وزیر اعظم کی پیشی، سمن موصول ہوگیا، کل پیش ہوں گے

وزیر اعظم کی پیشی، سمن موصول ہوگیا، کل پیش ہوں گے

سیاسی ڈائری

اسلام آباد سے ملک الیاس

پانامہ لیکس سے متعلق بنائی گئی جے آئی ٹی میں وزیراعظم محمدنوازشریف کے بیٹوں حسین نوازاور حسن نواز کی پیشیوں کے بعد اب کل جمعرات کو وزیراعظم محمدنوازشریف کی پیشی ہونے جارہی ہے ،وزیراعظم محمدنوازشریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کو مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہی ہیں حکومت کی حلیف جماعتیں وزیراعظم کے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے فیصلے کو جرائت مندانہ اقدام قرارد ے رہی ہیں جبکہ حکومت مخالف اپوزیشن جماعتیں اسے حکمرانوں کی تلاشی کانام دے رہی ہیں اس حوالے سے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے جے آئی ٹی میں جانے کے فیصلہ سے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے‘ محض نعرے اور بیان بازی نہیں‘ وزیراعظم کا جی آئی ٹی جانے کا فیصلہ پاکستان کے آئین اور قانون کی عملی پاسداری کا ثبوت ہے‘انکا کہنا تھا کہ اوروں کی طرح وزیراعظم محمد نواز شریف نے کسی عذر یا بہانے کا سہارا نہیں لیا بلکہ پاکستان کے عوام کے اعتماد کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا‘ وزیراعظم ہاؤس کو جے آئی ٹی کا سمن موصول ہوگیا ہے ، وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے کل 15 جون کو پیش ہوں گے،وہ احتساب کیلئے پہلے روز سے ہی تیار تھے، شریف خاندان نے تحفظات کے باوجود قانونی راستہ اختیار کیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری اور دانیال عزیز کا بھی اس حوالے سے بیان سامنے آیا ہے انکا کہنا تھاکہ وزیراعظم نواز شریف نے کل جمعرات کو جے آئی ٹی میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے انہوں اپوزیشن خصوصاً کر تحریک انصاف پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے جے آئی ٹی میں پیشی کے فیصلے کے ساتھ ہی کچھ لوگوں نے اچھل کود شروع کردی ہے پتہ نہیں اب انہیں کس بات کا مسئلہ ہے ، وزیر اعظم نے خود کو احتساب کے لئے پیش کرنے کا فیصلہ اسی دن کر لیا تھا جس دن انہوں نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا، وزیر اعظم کا نام پانامہ پیپرز میں بھی نہیں ہے پھربھی وہ معزز عدلیہ کے سامنے سرنگوں ہیں ، حسین نواز کی تصویر ان کی تذلیل کرنے کے لئے لی گئی ہمیں اس سے بہت دکھ ہوا، ن لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عمران خان فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن سے تاریخ پر تاریخ لے رہے ہیں ۔ عمران خان پر آئینی اداروں کی تذلیل کا الزام ہے ۔ ان کی عدالت میں بطور ملزم آواز لگائی جاتی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ قواعد و ضوابط سے بالا تر کسی بھی چیز کا نوٹس لیا جانا چاہیے ،حکومتی اتحادی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم نوازشریف کے پانامہ سکینڈل میں مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے فیصلہ کوجرائت مندانہ اقدام قرار دیا ہے مولانا فضل الرحمن کے مطابق نوازشریف کے فیصلے کی ہر سطح پر پزیرائی کی جارہی ہے وزیراعظم پر الزام درست نہیں ہے اس لئے انھوں نے جے آئی ٹی کا سامنے کرنے کا فیصلہ کیا ہے وزیراعظم نے اپنے فیصلے سے ثابت کیا ہے کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں نوازشریف نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم جمعرات کو جے آئی ٹی میں پیشی سے قبل مستعفی ہوجائیں ، نوازشریف مجرم ہیں، ان پر منی لانڈرنگ کا الزام سے وزیراعظم کے خلاف تفتیش ہو رہی ہے ، وہ دنیا کے دورے کر رہے ہیں ، نوازشریف جے آئی ٹی میں پیش ہو کر احسان نہیں کر رہے ، تحقیقاتی ٹیم میں پیش ہونے والے وزیراعظم کی کوئی عزت نہیں کرتا ، سنا ہے نوازشریف جے آئی ٹی کے باہر اپنے لوگ لا رہے ہیں ، اگر سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالا تو ہم ان کو اپنی طاقت دکھائیں گے ، شریف خاندان کا پہلی مرتبہ احتساب ہورہا ہے ، دو ڈھائی ہفتے کی گیم ہے ،ان کا وقت ختم ہوگیا ہے کوئی ملک ان کو نہیں بچا سکتا ، قطری خط جھوٹ ہے اگر سچ ہوتا تو قطری شہزادہ پاکستان آجاتا ، ماڈل ٹاؤ ن واقعہ کی رپورٹ بھی سامنے لائی جائے۔پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ نواز شریف ڈرامہ کرنے کیلئے جے آئی ٹی میں پیش ہو رہے ہیں،بند کمرے میں تحقیقات کا مقصد شریف خاندان کوفائدہ پہنچانا ہے۔

