جے آئی ٹی فریق ہے؟

جے آئی ٹی فریق ہے؟
 جے آئی ٹی فریق ہے؟

  


میری قومی تاریخ ایسے ڈھیر سارے مقدموں سے بھری پڑی ہے جن میں سمجھا یہ جاتا رہا ہے کہ فیصلہ کمرہ عدالت میں بیٹھے منصف کریں گے ، ہاں، وقتی طور پر یہی ہوا کہ فیصلہ کورٹ روم میں بیٹھے ججوں نے ہی لکھا اور اسے اخبارات و جرائد میں عدالت میں بیٹھی ہوئی شخصیات سے ہی منسوب کیا گیا مگر ان مقدموں کااصل فیصلہ تاریخ نے دیا، انہیں حقیقت میں منصفوں کی بجائے مورخ نے لکھا اور ہم بطور قوم ایک مرتبہ پھر ایسی ہی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، ہمارے قانون دان ایسی ہزاروں داستانوں کے راوی اور امین ہیں جن میں تحقیق اور تفتیش کرنے والے خود فریق بن گئے، اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا جے آئی ٹی بھی ایسی ہی تاریخ لکھ رہی ہے تو اہل فکر و نظر کے لئے اس سوال کا جواب تلاش کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔

بات اس فیصلے سے شروع ہو گی جسے برسوں یاد رکھنے کی بات کی جا رہی تھی، یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جسے درحقیقت فیصلہ کہا ہی نہیں جا سکتا تھا کہ جس معاملے میں یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس میں مزید تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہے تو اس پر فیصلہ نہیں دیا جا سکتا اور جہاں فیصلہ دے دیا جائے وہاں مزید تحقیق اور تفتیش نہیں ہوتی مگر پانچ رکنی بنچ کے فیصلے میں یہ دونوں باتیں موجود تھیں۔ دومعزز ججوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا اور تین کو مزید تحقیق و تفتیش ہی درکار نہیں تھی بلکہ انہوں نے یہ عمل اپنے نامزد کردہ خصوصی افسران سے کروانا تھا۔ یہاں اپنی پسند کے افسران کے چناو کے لئے غیر روایتی راستے بھی اختیار کئے گئے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ تفتیش کار بہرحال شریف خاندان کے نامزد کردہ نہیں ہونے چاہیے تھے مگر آپ کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا تعلق مخالف دھڑے سے بھی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ انہیں وزیراعظم محمد نواز شریف کے صاحبزادوں کو وی آئی پی پروٹوکول دینا چاہئے تھا مگر شریف خاندان کو ان قانونی استحقاقات سے بھی محروم نہیں کیا جانا چاہیے تھا جن میں سے بہت ساروں سے وہ پہلے خود ہی دستبردار ہو چکا تھا یعنی وہ ایک ایسی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جس کے لئے انہیں ملکی قانون پابند نہیں کرتا، وہ غیر ملک میں کاروبار کرتے ہیں اوریہاں انہیں اپنے کاروباری معاملات میں استثنیٰ حاصل ہے ۔

طارق شفیع اور جاوید کیانی کے بعد نیشنل بنک کے صدر سعید احمد نے شکایت کی کہ انہیں دباو میں لایا جا رہا ہے،قانونی ماہرین نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر خود منی ٹریل مانگتی تو اس کی ذمہ داری شریف خاندان پر ہوتی لیکن جب جے آئی ٹی قائم ہوگئی تو اب بار ثبوت کی تلاش اسی ٹیم کی ذمہ داری ہے، آزاد رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے قرار دیاکہ جے آئی ٹی اپنے مقصد میں ناکامی کے بعد ڈرادھمکا کر وعدہ معاف گواہ تراشنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں ہی حسین نواز شریف کی انٹیروگیشنرروم سے ایک تصویر لیک کر دی گئی، یہ تصویر ابتدائی طور پر ایک بے نامی سوشل میڈیااور پھر پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے اکاونٹ سے سامنے آئی۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ میں کہتی ہے کہ اس نے اس تصویر بارے پانچ جون کو انکوائری مکمل کرتے ہوئے چھ جون کو مکمل رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کر دی مگر حیرت انگیز طور پر سات جون کی سماعت میں اس بار ے کوئی انکشاف نہیں کیا گیا۔ یہ حکمران خاندان کو دباو میں لانے اور ایک رائے عامہ بنانے کی کوشش تھی جوالٹی گلے پڑ گئی۔تمام تر ہتھکنڈے استعمال کرنے والی جے آئی ٹی نے کہا کہ سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کیاجا رہا ہے، ایک سنگین الزام ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ عمران خان انداز کا الزام تو نہیں ہے کہ عملی طور پر جے آئی ٹی اس وقت جناب عمران خان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کے کھڑی ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چودھری جے آئی ٹی کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔ جب کسی طرف سے حدیبیہ پیپرز مل کی تحقیقات بارے بات نہیں کی جا رہی تھی تو وہ جے آئی ٹی کے ارکان کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشافات کر رہے تھے وہ حدیبیہ ریکارڈ چیک کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کو تصویریں او رمواد کون فراہم کر رہا ہے کیا اس بارے تحقیقات کا حکم ہوا، ہرگز نہیں، اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے جس جے آئی ٹی نے یہ ہمت نہیں کی کہ حسین نواز شریف کی تصویر لیک کرنے والے کا نام لے سکے،وہ جے آئی ٹی اب منتخب ،آئینی اور جمہوری وزیراعظم سے سوالات کرے گی، حسین نواز کی تصویر کے لیک ہونے سے ذمہ دار کو چھپانے تک کی کہانی نے واٹس ایپ کالز سے قائم ہونے والی جے آئی ٹی کی حقیقت پوری طرح کھول کے رکھ دی ہے۔

