مثبت مذاکرات کیلئے تیار غیر ملکی ڈکٹیشن قبول نہیں کرینگے ، اقوام متحدہ خلیجی ممالک سے فضائی حدود کا معاملہ حل کرائے : قطر

مثبت مذاکرات کیلئے تیار غیر ملکی ڈکٹیشن قبول نہیں کرینگے ، اقوام متحدہ ...

پیرس ،دو حہ (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)قطر نے زمینی ناکہ بندی ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی شہری ہوابازی کی تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ خلیجی ممالک سے اسکی فضائی حدود کا معاملہ حل کرایا جائے ۔قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ وہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کے معاملے پر مصالحتی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں ، ہم مثبت مذاکرات کیلئے تیار ہیں تاہم یہ مذاکرات عالمی قوانین کے ضوابط کے تحت ہونے چاہئیں ۔ ہمیں اب تک نہیں معلوم کہ ان ممالک نے کیو ں قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا؟ لیکن اتنا معلوم ہے بحران کی وجہ نہ تو ایران ہے اور نہ ہی الجزیرہ ۔ پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا قطر مذاکرات کیلئے تیار ہے اور خلیج کی سکیورٹی کے حوالے سے جو بات چیت کرنی ہے اس کیلئے تیار ہے،تاہم قطر غیر ملکی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔خارجہ امور سے تعلق رکھنے والی باتوں کے بارے میں کسی کو بات کرنے کا حق نہیں ۔ قطر پر عائد الزامات پر بات چیت واضح بنیادی اصولوں پر ہونی چاہیے۔ الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک قطر کا اندرونی معاملہ ہے اور قطر کیساتھ سفارتی تعلقات ختم اور اس پر پابندیاں لگانے والے ممالک کیساتھ اس میڈیا نیٹ ورک کی قسمت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔قطر کے اندرونی معاملات کے حوالے سے فیصلے قطر کی خود مختاری کے فیصلے ہیں اور کسی کو ان میں دخل اندازی کرنے کی ضرورت نہیں ۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے قطر پر فضائی پابندیاں صرف ان ایئر لائنز کمپنیوں پر ہیں جو قطر کی ہیں یا وہاں رجسٹر ہوئی ہیں۔متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب اور بحرین نے بھی فضائی پابندیوں کے حوالے سے بیان میں یہی کہا ہے کہ فضائی پابندیاں صرف ان ایئر لائنز کمپنیوں پر ہیں جو قطر کی ہیں یا وہاں رجسٹر ہوئی ہیں۔دریں اثنا مراکش نے خوراک سے بھرا ایک جہاز قطر کیلئے روانہ کیا ہے۔مراکش کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے خوراک بھیجنے کا تعلق قطر اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی بحران سے نہیں بلکہ یہ محض قطری عوام کیلئے ہے۔ادھرسعودی عرب کی جانب سے قطر کے واحد زمینی راستے کی ناکہ بندی کے نتیجے میں جہاں ایک طرف خوراک کا مسئلہ پیدا ہونے کے خدشات ہیں تو وہیں خلیجی ریاستوں میں بسنے والے قطری خاندانوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔قطر نے اشیائے ضرورت کی درآمد کیلئے نیا سمندری راستہ اختیار کیا ہے اور حماد بندرگاہ پر عمان کی بندرگاہوں سے سامان لایا جا رہا ہے۔دوسری طرف ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے مشرق وسطی میں عدم استحکام کا ذمہ دار امریکہ ہے اور امریکہ کی جانب سے داعش کیخلاف جنگ محض ایک جھوٹ ہے کیونکہ داعش خود امریکہ کی پیداوار ہے، امریکہ ایک دہشت گرد ملک ہے اور وہ خود دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے ۔ اسی لیے ایران ایسے ملک کیساتھ معمول کے تعلقات نہیں رکھ سکتا ۔

قطر

مزید : علاقائی


loading...