قومی اسمبلی میں صحافیوں کی جانب سے گزشتہ روز ہری پور میں ایک نجی چینل اور اخبارکے صحافی کے قتل کے خلاف اور دیگر مطالبات کی منظور ی کیلئے اجلاس کا بائیکاٹ اور اجلاس سے واک آ ؤ ٹ کیاگیابعد ازاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور خیبرپختونخوا حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور وفاقی حکومت سے مقتول صحافی کے ورثاء کیلئے امدا دکامطالبہ کیا گیا،وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب نے صحافی بخشیش الٰہی کے قتل کی بھرپور مذمت کی، انکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت معاملہ پر جوڈیشل انکوائری کرائے اگر اس کو وفاقی حکومت کی مدد چاہیے وفاقی حکومت تعاون کرنے کیلئے تیار ہے،وفاقی حکومت شہید صحافی کے خاندان کو وزیراعظم کے شہداء پیکج سے معاوضہ ادا کریگی ، صحافیوں کے تحفظ اور ویلفیئر کیلئے بل جلد اسمبلی میں پیش کیا جائیگا ، صحافیوں کے تمام مسائل مستقل بنیادوں پر حل کئے جائیں گے،دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بجٹ تقاریر سرکاری ٹی وی پربراہ راست نشر نہ کرنے پر تیسرے ہفتے بھی ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھا او ر مطالبات زر کی منظوری کے عمل میں بھی شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا، اپوزیشن اور حکومتی رکن کیپٹن(ر)محمد صفدر کے مابین رکن اسمبلی جمشید دستی کی گرفتاری پر تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،اپوزیشن نے حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ،اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جب حکمرانوں کے ذہنوں میں آمریت کی خواہشیں جگہ بنا لیں تو اپوزیشن کی مخالفت برداشت کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، پھر ایوانوں کے درودیوار ہلنا شروع ہوجاتے ہیں اور مضبوط دیواریں ریت کی دیواریں بن جاتی ہیں،سعودی اتحاد کا حصہ بننے کی وجہ سے پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ،حکومت نے بجٹ میں اپوزیشن کو ایوان سے باہر نکال دیا ، حکومت خود ہی بحث کرتی رہی اور اپنے منہ میاں مٹھو بنتے رہے، (ن) لیگ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، جمشید دستی کو مظفر گڑھ سے گرفتار کر کے ملتان لایا گیا ، ہمیں جمشید دستی سے جیل میں ملنے نہیں دیا گیا،اگر نوازشریف بھی گرفتار ہو جائیں توان کا بھی پروڈکشن آرڈر جاری ہونا چاہیے ۔ حکومتی ارکان کیپٹن محمد صفدر اور شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا،اپوزیشن لیڈربجٹ پر زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹہ بول لیتے ،خورشید شاہ چوہدری نثار علی کی طرح چا ر چار گھنٹے طویل تقریریں نہیں کر سکتے، پانامہ سیکنڈل نوازشریف کے نہیں پاکستان کے نظریے اور سی پیک کے خلاف ہے ، شریف خاندان جے آئی ٹی سے بھی بری ہوگا ، جمشید دستی نے سارے ایوان کو بدنام کیا تھا اور ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کمیٹی کی سفارشات ایوان میں پیش کی جائیں تاکہ موصوف کا اصل چہرہ سامنے آسکے،اس موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر نے شاہ محمو دقریشی کوآڑے ہاتھوں لیا او ر انکو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا انکا کہنا تھا کہ شاہ محمو د قریشی کے والدکو گورنر کسی اور نے نہیں بلکہ نوازشریف نے بنایا تھا، ان کے قول وفعل کے تضاد کی وجہ سے لوگ خانوادوں پر انگلی اٹھاتے ہیں ، میں کرامات پر یقین رکھتا ہوں مگر شاہ محمود کی کرامت نہیں مانتا کہ انہوں نے پاکستان میں بیٹھ کر چین میں فاطمی صاحب کو وزیراعظم کیساتھ دیکھ لیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...