امن وامان ہر قیمت پربرقراررکھی جائیگی ،ڈی آئی جی

امن وامان ہر قیمت پربرقراررکھی جائیگی ،ڈی آئی جی

چارسدہ (بیور رپورٹ)ڈی آئی جی محمد عالم شنوری نے کہا ہے کہ ریجن میں امن اور قانون کی بالا دستی ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی۔ ملکی حالات کے پیش نظر تمام تھانوں ، چوکیات ، سکول ، کالجز ، ہسپتال ، سرکاری و نجی اداروں کی سیکورٹی مزید سخت کر دی جائے ۔ سود خوروں اور جواء بازی میں ملوث افراد کے خلاف زمین تنگ کر دی جائے ۔ وہ تھانہ سرڈھیری میں میں امن و امان اور سیکورٹی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی کرائم میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد،ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان اور سرکل ایس ڈی پی اوز بھی موجو دتھے ۔ ڈی آئی جی نے آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود کے احکامات کے بارے میں چارسدہ پولیس کے آفسران کو آگاہ کیا۔ انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ اپنے کارکردگی مزید بہتر بنائے اور عوام کو پر امن ماحول فراہم کریں۔ انہوں نے مختلف جرائم کی روک تھام اور مجرمان کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لئے افسران کوکاروائیاں مزید تیز کرنے کے احکامات بھی جاری کئے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ پبلک لیزان کمیٹی اورڈسپوٹ ریزلوشن کونسل کے ممبران کے ساتھ ہر ہفتہ میٹنگ کا انعقاد کیا جائے اور ان کی ہر قسم کی مدد کی جائے۔انہوں نے پولیس حکام پر زور دیا کہ ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے قتل اور اقدام قتل کے واقعات کومزید کم کیا جا سکے۔میٹنگ کے دوران تمام پولیس افسران کو ہدایت کی گئی کہ موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر تمام تھانوں، چوکیات اور دفاتر ہائے کے علاوہ سکول، کالجز، ہسپتال اور نجی و سرکاری ادروں اور دفاتر کی سکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے۔آر پی او مردان محمد عالم شنواری نے پولیس کو بلٹ پروف جیکٹس وہلمٹ لازمی استعمال کرنے کی سختی سے ہدایت کی اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر انکی جان مال کی حفاظت کی خاطر ہائی الرٹ رہنے کی تاکید کی۔ انہو ں نے کہاکہ منشیات فروشی کو کنٹرول کرنا پولیس کی اہم ذمہ داری ہے اس کے لیے جو لائحہ عمل اختیار کیا گیا ہے اسے مزید بہتر کرنا ہوگا۔ آر پی او مردان نے اس بات پر زور دیا کہ سود خوری اور جوا بازی میں ملوث افراد کے خلاف مردان ریجن کی زمین تنگ کردی جائے اورجہاں بھی ہوں انکوقانون کے شکنجے میں لایا جائے۔آر پی او مردان نے اس بات پر بھی زور دیا کے عوام کے ساتھ روابط مزید بہتر کئے جائے اورانکی شکایات پر فوری کاروائی کی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...