فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر120

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر120
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر120

  


فلمی صنعت نے ان کا بڑے پیمانے پر سوگ منایا اخبارات میں قتل کا معما حل کرنے کیلئے مطالبے کئے گئے مگر کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ پاکستان کی فلمی صنعت ایک تخلیق کار اور ہنر مند سے محروم ہوگئی۔ ایک بیوی اپنے شوہر سے اوربچے اپنے باپ کے سائے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دنیا کا کاروبار اور فلمی صنعت کا دھندا اسی طرح چلتا رہا مگر خلیل قیصر کا لہو آج بھی فریاد کناں ہے مگر اب تو وہ زمانہ ہے کہ ہر طرف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ قتل معمول میں داخل ہوچکے ہیں۔ اب کسے وقت ہے کہ خلیل قیصر کے خون کا حساب طلب کرے؟ ان کی بیوہ نے کچھ عرصے بعد اپنے دیور سے نکاح کرلیا اور راولپنڈی منتقل ہوگئی۔ اس طرح خلیل قیصر بچوں کو ایک قابلِ اعتماد سائبان حاصل ہوگیا۔ اب وہ سب بڑے ہوچکے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے ہم نے ’’نوائے وقت‘‘ میں نے خلیل قیصر کے بارے میں ایک مضمون لکھا تو دوسرے دن ایک ٹیلی فون موصول ہوا۔ فون کرنے والا ایک نوجوان تھے۔ اس نے خود کو خلیل قیصر کے بیٹے کی حیثیت سے متعارف کرایا اور بتایا کہ وہ پاکستانی فوج میں میجر ہے۔

اس نے کہا ’’انکل۔ آپ کا مضمون پڑھ کر اندازہ ہوا کہ آپ ابو کے بہت گہرے دوست ہیں اور ان سے نزدیک تھے؟‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر119 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم نے کہا ’’بہت گہرے تو نہیں لیکن دوست ضرور تھے اور ہم نے ان کے ساتھ کافی وقت گزارا ہے‘‘۔

نوجوان نے کہا ’’ہمیں تو اپنے والد کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ جی چاہتا ہے کہ آپ جیسے لوگوں سے مل کر ان کے بارے میں باتیں کریں اور ان کی شخصیت کے متعلق معلوم کریں‘‘۔

میں نے کہا ’’تم جب چاہو بڑے شوق سے گھر آؤ۔ تم سے مل کر مجھے بہت خوش ہوگی‘‘۔

مگر اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ وہ شاید ایک دو روز کیلئے لاہور آیا تھا غالباً مصروفیت کی بنا پر ملاقات کیلئے نہ آسکا۔ جن دنوں ہماری خلیل قیصر سے ہر روز ملاقاتیں رہا کرتی تھیں اس وقت یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنی جلدی وہ ایک کہانی بن کر رہ جائیں گے اور ان کے بچے ان کے بارے میں دوسروں سے معلومات حاصل کرتے پھریں گے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

خلیل قیصر جوان العمری میں ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے ذہن میں بے شمار تخلیقی منصوبے تھے جو ادھورے رہ گئے۔ خلیل قیصر اور ریاض شاہد کی دوستی مثالی اور بے حد پائیدار تھی۔ خلیل کی اکثر فلموں کے مصنف ریاض شاہد ہی تھے۔ دونوں میں بلا کی ذہنی ہم آہنگی تھی اگر خلیل قیصر زندہ رہتے تو یقیناًریاض شاہد اپنی فلم ’’زرقا‘‘ کی ہدایتکاری ان ہی کو سونپ دیتے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی صلاحیتوں کے معترف اور مداح تھے۔ ان کے باہمی اشتراک نے کئی یادگار فلموں کو جنم دیا تھا۔

خلیل قیصر سے ہماری ملاقات اکثر اسٹوڈیو میں رہا کرتی تھی۔ ہمارے گہرے دوست اور پارٹنر حسن طارق کے ساتھ ان کی گاڑھی چھنتی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو سراہتے تھے اور بڑے خلوص سے ایک دوسرے کے بہی خواہ تھے۔ اسٹوڈیو میں شام کے وقت جب محفل آرائی ہوتی تو خلیل قیصر، ریاض شاہد، حسن طارق، رشید عطرے اور فلمساز حسن شاہ اس میں ضرور موجود ہوتے تھے۔

خلیل قیصر بہت خوش گلو تھے۔ طبلہ، ہارمونیم اور کئی دوسرے ساز بجا لیتے تھے۔ علاؤالدین صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ ایک گمراہ روح ہے۔ میری طرح گلوکار بننے کے ارادے سے گھر سے نکلا تھا مگر یہ ہدایتکار بن گیا اور میں اداکار۔

