حکومت کیجانب سے کشمیریوں کی سفارتی و اخلاقی مدد کہیں نظر نہیں آتی،عبدالرحمن مکی

حکومت کیجانب سے کشمیریوں کی سفارتی و اخلاقی مدد کہیں نظر نہیں آتی،عبدالرحمن ...

ملتان،وہاڑی(سٹی رپورٹر،بیورو رپورٹ، نمائندہ خصوصی)دفاع پاکستان کونسل و جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا ہے کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جارہی ہے۔ حکومت کی طرف سے کشمیریوں کی سفارتی واخلاقی مدد کہیں نظر نہیں آتی؟۔ مظلوم کشمیری قوم پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہے۔ کشمیر پاکستان کا قومی مسئلہ ہے‘ اس (بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

تحریک میں دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں۔ حافظ محمد سعید کو بھارتی دباؤ پر نظربند کیا گیا۔کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا ریکارڈ دنیا کے سامنے لایا جائے۔ میڈیا مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں سینئر اخبار نویسوں اور کالم نگاروں کے اعزاز میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعۃ الدعوۃ جنوبی پنجاب کے مسؤل ابو معاذ عمران،میاں سہیل احمدو دیگر بھی موجود تھے۔حافظ عبدالرحمان مکی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی قربانیوں و شہادتوں کا راستہ اختیارکرنے سے ہی ملے گی۔ حکمرانوں کی کمزور پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر بھارت سرکار سرحدی حدود کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ مصائب و مشکلات میں مبتلا افراد کی ہرممکن وسائل کے ساتھ مدد شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دس ماہ سے کشمیر میں تحریک عروج پر ہے۔تحریک آزادی کشمیر میں لازوال قربانیاں دی جا رہی ہیں۔معصوم بچے،طالبات میدان میں ہیں مگر ہم خاموش ہیں۔ پاکستان میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے کے‘ موقف سے لوگ منحرف ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان میں مجرمانہ خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نواز شریف نے برہان وانی کی شہادت کے بعد ایک تقریر کی اس کے بعد اب تک خاموش ہیں۔ہمیں اس عظیم قومی مسئلے کو اجاگر کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے غلام حکمران ہیں۔حکمران قومیں بنایا کرتے ہیں مگر یہاں قومیں ٹوٹ رہی ہیں۔حافظ محمد سعید کو نظربند کیا گیا۔جنوری میں حافظ محمد سعید نے اعلان کیا تھا کہ سال2017کشمیر کے نام کرتے ہیں۔اس اعلان کے بعد انہیں نظربند کر دیا گیا۔حکومت نے کشمیریوں کی اخلاقی،سفارتی حمایت کا اعلان کیا تھا وہ کہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا وزیر خارجہ ہی نہیں۔کشمیر کے حوالہ سے خارجہ پالیسی واضح نہیں،مشیروں کے ذریعے ملک چلایا جا رہا ہے۔دریں اثناء جامع مسجد مبارک وہاڑی نماز فجر کے بعد اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر خود اقوام متحدہ لیکر گیا لیکن اس کی قراردادوں پر آج تک عمل نہیں کیا۔ مسلمان اپنے مسائل کے حل کی خاطر بیرونی قوتوں اور اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا چھوڑ دیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی قربانیوں و شہادتوں کا راستہ اختیارکرنے سے ہی ملے گی۔حافظ محمد سعید ودیگر رہنماؤں کی نظربندی بیرونی دباؤ کانتیجہ ہے۔ حکمرانوں کی کمزور پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر بھارت سرکار سرحدی حدود کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔ مصائب و مشکلات میں مبتلا افراد کی ہرممکن وسائل کے ساتھ مدد شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔ مسلمان بھائیوں کے دکھ درد بانٹنے کیلئے ہر شخص کو جذبہ اخوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...