لیبر قوانین پر صنعت کاروں کے تحفظات دور کیے جائیں گے، ناصر شاہ

لیبر قوانین پر صنعت کاروں کے تحفظات دور کیے جائیں گے، ناصر شاہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) لیبر قوانین میں ہونے والی ترامیم سے متعلق صنعتوں کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں، تمام امور مشاورت سے حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزسٹ ناصر حسین شاہ نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری(کاٹی) کی جانب سے دی گئی دعوتِ افطار و عشایہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت ناصر حسین شاہ نے یقین دہانی کروائی کہ لیبر قوانین میں گزشتہ برس ہونے والی ترامیم پر صنعت کاروں کے تحفظات کو حل کیا جائے گا۔ اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے کہا کہ ناصر حسین ایک مخلص اور بااخلاق شخصیت کے حامل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ لیبر قوانین سے متعلق ایک بااختیار کمیٹی بنا کر مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صنعتوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے، کون سا ٹیکس ہے جوہم ادا نہیں کرتے لیکن سیوریج اور فراہمی آب اور سیکیورٹی جیسی بنیادی سہولتیں ہمیں فراہم نہیں کی جارہیں۔ ایس ایم منیر نے کہا کہ مراد علی شاہ کار کردگی پر یقین رکھنے والے وزیر اعلیٰ ہیں، ہم ان کے سامنے اپنے مسائل رکھنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ایس ایم منیر نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے کے 8ہزار روڈ کی تباہ حالی اور علاقے میں سیوریج کے مفلوج نظام کا بھی نوٹس لیا جائے۔ بعدازاں صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خود کراچی کی صنعت کار و تاجر برادری سے ملاقات کرکے ان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، جلد ایسی ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صنعتی علاقوں کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو ترقیاتی اسکیموں میں شامل کریں گے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات ہیں کہ کراچی کی صنعت کار اور تاجر برادری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ قبل ازیں کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے لیبر، ای او بی آئی اور سیسی، زاہد سعید نے صوبائی وزیر کو لیبر قوانین سے متعلق صنعتوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس درجن بھر قوانین میں ترمیم کی گئیں، لیکن کسی قانون میں ترمیم سے قبل صنعت کاروں سے بامعنی مشاورت نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ترامیم شدہ قوانین میں کئی ایسے سقم ہیں جن پر صنعت کاروں کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آجر کی تعریف میں کی گئی تبدیلی، منافع میں ملازمین کے حصے اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار، ملازمت کے معاہدے، ای او بی آئی، ویلفیئر فنڈ اور سیسی سے متعلق کئی امور کے تفصیلی جائزے اور اصلاح کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین میں ترامیم کے بعد ان میں کئی تضادات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ زاہد سعید کا کہنا تھا کہ ایسے کاروباری ادارے جن کے دفاتر دیگر صوبوں میں بھی قائم ہیں ان سے متعلق بھی کئی اہم امور مبہم ہیں، اسی طرح صنعتیں کنفیوژن کا شکار ہیں کہ وفاقی اور صوبائی ای او بی آئی میں سے کس میں زرمعاونت جمع کروائیں۔ انھوں نے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا کہ ان امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں حکومت، آجرین اور ملازمین تینوں کے نمائندے موجود ہوں۔کاٹی کے سینئر نائب صدر غضنفر علی خان نے کہا کہ صوبائی وزیر اپنی وزارت سے متعلق حکومتی اور کاٹی ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی کا قیا م عمل میں لائیں جو کہ صنعتوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لئے فعال کردار ادا کرے ۔ تقریب میں کاٹی کے نائب صدر عمر ریحان، زبیر چھایا، گلزار فیروز، احتشام الدین، شجاعت علی بیگ، مرزا اختیار بیگ، کاٹی کے سابق چیئرمین و صدور، مجلس عاملہ کے ارکان اور سینیئر ممبران نے بھی شرکت کی۔ کاٹی کے صدر مسعود نقی والدہ کی علالت کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہوسکے، تقریب کے اختتام پر صدر کاٹی مسعود نقی کی والدہ کی صحتیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کروائی گئی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...