چارسدہ میں رمضان المبارک میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت جاری

چارسدہ میں رمضان المبارک میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء کی فروخت جاری

چارسدہ (بیورو رپورٹ) چارسدہ میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردنوش کی سرعام فروخت جاری۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ فوڈ کی چشم پوشی کی وجہ سے شہری گلے اور پیٹ سمیت دیگر موذی امراض میں مبتلا ہونے لگے۔ ناجائز منافع خور انسانی قیمتی جانوں سے کھیل کر پیسے کمانے لگے۔ تفصیلات کے مطابق رمضان کے مبارک مقدس مہینے میں ضلع بھر کے گلی کوچوں اور بازاروں میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردونوش کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے جس کی وجہ سے شہری گلے، پیٹ اور دیگر موذی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔سڑک کنارے اور چوراہوں پر فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء میں مٹھایوں سے لیکر فروٹ ، مصالحہ جات، چاول، چولے ، لوبیا، دہی بھلے، پکوڑے،اُجڑی، دودھ دہی، چٹنی اور مختلف قسم کے مشروبات شامل ہیں جو سارا دن دھول، گردو غبار اور مکھیوں سے اٹک کر افطاری کے وقت روزہ داروں کے میزوں پر سج جاتے ہیں۔ ناجائز منافع خور دکاندار اور چھابڑی فروش ان غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردونوش کو نہ صرف بلا خوف خطر فروخت کر رہے ہیں بلکہ ان کو شہریوں میں موذی امراض کے بانٹنے اور قیمتی انسانی جانوں سے کھیلنے کا کوئی احساس ہی نہیں۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی ہے۔ناجائز منافع خوری اور بیماریاں پھیلانے کے اس سنگین جرم کو روکنے کیلئے انتظامیہ اور محکمہ فوڈ کے افسران ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ رمضان المبارک کے مہینے میں جہاں شہری غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردونوش خریدنے پر مجبور ہیں وہاں پر انتظامیہ کے افسران نے ائرکنڈیشنز دفاتر میں ڈھیرے جماکر شہریوں کو منافع خوروں کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ انتظامیہ کی غفلت اور لا پر واہی کی وجہ سے غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خورد و نوش کی روک تھام کی بجائے اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...