قومی ٹیم کے کپتان سرفراز اور فاسٹ باؤلر حسن علی کی اردو ،جرمنی سے منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی یوتھ کونسلر محمد طحہ طارق بھی میدان میں آ گئے ،ایسی بات کر دی کہ سب کو حیران کر دیا

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز اور فاسٹ باؤلر حسن علی کی اردو ،جرمنی سے منتخب ہونے ...
قومی ٹیم کے کپتان سرفراز اور فاسٹ باؤلر حسن علی کی اردو ،جرمنی سے منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی یوتھ کونسلر محمد طحہ طارق بھی میدان میں آ گئے ،ایسی بات کر دی کہ سب کو حیران کر دیا

  


برلن(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی کرکٹ ٹیم نے چیمپیئن ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں  انگلینڈ کو  تاریخی شکست دے کر ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ پکی کر لی ہے ،سیمی فائنل کے مین آف دی میچ پاکستانی فاسٹ باؤلر حسن علی جب اپنا ایوارڈ لینے آئے تو انہوں نے اردو میں بات کی جبکہ ایک مترجم ان کی گفتگو کا انگلش میں ترجمہ کرتا رہا ۔

اس سے قبل قومی ٹیم کے کپتان سرفراز علی کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر تنقید  ہوتی رہی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کو انگلش نہیں آتی ،اس حوالے سے روز نامہ ’’پاکستان ‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے  جرمنی میں مقیم  طالب علم اور منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی یوتھ کونسلر اور جرمن پارلیمنٹ کے اعزازی رکن محمد طحہ طارق نے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز علی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ  کچھ دنوں سے لگاتار لوگ سرفراز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں کہ کپتان ہونے کے باوجود اسے انگلش نہیں آتی، کیا ہوا اگر پاکستانی ٹیم کا کپتان یا کوئی دوسرا کھلاڑی  انگلش میں بات نہیں کر سکتا ؟اس میں نہ تو کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی یہ کوئی خامی ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر بیٹھ کر اس پر تنقید کریں .انہوں نے کہا کہ  یورپ میں چالیس سے زائد ممالک ہیں جو صرف اپنی ہی زبان میں بات کرتے ہیں، ان تمام ممالک میں تعلیم ان کی  اپنی مقامی  زبان میں ہی دی جاتی ہے، یورپ میں گورنمنٹ کا ہر ادارہ اپنے ملک کی ہی زبان میں بات کرتا ہے.محمد طحہٰ طارق کا کہنا تھا کہ یورپی پارلیمنٹ میں 40 سے زائد ممالک کے سیاستدان موجود ہوتے  ہیں اور جب وہ خطاب کرتے ہیں تو اپنی قومی زبان میں کرتے ہیں اور  ان سب کے ساتھ مترجم  موجود  ہوتے ہیں. محمّد طہٰ طارق کا کہنا تھا کہ اردو ہماری قومی  زبان ہے ،ہمیں اپنی قومی زبان میں کسی بھی فورم پر بات کرتے  ہوئے شرم  یا جھجھک  محسوس نہیں ہونی چاہئے ،بلکہ کسی بھی عالمی فورم پر اگر ہم اپنی قومی زبان میں گفتگو  کریں تو ہمارے الفاظ میں مکمل اعتماد جھلکنا چاہئے اور  ہماری قوم کو چاہئے کہ ہم ایسے افراد  کی بھر پور حوصلہ افزائی کریں نا کہ بلا جوا ز  تنقید شروع کر دیں ۔انہوں نے کہا کہ ذہنی غلامی کی اس منفی  سوچ کی وجہ سے آج ہم دنیا میں سب سے پیچھے ہیں اور جرمنی جیسے ممالک دنیا کے پہلے نمبر پر پہنچ گۓ ہیں، جہاں  کوئی انگلش نہیں بولی جاتی.

مزید : کھیل


loading...