جنگی بحری جہازوں کی مختلف ممالک کے پانیوں میں موجودگی کا مقصد فرقہ واریت پر قابو پاناہے، ایرانی بحریہ

جنگی بحری جہازوں کی مختلف ممالک کے پانیوں میں موجودگی کا مقصد فرقہ واریت پر ...

تہران (اے پی پی) ایرانی بحریہ کے کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ اپنے جنگی بحری جہازوں کو مختلف ممالک کی بندرگاہوں پر پہنچانے کا مقصد فرقی واریت پر قابو پانا ہے۔ ایران کے خبر رساں ادارے کے مطابق تہران میں ایرانی بحریہ کے خلیج عدن سے واپس لوٹنے والے 46 ویں فلیٹ کی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں موجود رہنے ا ور دیگر ممالک کی بندرگاہوں کے قریب جانے کا مقصد ایران دشمنی اور فرقہ واریت پر قابو پانا ہے۔ایرانی بحریہ کے کمانڈر نے ایرانی مفادات کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی موجودگی میں توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کی بندرگاہوں سے قریب ہونے کا ایک اسٹریٹجک ہدف ایرانی ثقافت کو ان ممالک میں پرموٹ کرنا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج عدن جزیرہ نما عرب کے جنوبی ساحلوں پر ہند اوقیانوس کو بحیرہ احمر سے ملانے والے ایک اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے اور سعودی عرب کی زیر قیادت کولیشن کے یمن میں جاری فوجی آپریشنوں کے حوالے سے ایک حساس مقام ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...