اب ہم اس جواب کی طرف آجاتے ہیں جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پرمجبور کیا ہے۔ جے آئی ٹی نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے ( یااس کے تابع) ایک رکن نے تصویر لیک کی۔ حسین نواز کی اس بارے درخواست پر جے آئی ٹی نے جواب میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ قابل غور ہیں، کہا گیا،’’ اس کے ارکان اور اس کی کارروائی کو دانستہ،بدنیتی سے ناقابل اعتبار اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر ہدف کیا جا رہا ہے‘‘، اب ذرا دوبارہ تصویر والے معاملے کو دیکھئے اور اس جواب کو دیکھ کے ہنس دیجئے۔ مزید کہا گیا، ’ حسین نواز کا من گھڑت بیان جے آئی ٹی اور اس کے کام کو بے توقیر کرنے کی سوچی سمجھی چال اور جے آئی ٹی کے ارکان کے خلاف معزز بنچ کے ارکان کوبدگمان کرنے کی نہایت مایوسی کے عالم میں دانستہ کوشش ہے‘۔ اب یہ امر الگ ہے معزز بنچ کے ارکان کی طرف سے پہلے ہی منتخب حکومت کو سسلین مافیا قرار دیا جا چکا ہے اور اس سے پہلے والے بنچ میں ایک فاضل جج منتخب وزیراعظم کوکسی قانونی نظیر اوربنیاد کی بجائے گاڈ فادر کے نام سے محض اس وجہ سے پکار چکے ہیں کہ وہ ایک ایسے غیر ملکی ناول کی شہرت چاہتے ہیں جس کا ترجمہ ان کے ایک دوست صحافی نے کیا ہے ورنہ اس فیصلے سے پہلے اس ناول سے پاکستان کی ایک فیصد آبادی بھی آشنا نہیں تھی۔جے آئی ٹی اپنے جواب میں تصویر لیک کرنے والے مجرم کے نام اور ادارے کا ذکر کرنے کی بجائے اسے اپنے طور پر ہی فرد واحد کا عمل قرار دیتے ہوئے جوڈیشئل انکوائری کو غیر ضروری قرار دیتی ہے جیسے اس سے پہلے واٹس اپ کالز کے ذریعے ایک متعصب اور جانبدار تحقیقی ٹیم کے قیام کی خبروں کی حقیقت تک بھی نہیں پہنچا گیا۔ نامعلوم وجوہات پر احسانات کو فراموش کرتے ہوئے وزیراعظم سے دشمنی میں پی ٹی آئی کی حدوں کو چھونے والے اعتزاز احسن بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ خبریں درست ہیں ( اور جو اب تک درست ہی ثابت ہو رہی ہیں) تو پھر وزیراعظم اور ان کے خاندان کے جے آئی ٹی کے بارے میں تحفظات درست ہیں۔ اس درخواست میں جے آئی ٹی کی طر ف سے چنے گئے الفاظ تعصب اور جانبداری کو پوری طرح واضح کر رہے ہیں لہذا سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم نواز شریف کوایک جانبداراور متعصب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا چاہئے اوروہ کون سے سوالات ہیں جو حسین نواز سے سات، سات گھنٹے لمبی پانچ اور حسن نواز سے دو پیشیوں میں بھی نہیں پوچھے جا سکے جو اسی کی دہائی سے ہی کاروبار سے الگ ہوجانے والے محمد نواز شریف سے پوچھے جائیں گے۔

ان تمام سوالات کو رہنے دیجئے مگر میں ایک بات جانتا ہوں کہ پاناما کو عمران خان اور ان کے حواریوں نے اچھالا اور سوچا کہ اس کے ذریعے وہ مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کی مقبولیت پر ڈاکہ ڈال سکیں گے مگر وہ اسی طرح ناکام رہیں گے جس طرح وہ دھاندلی کے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے تھے۔ پاناماکیس میں ہرآنے والے دن میں میاں نواز شریف کے لئے عوام کی ہمدردیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور یہ قوم اب اتنا تو جاننے، بوجھنے اور سمجھنے لگی ہے کہ ہر مرتبہ منتخب وزرائے اعظم کو ہی یہ سزائیں اور اذیتیں کیوں ملتی ہیں اور آئین شکنی کے طاقت ور مجرم کیوں اعلیٰ ترین عدالتوں کو ٹھینگا دکھا کر زبردستی فرار ہوجانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔میں پھر کہوں گا کہ اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کچھ منصفوں نے کرنا ہے تو وہ غلطی پر ہے، اصل فیصلہ پاکستان کے عوام اور تاریخ کریں گے۔ ایسے بہت سارے سیاسی فیصلے میرے سامنے پڑے ہیں جن کا ذکر چھیڑوں تو شرم والوں کی نظریں جھک جائیں، ہاں، ایک آخری سوال کیایہ ضروری ہے کہ محب وطن نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں کے جرم کی سخت ترین سزا دینے کے بعد دن رات کی محنت سے کئے جانے والے معاشی دھماکوں کی سزا بھی دی جائے؟

مزید : کالم


loading...