بڑا مزہ ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کردے

بڑا مزہ ہو تمام چہرے اگر کوئی بے نقاب کردے

تجزیہ:قدرت اللہ چودھری

جوائنٹ انویسٹی گیشن (جے آئی ٹی) کے بارے میں سنا تو یہی تھا کہ بڑی احتیاط اور چھان پھٹک کے بعد منتخب کی گئی ہے اور اس میں جو لوگ شامل ہیں وہ فن تفتیش کے آزمودہ کار افسر ہیں۔ اب اس ٹیم کی جو کارکردگی سامنے آئی ہے سپریم کورٹ اس پیش رفت سے مطمئن بھی ہے لیکن جو لوگ پیشیاں بھگت کے آئے ہیں وہ کوئی اچھی تصویر پیش نہیں کرتے، چلیئے ان کے ساتھ تو اچھا سلوک نہیں ہوا ہوگا اس لئے انہوں نے شکایت کردی، آپ کہہ سکتے ہیں کہ ذاتی تجربے سے گزرنے کے بعد وہ ذاتی دکھوں کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اس مضمون نگار کے ساتھ تو جے آئی ٹی نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی جس نے اس ٹیم کا نام ہی بدل دیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نہیں بلکہ جوائنٹ انسلٹنگ ٹیم (توہین کرنے والی مشترکہ ٹیم) ہے، مضمون نگار چونکہ خود کسی تفتیش سے نہیں گزرے اس لئے انہیں یہ طعنہ بھی نہیں دیا جاسکتا کہ وہ یہ لکھ کر اپنے ذاتی دکھوں کا بدلہ لے رہے ہیں۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو جو کام سونپا گیا تھا وہ اسے 60 دن میں مکمل کرنا تھا لیکن اب یہ ٹیم اپنا مقدمہ لے کر باقاعدہ درخواست گزار ہو رہی ہے کہ یہ کام ساٹھ دن میں مکمل نہیں ہوسکتا کیونکہ بعض ادارے تعاون نہیں کر رہے۔ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ سرکاری ادارے ریکارڈ ٹمپر کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ریکارڈ بدلا جا رہا ہے۔ اب اس الزام کا ہدف کونسا ادارہ ہے یہ نہیں بتایا گیا، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ وہ کون سے ادارے ہیں جو ایک ایسی جے آئی تی سے تعاون نہیں کر رہے جو نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کو پانچ گھنٹے انتظار کرا سکتی ہے اور اس طویل انتظارکے بعد بارہ گھنٹے تک ان سے سوالات کرتی ہے اور وزیراعظم کے کزن کو یہ تک کہہ سکتی ہے کہ وہ تو شاید چھوٹ جائیں لیکن تم پکڑے جاؤ گے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر وزیراعظم کے ایک دوست جاوید کیانی کو یہ تک پیشکش کر ڈالی گئی کہ وہ وزیراعظم کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں یہ تمام واقعات اخبارات میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیشنل بینک کے صدر نے تو اپنے ساتھ کئے جانے والے سلوک کی سپریم کورٹ کے نام خط میں باقاعدہ شکایت کردی ہے یعنی یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں ہے نہ کسی نے زیب داستان کیلئے بڑھائی ہے۔ سعید احمد نے اپنی ہڈ بیتی بیان کی ہے اگر اس میں کوئی مبالغہ ہے تو اس مبالغہ آرائی کے ذمہ دار وہ خود ہیں اخبار کا کوئی رپورٹر یا اس پر اظہار خیال کرنے والا کوئی کالم نگار نہیں ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کے کزن طارق شفیع نے بھی جو شکایت کی وہ خود بیان کی، وزیراعظم کے دوست جاوید کیانی کو اگر وعدہ معاف گواہ بننے کی پیشکش کی گئی تو یہ بات بھی انہوں نے خود بتائی، جے آئی ٹی کہہ سکتی ہے کہ ان سب لوگوں نے سچ نہیں بولا۔

جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کی ہے کہ حسین نواز کی تصویر لیک کرنے کے ذمہ دار شخص کو اس کے محکمے میں واپس بھیج دیا گیا ہے البتہ یہ نہیں بتایا کہ یہ شخص کون تھا جس نے تصویر لیک کی اور اس کے محکمے کا کیا نام تھا جس میں اسے واپس بھیجا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے محکمانہ کارروائی کی تفصیل بھی موجود نہیں تاہم یہ امید ہے کہ معاملہ جب آگے بڑھے گا تو تصویر لیک کرنے کے ذمہ دار (بلکہ مجرم) کا نام بھی کسی نہ کسی وقت سامنے آ ہی جائے گا لیکن اس وقت تو کسی نہ کسی طرح اس نام کو چھپایا گیا ہے حالانکہ اس وقت ضرورت تھی کہ یہ نام منظرعام پر لایا جاتا کیونکہ اس وقت زیر بحث موضوع تو یہی ہے کہ آخر یہ تصویرکس نے اور کیوں لیک کی؟ بعض لوگ تو جلد بازی میں یہ تک کہتے رہے کہ تصویر مسلم لیگ (ن) نے خود لیک کی ہے، حالانکہ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس یہ تصویر کس طرح آئی، جبکہ خود سوشل میڈیا پر یہ تصویر جاری کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ پہلا شخص ہے جو یہ تصویر جاری کر رہا ہے۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ تمام تر تفصیلات کے ساتھ بتا دیا جائے کہ جن صاحب نے یہ تصویر لیک کی ان کا نام کیا ہے اور ان کا تعلق کس محکمے سے ہے اور جو محکمانہ کارروائی تصویر لیکس کے بعد کی گئی ہے اس کی نوعیت کیا ہے؟ اسی سوال کے ساتھ ایک دوسرا سوال جڑا ہوا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ اس طرح کی کوئی تصویر لیک نہیں ہوگی۔ کیا ایک ہی شخص تھا جو رخصت ہوگیا اور اب کوئی دوسرا شخص ایسی ہی کوئی تصویر لیک کرنے کا حوصلہ نہیں کرے گا۔ جے آئی تی نے ریکارڈ ٹمپرنگ کی جو بات کی ہے وہ کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔ ایس ای سی پی اور ایف بی آر پر الزام لگایا گیا ہے دونوں ادارے یہ ماننے سے انکاری ہیں۔ پھر یہ ہے کہ ایسا کون سا ریکارڈ ہے جس کی ٹمپرنگ کی جا رہی ہے لیکن جو بھی محکمہ کر رہا ہے تو ایسا کرنے والے بہت ہی سادہ لوح ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف 2000ء میں نیب میں حدیبیہ شوگر ملز کا ریفرنس تیار کیا گیا تھا، شہادتیں نہ ملنے کے باعث یہ کیس بند کردیا گیا۔ 2007ء میں جب شریف برادران واپس آئے تو نیب نے یہ ریفرنس تیار کرکے عدالت میں بھیج دیا جس کے خلاف میاں نوازشریف کی والدہ نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ جو کیس بند ہوچکا ہے اسے دوبارہ نہیں کھولاجاسکتا۔ لاہور ہائیکورٹ کا ڈویژن بنچ اس مسئلے پر تقسیم ہوگیا، ایک فاضل جج کی رائے تھی کہ کیس دوبارہ نہیں سنا جاسکتا جبکہ دوسرے فاضل جج کا کہنا تھا کہ دوبارہ سماعت ہوسکتی ہے جس پر ایک ریفری جج مقرر کیا گیا جنہوں نے فیصلہ دیا کہ سماعت نہیں ہوسکتی اس کے بعد یہ کیس بند ہوگیا۔ اس کا ریکارڈ کئی عدالتوں میں موجود ہوگا، نیب کے پاس بھی ہے۔ اب فرض کریں اس کی ٹمپرنگ ہو رہی ہے تو اس کا کیا فائدہ؟ یہ تو فائر بیک کر جائے گا ایک دفتر کا ریکارڈ بدلنے سے کیا ہوگا اس لئے جب تک متفق طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ کون سا ریکارڈ ٹمپر کیا گیا ہے اس وقت تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ممکن ہے اگر اس الزام کی باقاعدہ تحقیقات ہو تو کوئی اصلیت سامنے آئے۔ فی الحال تو اس کی کوئی حیثیت نہیں اوربظاہر لگتا ہے کہ جے آئی ٹی نے جو یہ موقف اختیار کیا ہے کہ 60 دن میں تفتیش مکمل نہیں ہوسکتی اس کا جواز اس بات کو بنایا گیا ہے کہ ادارے تعاون نہیں کر رہے اور ریکارڈ ٹمپرنگ کر رہے ہیں لیکن ان سب اداروں کو بے نقاب کیوں نہیں کیا جاتا؟

مزید : تجزیہ


loading...