اور یہ دیکھئے کہ دونوں نے اپنے اپنے شعبوں میں کسی غضب کی کارکردگی دکھائی۔

خلیل قیصر کے ساتھ ہمیں بھی کام کرنے کا اتفاق ہوا مگر کوئی فلم مکمل نہ ہوسکی۔ اسے بھی اتفاق یا بدقسمتی ہی کہا جاسکتا ہے۔

ایک مرتبہ ہمارے دوست فلمساز اقبال شہزاد نے ہم سے ایک کہانی لکھوائی جس کا نام ’’ایک ہی راستہ‘‘ تھا۔ یہ ایک ڈاکوکی کہانی تھی۔ اقبال شہزاد ان دنوں کراچی میں رہتے تھے۔ وہ خلیل قیصر کو ہدایت کاری سونپنا چاہتے تھے۔ ایک دو بار ہمارا اور خلیل قیصر کا اس سلسلے میں کراچی جانا بھی ہوا مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مگر ان ملاقاتوں نے ہمیں ایک دوسرے سے اور نزدیک کردیا۔

فلم ساز وزیر علی نے ’’کلرک‘‘ کے بعد فلم بنانے کا ارادہ کیا تو خلیل قیصر کو ہدایتکار چنا۔ ہم سے کہانی کیلئے بات چیت ہوئی۔ اس زمانے میں ریاض شاہد کا بہت شہرہ تھا کہ انہوں نے ’’کلرک‘‘ کی کہانی لکھنے کا معاوضہ پانچ ہزا روپے وصول کیا ہے جو اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔

خلیل قیصر نے ایک روز ہمیں فون کرکے بلایا اور کہا کہ وزیر علی کی فلم کیلئے میں آپ سے کہانی لکھوانا چاہتا ہوں۔ ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ دوسرے دن وزیر علی سے ان کے شاندار دفتر مٰں ملاقات ہوئی وہ بہت دلچسپ اور باتونی آدمی تھے۔ لطیفہ بازی کے بعد مطلب کی گفتگو پر آئے۔ ہم نے کہانی کا آئیڈیا سنایا جو انہیں پسند آگیا۔ سب سے آخر میں معاوضہ کی بات چھڑی۔

ہم نے کہا ’’آپ نے ریاض شاہد کو جو معاوضہ دیا ہے ہم اس سے ایک ہزار روپے زیادہ لیں گے‘‘۔

انہوں نے حیرت سے دیکھا ’’آفاقی صاحب اتنا معاوضہ تو کسی نے نہیں لیا‘‘۔

ہم نے کہا ’’اسی لئے ہم لینا چاہتے ہیں‘‘۔

انہوں نے ہنس کر کہا ’’کیا ریاض شاہد سے لگتی ہے آپ کی؟‘‘

ہم نے کہا ’’ہرگز نہیں مگر ہر طرف چرچا ہے کہ ریاض شاہد نے کہانی کے معاوضے کاایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ہم اس ریکارڈ کو توڑنا چاہتے ہیں‘‘۔

وہ سوچ میں پڑ گئے’’ بھائی خدا کا خوف کریں۔ کیوں بے چارے فلم ساز پر ظلم کرتے ہیں‘‘۔

مگر کچھ دیر غور و فکر کے بعد وہ آمادہ ہوگئے۔ ایڈوانس کی رقم بھی مل گئی مگر یہ فلم بھی شروع ہونے سے پہلے ہی رک گئی۔ اسکرین پلے کی حد تک ہی اس پر کام ہوا تھا کہ خلیل قیصر کسی دوسری جگہ مصروف ہوگئے اور بات آئی گئی ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد یہی کہانی اقبال شہزاد نے بنائی اور حسن طارق کو ہدایتکار منتخب کیا۔ وزیر علی نے بہت شور مچایا کہ یہ کہانی تو میری ہے۔ میں عدالت میں جاؤں گا کیونکہ میں اس کا ایڈوانس بھی دے چکا ہوں۔

ہم نے ان سے فون پر کہا ’’وزیر علی صاحب یہ تو بہت پرانی بات ہے پھر آپ نے فلم کیوں نہیں بنائی تھی؟‘‘

وہ پھر بھی آمادہ فسادہ رہے تو اقبال شہزاد نے انہیں ایڈوانس کی رقم واپس کرکے یہ مسئلہ حل کردیا۔

