کیا صوبائی بجٹ توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوسکے گا ؟

کیا صوبائی بجٹ توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوسکے گا ؟

تحریک انصاف کی حکومتی کا الوداعی بجٹ اپنے تمام دعوؤں اورمیگا پروجیکٹ کے ساتھ سامنے آہی گیا وزیر خزانہ مظفرسید ایڈوکیٹ اور بعض حکومتی اراکین نے اس بجٹ کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیئے مگر بہت تیزی کے ساتھ اس بجٹ کے تلخ حقائق بھی آشکار ہوگئے بجٹ پیش کرنے کے دوران نہ صرف اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر اجلاس کا بائیکاٹ کیا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین نے بھی بجٹ پرتنقید کرتے ہوئے اپنی حکومت کی کرپشن کے سیکنڈلز پرشور مچا نا شروع کردیا مالی سال 2017-18ء کا بجٹ دیگر تمام حکومتوں کی طرح خیبرپختونخوا کی حکومت کیلئے بھی ایک الوداعی بجٹ تھا جس سے غیرمعمولی توقعات وابستہ تھیں اور خیال کیا جارہا تھا کہ تحریک انصاف اپنی پہلی حکومت کا آخری بجٹ ایسا شاندار پیش کرے گی جس سے نہ صرف عوام سمیت دیگر حلقوں کو ریلیف ملے گا بلکہ اسی بجٹ کو انتخابی نعرے کے طورپر بھی استعمال کیا جائے گا مگریہ تمام توقعات مایوسی میں تبدیل ہوگئیں بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ الفاظ کا ردوبدل کرکے ٹیکسوں کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا یہاں تک کہ سرکاری ملازمین پر بھی نئے ٹیکس لگا دیئے گئے جو پہلے ہی مختلف اشکال میں اپنی تنخواہوں پر ٹیکس ادا کرتے چلے آرہے ہیں صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین پرجو ٹیکس نافذکئے گئے ہیں اس سے نچلے درجے کے ملازمین کو بھی استثنیٰ نہیں دیا گیا بجٹ میں کم وبیش 80 فیصد سابقہ منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کرکے چند نئے میگا پراجیکٹ شامل کئے گئے ہیں جن میں سوات ایکسپریس وے اور ریپڈبس سروس وغیرہ قابل ذکر ہیں اس صورتحال پر اسمبلی میں خاصی گرما گرم بحث ہورہی ہے ۔

دوسری طرف صوبائی دارالحکومت پشاور کیلئے برائے نام بجٹ مختص کرنے کیخلاف سرحد چیمبر آف کامرس نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام دیا ہے کہ اسمبلی سیشن کے دوران دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت کی حلیف پارٹی جماعت اسلامی کے کم سے کم تین ارکان سمیت خود تحریک انصاف کے بعض ممبران بھی احتجاج کرنے والوں میں شامل ہوگئے ان اراکین کا موقف قابل غور ہے کہ گذشتہ برسوں کے بجٹ میں ان کے حلقوں کیلئے جو فنڈز مختص کئے گئے تو وہ فنڈز ان کو نہیں ملے قابل غور بات ہے کہ مذکورہ فنڈز اگر متعلقہ ایم پی ایز کو نہیں ملے توپھر وہ بھاری فنڈز کہاں گئے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی قربان خان نے اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی قربان خان نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو سے اپیل کی کہ وہ نوشہرہ میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کرے ہم اس کرپشن کے حوالے سے نیب کو ضروری ثبوت اور شواہد مہیا کرنے کیلئے تیار ہیں قربان خان نے کہا کہ اس صوبے میں سچ بولنا اپنی تباہی کو دعوت دینے کے مترداف ہے مگر آج وہ سچ بول کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں قربان خان نے کہا کہ نوشہرہ میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہورہی ہے اراکین اسملی کو جاری کئے جائے والے فنڈز ان کو نہیں ملتے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ فنڈزکہاں جاتے ہیں قربان خان نے کہا کہ سونامی بلین ٹری منصوبہ صوبائی حکومت کے گلے پڑ چکا ہے اس منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے حکومت اپوزیشن کے حلقوں میں تحریک انصاف کے غیرمنتخب کارکنوں کو فنڈزجاری کررہی ہے تمام منصوبوں پربھاری کمیشن لی جارہی ہے قربان خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت نے ایک خاص مقصد کے تحت نیب زدہ بیوروکریٹ کو خیبر پختونخوا اکناملک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کا چیف ایگزیکٹو بنایا ہے اس طرح خیبرپختونخوا کی معیشت ایک نیب زدہ آفیسر کے حوالے کردی گئی نیب نے اس ضمن میں مذکورہ آفیسر کی تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ایک مراسلہ لکھتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا میں یہ کیا ہورہا ہے ؟ قربان خان اپنی تقریر میں بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ خیبر پختونخوا کے تمام منصوبے کمیشن کی بنیاد پر الاٹ کئے جارہے ہیں جس میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے ہیں لہذانیب سمیت تمام متعلقہ ادارے اس حوالے سے تحقیقات کریں ہم ان کو ثبوت فراہم کرینگے تحریک انصاف کی حکومت پرکرپشن کے الزامات عائد کرنے کے حوالے سے قربان خان پہلے رکن صوبائی اسمبلی ہیں نہ ہی آخری ا ن سے پہلے ضیاء اللہ آفریدی اوریاسین خان خلیل سمیت متعدد ایم پی ایز اورایم این ایز صوبائی حکومت پرکرپشن کے سنگین الزامات عائد کرچکے ہیں جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہی ہے ان تمام ارکان نے ماضی قریب میں اپنا ایک الگ گروپ بنا کر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کوعہدے سے ہٹانے کی بھی تحریک شروع کی تھی تاہم عمران خان کی مداخلت کے بعد ناراض اراکین پارلیمنٹ کو خاموش کرادیا گیا صوبائی حکومت کو اپنے صوبے کے میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کرپشن کی داستانیں دب جاتی ہیں بلکہ حکومت کیخلاف احتجاج اورمظاہرے کرنے کی خبریں بھی اشاعتی صفحات سے غائب ہوجاتی ہیں اب قربان خان اوران سے پہلے دیگر ارکان کی طرف سے کرپشن کیخلاف پر زور آواز اٹھانے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگران کے تمام الزامات میں سچائی نہیں ہے تو تمام الزامات یکسر جھوٹ بھی نہیں ہیں حکومتی اراکین کی طرف سے کرپشن کے معاملات کی نشاندہی اورتحقیقات کے مطالبات سے اس بات کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں تحریک انصاف ہی کے اراکین اپنی حکومت کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن جائینگے جب تحریک انصاف کی حکومت سابقہ حکومت کہلائے گی صوبائی حکومت اقتدار میں آکر کرپشن اور سفارش کلچر کیخلاف شور مچاتی رہی حکومت کی طرف سے اپنی ذات کے سوا ہرایک کو چور قرار دیا گیا مگر اب حالات پلٹا کھاتے نظر آرہے ہیں کیونکہ عوامی اورسرکاری حلقوں میں بھی کرپشن کی کچھ داستانیں گردش کررہی ہیں جن کا ذکر ابھی تک تو اراکین اسمبلی نے کیا اور نہ ہی یہ داستانیں میڈیا کی زینت بن سکیں ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...