زکریا یونیورسٹی ‘ 5 ماہ تک ایک کمپنی کو 100 سپلائی آرڈر دیئے جانیکا انکشاف

زکریا یونیورسٹی ‘ 5 ماہ تک ایک کمپنی کو 100 سپلائی آرڈر دیئے جانیکا انکشاف

ملتان(سٹاف رپورٹر) بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں5ماہ میں ملی بھگت سے ایک ہی کمپنی کو ایک ہی شعبے کے 30 لاکھ روپے سے زائد کے100سپلائی آرڈر دئیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔تفصیل کے مطابق زکریا یونیورسٹی کے شعبہ پرچیز میں ہونے والی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں جہاں ملی بھگت سے ایک ہی کمپنی کو نوازتے ہوئے سارے سپلائی آرڈر دے گئے ہیں ، ذرائع سے ملنے والی (بقیہ نمبر17صفحہ12پر )

دستاویزات کے مطابق یونیورسٹی میں رجسٹرڈ ایک فرم ’’ہائی ایمز‘‘ پر شعبہ پرچیز کی نظر کرم رہی ہے ، صرف گزشتہ 5 ماہ میں جنرل سپلائی کے 100 آرڈر اس فرم دئے گئے جن کی مالیت 34 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے ،اس فرم کے بل کبھی تاخیرکا شکار نہیں ہوئے اور فوراََ کلیر ہوئے ، یہ سو آرڈر جن میں دفتری کرسیوں سے لیکر ایئر کنڈیشنرر، ٹونٹیاں اور دیگر سامان شامل تھا ۔ ایک شعبے منٹی نینس کے تھے ۔ اس طرح منٹی نینس کے تمام آرڈر ہائی ایمز کو دیئے گئے ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس فرم کو اصل مالک کے بجائے یونیورسٹی کے خزانہ دار آفس کا کلرک شاہد ڈوگر چلارہا ہے ، جو اس فرم کا کیس کبھی رکنے نہیں دیتا جبکہ اس فرم کے حصہ داروں میں ڈائریکٹر منٹی نینس کا نام بھی آتا ہے ۔اس لئے تمام آرڈر ایک ہی فرم کو دئے گئے ہیں، اس بارے میں یونیورسٹی کے پرچیز آفیسر مطیع اللہ نے بتایا کہ شعبہ منٹی نینس اپنے کام کرانے کے بعد کیس بھجواتا ہے جس کی وجہ سے اس فرم کو ادائیگی کردی جاتی ہے ، اس میں پرچیز آفس کا کام ڈاک خانے کا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کے خزانہ دار ڈاکٹر عمر فاروقنے موقف میں کہا ہے کہ اس طرح کی بے ضابطگیوں کو روکنے کیلئے شعبے کو کمپیوٹرائز ڈ کیا جارہا ہے جس کے بعد جنرل سپلائی آرڈر ز کا ریکارڈ تمام افسروں کے کمپیوٹر پر شو ہوتا رہے گا،انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی چھان بین کی جائے گی کہ ایک ہی فرم کو کیسے آرڈر اور ادائیگیاں کی گئی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...