خلیل قیصر کے ساتھ ہمارے ستارے نہیں ملتے تھے یا کسی فقیر کی بد دعا تھی کہ ہماری ان کی مشترکہ کوشش کبھی کامیاب نہ ہوئی بلکہ تکمیل تک بھی نہ پہنچی۔

فلمساز شوکت شیخ کیلئے خلیل قیصر نے فلم ’’عجب خان‘‘ بنائی تھی جو ایک سپرہٹ فلم تھی۔ شوکت شیخ ہمارے بھی گہرے دوست تھے۔ بلکہ ان کے گھر میں ہمارا آنا جانا تھا۔ تعلیم یافتہ اور خاندانی آدمی تھے۔ پی آئی اے سے منسلک تھے مگر فلم کے شوق میں نوکری چھوڑ آئے اور فلم ’’عجب خان‘‘ بنائی جو بے حد کامیاب رہی۔ شوکت شیخ کے پاس اس زمانے میں امریکی شیور لے کار تھی حالانکہ اس زمانے میں نوے فیصد فلم ساز کار سے محروم تھے۔ ان کی بیگم جگت بھابی تھیں۔ بڑی دلچسپ اور شفیق شخصیت تھیں۔ ہر وقت ہنستی رہتی تھیں۔ ایکٹریسوں سے ملنا جلنا بھی تھا۔ حسنہ کو انہوں نے منہ بولی ’’بیٹی‘‘ بنا رکھا تھا۔ حالانکہ ان کی خود اپنی دو بچیاں بھی تھیں۔ حسنہ کو بھی اپنے ڈیڈی اور ممی پر بہت مان تھا۔ شوکت صاحب کی بہت بڑی کوٹھی میسن روڈ پر تھی جہاں ہر وقت رونق لگی رہتی تھی۔

’’عجب خان‘‘ کے بعد خلیل قیصر نے شوکت شیخ کی دوسری فلم کیلئے کہانی کی تلاش شروع کی تو ہمارا ایک آئیڈیا انہیں بہت پسند آیا۔ یہ ایک ہلکی پھلکی رومانی اور پراسرار کہانی تھی۔ اس سے پہلے اس طرز کی فلم پاکستان میں نہیں بنائی گئی تھی۔ کہانی پر کام شروع ہوا تو خلیل قیصر کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہوگیا۔ انہیں کہانی اور اسکرین پلے کا بہت زیادہ شعور تھا۔ بہت اچھے مشورے دیا کرتے تھے۔ بلاوجہ بحث اور اپنی بات منوانے کا انہیں شوق نہیں تھا۔ مال روڈ پر جس جگہ ان دنوں واپڈا کی عمارت ہے یہاں میٹرو ہوٹل کی بہت بری عمارت تھی۔ اس عمارت کی دوسری منزل میں شوکت شیخ کا دفتر تھا۔ خلیل قیصر اور ہم سامنے والے کشادہ برآمدے میں بیٹھ جاتے، سامنے باغ جناح اور مال روڈ کا خوب صورت منظر ہوتا تھا۔ سارا دن چائے کافی کا دور چلتا رہتا اور کہانی پر کام بھی جاری رہتا۔ اس فلم کا نام ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ رکھا گیا۔ کہانی یہ تھی کہ ایک پہاڑی علاقے میں چند لوگوں نے ایک گیسٹ ہاؤس قائم کیا ہے مگر وہاں مہمانوں کو ٹھہرانا پسند نہیں کرتے۔ وجہ یہ تھی کہ وہ جعلی نوٹ بنانے مین مصروف تھے۔ حسنہ اس فلم کی ہیروئن تھیں۔ وہ ایک مرحوم سائنسدانکی صاحبزادی تھیں جنہیں جعلی نوٹ بنانے کا گر معلوم تھا چنانچہ جرائم پیشہ لوگ انہیں اغوا کرکے اس پہاڑی گیسٹ ہاؤس میں لے گئے تھے۔ فلم کے ہیرو سنتوش کمار ایک سراغرساں تھے اور ان کے دوست لہری ایک اخباری فوٹوگرافر۔ اس طرح یہ کہانی آگے چلتی تھی۔ اسے مغربی فلموں کے انداز میں فلمانے کا پروگرام تھا اور خلیل قیصر نے اس کے جتنے بھی حصے فلمائے وہ واقعی غیر ملکی معیار کے تھے۔ کہانی کی اٹھان اور کرداروں کا انداز بھی عام فلموں سے مختلف تھا۔ اور شوکت شیخ نے اس فلم کیلئے سیٹ بھی مغربی فلموں کے انداز کے لگائے تھے۔ اس فلم کی ایک نئے جزبے اور ولولے سے آغاز ہوا تھا۔ رشید عطرے کا میوزک بھی بہت خوبصورت تھا اور جو دوگانے فلمائے گئے ان کو خلیل قیصر نے اپنے مخصوص انداز میں فلمایا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیل قیصر کو گانوں کی فلم بندی میں کمال حاصل تھا۔ وہ بالکل نئے اور انوکھے انداز میں گانے فلماتے تھے۔ جس طرح انڈین میں گورو دت نے گانوں کی فلم بندی کا ایک نیا انداز پیش کیا تھا اس طرح پاکستان میں خلیل قیصر نے بھی اس میں جدت اور انفرادیت پیدا کردی تھی۔ انہیں گانوں کی فلم بندی کے معاملے میں نئی ڈگر کا تخلیق کار سمجھا جاتا تھا۔

