وزارت قانون نے بھی پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے الزامات مستردکردیئے

وزارت قانون نے بھی پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے الزامات ...
وزارت قانون نے بھی پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے الزامات مستردکردیئے

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزارت قانون نے بھی پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے الزامات مستردکردیئے ہیں ۔

ترجمان وزارت قانون محسن عباس سید کی جانب سے 2صفحات پر مشتمل جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 21کے تحت جے آئی ٹی کے چیئرمین کو اختیارات دینے کے حوالے سے معاملہ میں نوٹیفیکیشن کے اجرامیں تاخیر کے حوالے سے لگائے گئے الزام کی سختی سے تردید کی جاتی ہے جس میں کہا گیا کہ وزارت دفاع کی طرف سے تاخیر کی گئی ،حقیقت یہ ہے کہ نوٹیفیکیشن کے اجراکے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم ملنے کے بعد دو روز میں عمل کیا گیا ۔ ترجمان نے کہاہے کہ 15مئی کا عدالتی حکم اٹارنی جنرل نے16مئی کو وزارت قانون کو پہنچایا کیوںکہ نوٹیفیکیشن وفاقی حکومت نے جاری کرنا تھا ، معاملے کی فوری نوعیت کے باعث سرکولیشن کے ذریعے سمری 17مئی کو کابینہ کی منظور کیلئے بھجوائی گئی ، وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد 18 مئی کو نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ،اس نوٹیفکیشن کی کاپیاں چیئرمین جے آئی ٹی ،رجسٹرارسپریم کورٹ ،اٹارنی جنرل اور سیکرٹری داخلہ کو بھجوائی گئیں، چیئرمین جے آئی ٹی نے 18مئی کو نوٹیفیکیشن وصول کرنے کے بعد وزارت قانون سے درخواست کی کہ نوٹیفیکیشن تمام متعلقہ لوگوں کو بھجوایا جائے ۔ بیان کے مطابق جے آئی ٹی کا 18 مئی کا خط اسی روز وزارت داخلہ وخارجہ کوبھجوایا گیاوزارت قانون نے خط پرکوئی تاخیر نہیں کی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تفصیلات ثابت کرتی ہیں کہ وزارت قانون و انصاف نے اپنے ذمہ تمام امورکے حوالے سے تمام ممکن اقدامات جلد از جلد اٹھائے، اس لئے جے آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات غیر منصفانہ ہیں۔

مزید : قومی


loading...