اب اپاہج چل سکیں گے مگر کیسے؟

اب اپاہج چل سکیں گے مگر کیسے؟
اب اپاہج چل سکیں گے مگر کیسے؟

  


ہاں، عین ممکن ہے کہ عنقریب اپاہج لوگ پھر سے چل سکیں گے۔ اس بات کی قوی امید پیدا ہوچکی ہے۔مغربی دنیا کے اہل علم و عمل اس بات پر تحقیق کررہے ہیں اور اب وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خیالات کی طاقت سے اور کمپیوٹر کی مدد سے انسان اپنے ہاتھ اور پاؤں چلا سکے گا جو کسی حادثے کی وجہ سے اپنی طاقت کھوبیٹھے ہوں۔ امریکہ کے شہر نیویارک اور نیوجرسی کے میڈیکل اور یونیورسٹی میں چند ماہ قبل سائنسی تجربات سے ان مریضوں کے ہاتھوں میں خیالات سے اور کمپیوٹر کی مدد سے حرکت پیدا کی گئی جن کے دھڑ کا رابطہ دماغ سے چوٹ کی وجہ سے منقطع ہوگیا تھا۔

جب ہم اپنے ہاتھوں کو حرکت دینا چاہتے ہیں تو اس کا خیال دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ خیال قبول کرلیا جاتا ہے تو ہمارے دماغ کا ایک حصہ جسے موٹر کار ٹیکس (Motor Cortex) کہا جاتا ہے جسم کو حکم صادر کرتا ہے یہ حکم دماغ کے کچھ اندرونی راستوں سے ہوتا ہوا حرام مغز تک پہنچتا ہے ،یہاں سے یہ حکم گردن سے نکل کر اس بازو میں جاتا ہے اور مخصوص مسلز کو پہنچتا ہے جو حرکت کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر چلنا ہو تو یہ حکم کمر کے پاس پہنچ کر حرام مغز کو چھوڑتا ہے اور ٹانگوں کو حرکت دیتا ہے۔ اب اگر یہ اندرونی راستے کسی بھی جگہ پر منقطع ہوجائیں تو آدمی اپنے بازو یا ٹانگیں حرکت نہیں کرسکتا اور اپاہج ہوجاتا ہے۔ عموماً یہ گردن یا کمر کی چوٹ میں ہوتا ہے جب ان جگہوں میں حرام مغز زخمی یا ٹوٹ چکا ہو۔

اس منقطع راستے کو برج یا بائی پاس کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں کسی حد تک کامیابی ہوچکی ہے۔ اسے برین ٹو ہینڈ سپائنل کارڈ بائی پاس فیورو پرو ستھیسز (Living Brain to hand: Bypassing Spinal Cord Neuroprosthesis) کا نام دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے مصنوعی اعضاء کے کامیاب تجربے ہوچکے ہیں اور اب یہ مصنوعی اعضاء لوگوں کی خدمت کررہے ہیں۔ ان میں پچھلی صدی کے آخری عشرے میں مصنوعی اندرونی کان کی مدد سے لوگوں کی سماعت اور مصنوعی آنکھ سے بصارت بحال کی گئی اور آج کل دماغ کمپیوٹر انٹر فیز کی مدد سے زخمی حرام مغز کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کی مدد سے مستقبل میں اپاہج چل سکیں گے۔ یہ تجربہ ایک 24 سالہ نوجوان پر کیا گیا جو گردن کی چوٹ کی وجہ سے اپنے بازو اور اٹانگیں ہلانے سے معذور ہوگیا تھا۔

سب سے پہلے اس کے دماغ کے اس حصے کو ڈھونڈا گیا جہاں سے اس کے ہاتھ کی حرکت کا حکم صادر ہوتا ہے۔ ہمارے دماغ میں پیدا ہونے والے خیالات اپنے ساتھ بہت سی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ اس مریض کا کمپیوٹر کی ایک ایپلی کیشن کی مدد سے سکرین پر ہاتھ ہلتا ہوا دیکھا گیا جس سے اس کے دماغ کے مخصوص حصے میں بجلی پیدا ہوئی جسے بہت طاقتور (Sensor) کی مدد سے ریکارڈ کیا گیا اس طرح دماغ کا وہ حصہ معلوم کرلیا گیا جس سے ہاتھ میں حرکت ہوتی ہے۔ اب دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے کہ اس انتہائی اہم بجلی کو جو خیالات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، ہاتھوں تک کیسے پہنچایا جائے اور اس میں اپنی طاقت کیسے پیدا کی جائے کہ ہاتھ حرکت کرسکیں۔ اس کے لئے آپریشن کے ذریعے دماغ کے اس حصے کے اوپر ایک چپ رکھی گئی جس میں سینکڑوں مائیکرو سینسر (Mocro Sensor) لگے ہوئے تھے۔ اس چپ کو ایک کمپیوٹر کے ساتھ جوڑا گیا جسے نیورو بائی پاس سسٹم (NBS) کہا گیا۔ اس NBS کے دوسرے طرف ایک بیلٹ لگادی گئی جس میں 130 الیکٹروڈ لگائے گئے جنہیں نیورومسکلر الیکٹرک سٹیمولیٹرز (Neuromuscular Electric Stimulator) کا نام دیا گیا۔ اس بیلٹ کو مریض کی کلائی اور بازو کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ مریض کو NBS پر ہفتے میں تین دفعہ 15 ماہ تک تربیت دی گئی۔ اس دوران اسے کمپیوٹر پر ہاتھ ہلتا ہوا دکھایا گیا۔ اس کی وجہ سے اس کے دماغ میں برقی تحریک پیدا ہوئی جو NBS کے ذریعے NMES بیلٹ کو ڈی کوڈ کرکے پہنچائی گئی۔

شروع شروع میں اس کام میں پختگی نہ تھی مثلاً کبھی کچھ بھی نہ ہلتا اور کبھی ہاتھ اٹھانے کے حکم پر ہاتھ نیچے ہوجاتا یا دائیں بائیں ہوجاتا۔ آہستہ آہستہ نظام میں تبدیلیاں لائیں گئیں اور اس کے 70.4 فیصد تک کامیابی حاصل کی گئی وہ ہاتھ جو پہلے ناکارہ ہوگئے تھے اب گرفت کرسکتے تھے ، بوتل میں سے پانی انڈیل سکتے تھے، چھوٹی سی چھڑی کی مدد سے چیزوں کو اِدھر اُدھر کرسکتے تھے۔

اگرچہ ابھی تک مریض کو کوئی بھی حرکت کرنے کے لئے کمپیوٹر سکرین پر دیکھنا پڑتا ہے جس سے اسے ہاتھوں کی حرکت میں مدد ملتی ہے مگر اس کامیابی کو پہلا سنگ میل قرار دیا جارہا ہے اور امید ہے کہ مزید ٹریننگ کی وجہ سے کمپیوٹر سکرین کی ضرورت ختم ہوجائے گی اور بڑے کمپیوٹر کی جگہ موبائل ڈیوائس لے لے گی جس میں زیادہ دیر تک چلنے والی بیٹری استعمال کی جاسکے گی اور امید کی جاتی ہے کہ اس کی مدد سے ہاتھ اور پاؤں نہ صرف حرکت کے قابل ہوجائیں گے بلکہ ہنر مندانہ حرکت کرسکیں گے اور ہر مریض جن کا بستر مقدر بن جاتا ہے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...