امن تحریک کے بانی ادریس کمال کی چوتھی برسی

امن تحریک کے بانی ادریس کمال کی چوتھی برسی

پبی ( نما ئندہ پاکستان)نیشنل پارٹی کے زیر انتظام معروف سماجی کارکن ، انسانی حقوق کے علمبردار اور امن تحریک کے بانی ادریس کمال کی چوتھی برسی کا ان کے آبائی گاوں ترخہ میں منائی گئی برسی کے موقع پر نیشنل پارٹی پختونخوا وحدت کے صوبائی صدر مختار باچا ، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، ڈاکٹر میاں افتخار ،ایازمندوخیل اولسی تحریک کے مرکزی صدر ڈاکٹر سید عالم کے علاوہ مزدور کسان پارٹی کے شکیل وحید اللہ یوسف انور اور نظیف خان ہشتنگر سمیت بڑی تعداد میں مختلف مکا تب فکر کے لو گوں نے بڑی تعداد میں شر کت کی بر سی کی تقریب سے مختار باچا نے وقت کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے ریجن اور خیبر پختونخوا میں بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو پراکسی جنگ اور اسلامی ممالک کے ملٹری اتحاد سے نکلنا ہوگا ۔ کیونکہ اس وقت سعودی بادشاہت کی جنگی جنونیت کی وجہ سے لاکھوں پاکستانی بے روزگار ہوجائیں گے جو کسی بھی طرح ناقابل برداشت ہوگی پاکستانی حکومت کے لئے اور پاکستانی عوام کے لئے تعلیم صحت روزگار اور امن کے لئے کام کرنا ہوگا ۔ سیاسی پارٹیاں مکمل بے اختیار ہیں تمام پالیسیاں ملٹری اسٹبلشمنٹ بناتی ہیں جو بندوق کے نقطہ نظر سے بنائی جاتی ہیں جو کسی بھی صورت میں مسئلے کا حل نہیں ہے تقریب سے اے این پی کے مرکزی جنرل سیکر ٹری میاں افتخار حسین نے بر سی کی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے کہا عوام کی بے لوث خدمت کے لئے ادریس کمال جیسے مخلص لوگوں کی اس وقت پختونخوا کو شدید ضرورت ہے ۔ عوام کی سماجی خدمت ہی سے معاشرہ ترقی کرے گا ۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سماجی کام کے لئے انہوں نے بے شمار کام کئے ادریس کمال جیسے لوگ بہت کم پیدا ہو تے ہیں انہو ں نے ادریس کمال کو خراج تحسین پیش کر تا ہوں ڈاکٹر سید عالم صدر اولسی تحریک نے خطاب کر تے ہو ئے کہاکہ اس وقت پھر سے پختونخوا کو ایک متفقہ امن تحریک کی ضرورت ہے ۔ اور پختونخوا کے عوام کے حقوق کے لئے ایک وسیع اتحاد کی ضرورت ہے ۔ نظیف خان نے اس موقع پر کہا کہ ادریس کمال ایک غریب آدمی تھا اس کے باوجود اس نے جتنا سماجی اور سیاسی کام کیا ہے بہت کم لوگ کرسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر میاں افتخار نے کہا کہ اس وقت پختونوں کی امن کے لئے ادریس کمال جیسے مخلص لوگوں کی بے حد ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر سرفراز نے اپنے خطاب میں ادریس کمال کی سیاسی کمٹمنٹ کو خراج تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس وقت خطے اور خاص کر پختون ریجن میں پائی جانے والی بے چینی کے لئے ضروری ہے کہ مخلص اور کمٹڈ لوگ آگے ائیں اور حکومت وقت اور اسٹبلشمنٹ کو مجبور کیا جائے کہ وہ جنگ کی بجائے امن تعلیم اور ترقی کا راستہ اپنائے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...