بجٹ میں محصولات کا جو فرق رکھا گیا وہ پورا ہو گا : مظفر سید ایڈوکیٹ

بجٹ میں محصولات کا جو فرق رکھا گیا وہ پورا ہو گا : مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور( نیوز رپورٹر )خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کے زیرصدارت شروع ہوا صوبائی بجٹ برائے سال 2017-18 پر عام بحث سمٹتے ہئے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ بجٹ میں محصولات کا جو فرق رکھا گیا ہے یہ اہداف پورے ہوں گے انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں میں ردوبدل کیا گیا ہے البتہ ٹیلرز پر قمیض شلوار کے حوالے سے جو ٹیکس رکھا گیا تھا وہ حکومت نے واپس لے لیا انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین پر کوئی ٹیکس نہیں لگایاہے انہوں نے کہاکہ حکومت کے مثبت پالیسیوں کے باعث آئل اور گیس کی پیدوار بڑھی ہے انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے لئے ہم دیگر صوبوں سے بھی رابطے میں ہیں سندھ اور بلوچستان ہمارے موقف کے حق میں ہیں اور ہم اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کیلئے صرف ٹوکن رقم رکھی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس سال امبر یلا سکیموں کو انکریج نہیں کیا گیا ہے اور ترقیاتی منصوبے ارکان کی مشاورت سے لینڈ بیس پر کئے جائیں گے صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور امتیازشاہد قریشی ایڈوکیٹ نے صوبائی اسمبلی کے اخراجات کیلئے 26 کروڑ 25 لاکھ 77 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا ایوان نے مطالبہ زر کی منظوری دے دی وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیرقانون نے محکمہ نظم ونسق عمومی کے اخراجات کیلئے 4 ارب 8کروڑ 20 لاکھ 7 ہزارروپے کا مطالبہ زرایوان میں پیش کیا ارکان اسمبلی میاں جعفر شاہ ،فخر اعظم وزیر ،محمود بیٹنی اور سردار حسین بابل اور عبدالستارخان نے کٹوتی کی تحاریک پیش کرتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنیا صوبائی وزیر قانون کی وضاحت کے بعد ارکان نے اپنی کٹوتی کی تحاریک واپس لیں اور ایوان نے مطالبہ زر کی منظوری دے دی ایک نکتے کے جواب میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ سرکاری ملازمین کیلئے سرکاری رہائش صرف چار ،پانچ فی صد کیلئے اور ان کی الاٹمنٹ میرٹ پر کی جارہی ہے وزیر خزانہ مظفرسید نے محکمہ لوکل فنڈ آڈٹ کے اخراجات کے سلسلے میں ایک ایک 34 کروڑ 10 لاکھ 94 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا ارکان اسمبلی سید محمد علی شاہ باچا ،محمد شیراز ،سردار حسین چترالی ،سلیم خان ،صالح محمد خان ،فخر اعظم وزیر ،شاہ حسین خان ،میاں جعفر شاہ ،محمود خان بیٹنی ،سردار حسین بابک ،ثوبیہ شاہد ،عبداستار خان ،اعظمی خان ،نجمہ شاہین ،میاں ضیاء الرحمن ،صاحبزادہ ثناء اللہ اور محمد رشاد نے مطالبہ زر پرکٹوتی کی تحاریک پیش کرتے ہوئے محکمے کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ،ایک نکتے کے جواب میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور سینئر وزیر عنایت اللہ نے ایوان کو بتایا کہ صوبائی اسمبلی میں نجی سودی قرضوں کے خلاف قانون منظور ہوا ہے ملکی سطح پرسوی نظام کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت کو اقدام کرنا چاہئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن ارکان سے لئے گئے سکیموں کیلئے فنڈز جاری ہوں گے انہوں نے کہا کہ دو سال تک ہمیں سی پیک سے بے خبررکھا گیا تاہم مشترکہ جدوجہد کے بعدمغربی روٹ کو کنفرم کروایا گیا انہوں نے کہا کہ ہم سی پیک کے حوالے سے ناکام نہیں ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چار ہزار مساجد کی سولر ائزیشن انرجی اینڈ پاور فنڈ سے کی جائے گی اور اس کیلئے فنڈز موجود ہیں اس لئے اے ڈی پی میں ٹوکن رقم مختص کی گئی ہے معاون خصوی میاں خلیق الرحمن نے محکمہ منصوبہ وترقی اور شعبہ شماریات کے اخرجات کیلئے 33 کروڑ 70 لاکھ 80 ہزارروپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا ارکان اسمبلی سردار حسین چترالی ،سلیم خان ،میاں جعفر شاہ ،آمنہ سردار ،سردار حسین بابک ،عبدالستار خان اور صاحبزادہ ثناء اللہ نے کٹوتی کی تحاریک پیش کیں معاون خصوصی میاں خلیق الرحمن کی وضاحت کے بعد ارکان نے اپنی کٹوتی کی تحاریک واپس لیں اور ایوان نے مطالبہ زرکی منظوری دے دی سینئر وزیر برائے صحت شہرام خان ترکئی نے محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اخراجات کیلئے 9 کروڑ 59 لاکھ 82 ہزار روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا بعض ارکان اسمبلی نے مطالبہ زر پر کٹوتی کی تحاریک پیش کرتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ،جس کے بعد سپیکر اسد قیصر نے اجلاس کل دوپہرے دو بجے تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

مزید : علاقائی


loading...