خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں۔۔۔!

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں۔۔۔!
 خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں۔۔۔!

  


اورماڑہ شہر سے ایک دلچسپ خبر رپوٹ ہوئی ہے جس کے مطابق شہر کی میونسپل کمیٹی کے اجلاس میں حجاموں کو یہ ہدائت کی گئی ہے کہ وہ دوران رمضان کسی کی بھی داڑھی نہ مونڈیں اورداڑھی کا خط اسلامی طریقے کے مطابق بنائیں۔یہ خبر دراصل ہمارے اس عجیب و غریب قومی مزاج کی نشان دہی کرتی ہے، جس کے مطابق ہم مذہبی احکامات کے معاملے میں بھی سخت قسم کی افراط و تفریط کا شکار ہیں۔بلاشبہ داڑھی سنت رسول ﷺ ہے اور اس کا بڑا اجر ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ داڑھی رکھنا تمام آئمہ کے نزدیک واجب یا فرض نہیں۔ دوسری طرف اللہ کی تمام تر کتابوں میں معاشرتی مسائل کو بطور خاص موضوع بنایا گیا ہے۔کیا یہ خقیقت نہیں کہ ہمارے ہاں ہر سال رمضان کے موقع پر اشیا کئی گنا مہنگی کر دی جاتی ہیں۔ بازاروں میں ہر سطح پر لوٹ کھسوٹ کا قبیح عمل شروع ہو جاتا ہے خصوصا اشیاء خوردُ نوش تو اس قدر مہنگی کر دی جاتی ہیں کہ غریب عوام کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔راقم کبھی اُس بوڑھے شخص کو فراموش نہیں کر سکتا جس سے برسوں پہلے شناسائی ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ صاحب غُر بت کی دلدل میں اس قدر پھنسے ہوئے ہیں کہ سحری اور افطاری کے وقت سوکھی روٹی اور ایک پیاز یا آلو وغیرہ کے سوا کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔لیکن وہ صاحب پھر بھی مکمل روزے رکھتے تھے۔کاش اورماڑہ شہر کی کمیٹی میں بیٹھے محترم علماء کو اس غریب بوڑھے جیسے ہم وطنوں کا خیال بھی آ جاتاجو رمضان میں ذخیرہ اندوزوں کے ہاتھوں پُورا مہینہ ایک دردناک عذاب سہتے ہیں۔ کاش ہم کوئی ایسا میکنزم بنانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ہر رمضان میں کبھی یہ نہ سننا پڑے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی اشیا کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی گئی ہیں۔اگر داڑھی رکھنا سنت ہے تو غریبوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا فرض ہے، بلکہ فرض اولین ہے لیکن ہم عجیب قوم ہیں ہم نوافل اور سنتوں پر تو زور دیتے ہیں لیکن فرائض سے پہلو تہی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ہر سال رمضان میں لاکھوں پاکستانی عمرہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں تمام آئمہ کے نزدیک عمرہ ایک نفلی عبادت ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک نفلی عبادت کے لئے تو دو چار ہفتہ کی چھٹی بھی لے لیتے ہیں اور دو تین لاکھ روپے بھی خرچ کر دیتے ہیں لیکن اس وقت اور پیسے کا عشرَ عشیر بھی اپنے ارد گرد پھیلی غُربت کو دور کرنے کے لئے استعمال نہیں کرتے۔جی ہاں رمضان کریم کے دوران وطن عزیز میں مخیر حضرات غریبوں، مسکینوں کی کافی مدد کرتے ہیں لیکن کاش جو اربوں روپیہ ہم نفلی عبادات پر خرچ کرتے ہیں وہ بھی غریبوں کی مدد کرنے جیسے فرائض کی ادائیگی میں خرچ کرنا شروع کر دیں یہاں ہم بڑے ادب سے گزارش کریں گے کہ بے شک عمرہ کریں ایک بہت بڑی سعادت ہے لیکن یاد رہے تمام تر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا مقام ایک نفلی عبادت کا ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اپنی مخلوق سے بے پناہ پیار کرنے والا اللہ آپ سے اس بات پر زیادہ خوش ہو گا کہ آپ نے اس کے غریب مسکین روزہ داروں کے لئے آسانیاں پیدا کیں اور راحت کا انتظام کیایا وہ اس بات پر زیادہ خوش ہو گا کہ آپ لاکھوں روپے خرچ کر کے اس کے گھر کی زیارت کرنے چلے گئے۔

یاد رہے ہمارے محبوب نبیﷺ کا فرمان ہے کہ میں قیامت کے د ن غریبوں کے ساتھ ہوں گا۔کتنی ہی احادیث ہیں جن میں غریب کو کھانا کھلانے ،قرض دار کو ادائیگی کے لئے سہولت دینے پر زور دیا گیا ہے لیکن افسوس ہمارے بیشتر علماء ان روشن تعلیمات کو عوامُ الناس کے سامنے اس طرح سے مسلسل پیش نہیں کرتے جس طرح وہ نفلی عبادات اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ضمن میں کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے دور اقتدار میں ملا عمر کے ایک حکم پر ان تمام بیکریوں کو بند کر دیا گیا جن میں خواتین بڑی تعداد میں کام کرتی تھیں۔مقصد تھا کہ عورتوں کے پردے کے حوالے سے اسلامی احکامات پر اپنے تئیں عمل کروایا جائے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ اُن محنت کش عزت دار خواتین کا ایک حصہ سڑکوں پر بھیک مانگنے پر مجبور ہو گیا کہ پیٹ کا دوزخ بھرنا بھی تو ضروری تھا۔معاف کیجیے ہمارے ہاں علماء کی یہی بے بصیرتی ہے آج کی نوجون نسل مذہب کے حوالے سے کئی سوالات ذہن میں لئے نظر آتی ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے علماء حق اس رمضان ایک فتوی جاری کریں جس میں عوام کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بتایا جائے کہ عمرہ جیسی نفلی عبادت پر خرچ کرنے کی بجائے اگر وہ یہی رقم اپنے خاندان،اپنے محلے اپنے شہر اور اپنے ملک کے ضرورت مند لوگوں پر خرچ کریں تو انہیں نہ صرف ایک عمرے کا ثواب ہو گا، بلکہ انہیں اس نیکی کا وہ اجر عطا کیا جائے گاجو ان کی سوچ سے بھی باہر ہے۔

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اسکا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا

مزید : کالم


loading...