی سے خالی ہیں۔پاکستان کی بیٹنگ کا معیار کلب لیول کی کرکٹ سے بھی کمترنظر آیا۔اکثر بیٹسمین متروک ہوچکے ہیں ۔انگلینڈ ایک مضبوط مدمقابل ہے ۔بظاہر جس طرح کا کھیل پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی میں پیش کیاہے، توقع ہے کہ سیمی فائنل میں کوئی کانٹے دار مقابلہ نہیں ہو گا ۔پاکستان کی ٹیم تیس اووروں کی ٹیم دکھائی دیتی ہے۔بہر حال کرکٹ کا کھیل بعض اوقات مضحکہ خیز نتائج بھی دے جاتا ہے۔اگر پاکستان نے ایک دو موثر تبدیلیاں نہ کیں اورچیمپئنز ٹرافی کے تین میچوں میں سرزد کوتاہیوں سے سبق حاصل نہ کیا تو نتیجہ ویسا ہی ہوگاجو اس ٹورنامنٹ میں سب دیکھتے چلے آئے ہیں۔اس صورتِ حال میں حارث سہیل کوبابر اعظم کی جگہ ٹیم کا حصہ ہونا چاہے۔حفیظ جس طرح سے بیٹنگ کررہے ہیں،اس سے بہتر شاداب پرفارم کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف انگلینڈ کودوہری سبقت حاصل ہوگی۔ انگلینڈ پاکستان سے بہتر ٹیم ہے اور وہ اپنے ہوم گراؤنڈ اور ہوم کنڈیشن کو بہت بہتر جانتی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے تما م میچز اس نے واضح برتری سے جیتے ہیں۔ پاکستان کو صرف اس کی فاسٹ باؤلنگ کی صلاحیت یا پھر کمزور بیٹنگ اگر پرفارم کر گئی تو فائنل کے لئے کوالیفائی کرنا ممکن ہوگا۔دیگر صورتِ حال انگلستان کے حق میں ہے اور وہ پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کو جیتنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔

مزید : کالم


loading...