’’گیسٹ ہاؤس‘‘ کا آغاز جس جوش و خروش اور تیزی کے ساتھ ہوا تھا اس کا انجام اتنا ہی غیر متوقع اور مایوس کن ہوا۔ اس میں دیکھا جائے تو کسی ایک کا بھی قصور نہیں تھا لیکن خدا کو منطور نہ تھا کہ یہ فلم بنتی۔ لہٰذا ایک کے بعد ایک رکاوٹ پیدا ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ یہ فلم ہمیشہ کیلئے رک گئی۔ خلیل قیصر تو دوسری فلموں کی تیاری میں مصروف ہوگئے مگر شوکت شیخ کیلئے یہ دھچکا آنے والی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور وہ دوبارہ اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑے نہ ہوسکے۔

’’گیسٹ ہاؤس‘‘ کی مسلسل شوٹنگ کیلئے مال روڈ پر ملکہ اسٹوڈیو میں اہتمام کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ اسٹوڈیو اس زمانے میں زیادہ مصروف نہیں تھا۔ شوکت شیخ ایک ڈیڑھ ماہ کی مسلسل شوٹنگ کے ذریعے یہ فلم کم سے کم وقت میں مکمل کرنا چاہتے تھے جو اس زمانے کے اعتبار سے ایک انوکھی بات تھی۔ ملکہ اسٹوڈیو صرف ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ کے فلم ساز کیلئے وقف تھا۔ ایک کے بعد ایک سیٹ لگنے والا تھا۔ یہ سہولت کسی اور اسٹوڈیو میں میسر نہیں تھی۔

سنتوش کمار اس کے ہیرو تھے اور حسنہ ہیروئن۔ دونوں کو کہانی بہت پسند آئی تھی اور وہ بڑے ذوق و شوق سے اس کی فلم بندی میں حصہ لینے کیلئے بیتاب تھے۔ سنوش صاحب کی ہمیشہ سے دیر سے اسٹوڈیو پہنچنے کی عادت تھی مگر ’’گیسٹ ہاؤس‘‘ کی پہلی شوٹنگ میں وہ نو بجے ہی پہنچ گئے تو سب حیران رہ گئے۔ سنتوش کمار اور صبح نو بجے، حیرت!

خلیل قیصر اسٹوڈیو میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا ’’سنتوش صاحب اتنے سویرے؟ ابھی تو سیٹ بھی تیار نہیں ہے‘‘۔

وہ بولے ’’یار میں چاہتا ہوں کہ شوٹنگ سے پہلے سیٹ پر پہنچ کر اس روز کے مناظر کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ یہ مختلف قسم کا ماحول اور کردار ہے۔ میں اس کے ساتھ انصاف کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

اس کے بعد بھی وہ ہمیشہ دس بجے اسٹوڈیو پہنچ جاتے تھے۔ خلیل قیصر نے ان کی اس تبدیلی پر مومن خان مومن کا یہ شعر سنایا۔

عمر تو ساری کٹی عشقِ بتاں میں مومن

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

پھر کہا ’’مگر شاہ جی! آخری وقت میں مسلمان ہوگئے ہیں‘‘۔

سنتوش صاحب کی عادت تھی کہ سیٹ پر ہر وقت ہنستے ہنساتے رہتے تھے۔ لطیفہ بازی، فقرہ بازی، ادھر ادھر کی کہانیاں اور قصے۔ جتنی دیر تک وہ سیٹ پر موجود رہتے تھے ایک رونق سی لگی رہتی تھی۔ وہ ہر ایک سے بے تکلف تھے۔ سیٹنگ قلی سے لے کر ہیروئن، فلمساز اور ہدایتکار تک ہر ایک سے ان کی چھیڑ چھاڑ جاری رہتی تھی۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط نمبر121 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ


loading...