ملک کے استحکام اور پائیدار جمہوریت کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ضروری، انتخابی اصلاحات کے لیے عید کے بعد ملک گیر تحریک چلائیں گے:لیاقت بلوچ

ملک کے استحکام اور پائیدار جمہوریت کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ...
ملک کے استحکام اور پائیدار جمہوریت کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ضروری، انتخابی اصلاحات کے لیے عید کے بعد ملک گیر تحریک چلائیں گے:لیاقت بلوچ

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نےکہاہے کہ پارلیمانی کمیٹی نے طویل مدت سفارشات کی تیاری میں گزار دی ہے ، انتخابات کا مرحلہ قریب تر آرہاہے ، سفارشات کی بنیاد پر قانون سازی کا مرحلہ بھی درپیش ہوگا ، ملک کے استحکام اور پائیدار جمہوریت کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ضروری ہیں ۔ پاکستان اب انتخابی کرپشن کا متحمل نہیں ہوسکتا ، جماعت اسلامی انتخابی اصلاحات کے لیے عید کے بعد ملک گیر تحریک چلائے گی ۔

لیاقت بلوچ نے انتخابی اصلاحات کے بارے میں تجاویز دیتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر سپریم کورٹ کی طرز پر آزاد اور خودمختار ادارہ بنانے کے لئے قواعدو ضوابط وضع کئے جائیں،ضرورت ہو تو قانون سازی بھی کی جائے،انتخابی عملہ کو مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جائے اور پوسٹنگ،ٹرانسفر اور ان کے خلاف تادیبی کاروائی کامکمل اختیار، الیکشن کمیشن کے پاس ہو، دھاندلی کی شکایت پر آر او اور پی او کوجوابدہ قرار دیا جائے اور الزام ثابت ہونے پر انہیں جرمانہ، قیدوبنداور ملازمت سے برطرفی کی سزائیں دی جائیں، امیدواروں کی نامزدگی اور جانچ پڑتال، آئین کی شق 62اور63 کی روشنی میں کی جائے،خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کو بھی، اپنے امیدواروں کے معیار کو آئین پاکستان کی ان شقوں کے مطابق رکھنے کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہر امیدوار اور ہر جماعت کے انتخابی اخراجات کی نگرانی کا باقاعدہ ایک نظام وضع کیاجائے اورمقررہ حد سے زیادہ اخراجات کرنے والوں کو نااہل قرار دینے کے ساتھ پانچ سال قیدکی سزا بھی دی جائے ،ووٹرز کے لئے ٹرانسپوٹ الیکشن کمیشن فراہم کرے اور پولنگ ڈے پرامیدوار وں کی طرف سے ٹرانسپورٹ کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں سے پبلسٹی سمیت تمام انتخابی اخراجات مقررہ حد کے اندر رکھنے کی پابندی پر عملدرآمد کروایا جائے،الیکشن کمیشن،خواتین کے ووٹ کاسٹ کی شرح بڑھانے کے لئے ،خواتین کو سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات کرے، پولنگ اسٹیشن ایک کلو میٹر سے زیادہ فاصلے پر نہ ہوں اور خواتین کے پولنگ بوتھ پر لیڈیز انتخابی عملہ ہو اور ان کی مکمل سیکورٹی کا بندوبست کیا جائے، خواتین کے لئے کوئی امتیازی پابندی عائد نہ کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنے داخلی انتخابات کروانے کا پابند کیا جائے بلکہ ہر سیاسی پارٹی کے ان داخلی انتخابات کی نگرانی الیکشن کمیشن خود کرے تاکہ مخصوص خاندانوں کی اجارہ داریوں کا خاتمہ ہواورجو سیاسی پارٹی اپنے داخلی انتخابات باقاعدگی سے نہ کروائے اس کو ”بلیک لسٹ“ کیا جائے ،ووٹنگ کے لئے متناسب نمائندگی کے نظام کو متبادل کے طور پر متعارف کروایا جائے  ،آغازمیں0 5 فیصد قومی وصوبائی سیٹوں کے لئے متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام اپنایا جائے تاکہ شخصیات کی بجائے سیاسی پارٹیوں کے ”انتخابی منشور“ کوووٹ ملے,اس سے بے تحاشہ انتخابی اخراجات کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔سمندر پار پاکستانیوں کے اپنے حق ووٹ کو استعمال کرنے کا ایک قابلِ عمل ”میکانزم“،انتخابات 2018ءسے لازماً شروع کیا جائے.

مزید : قومی


loading...