وقت کے ولی نے مغل شہنشاہ کو خط لکھا”اے شاہ جہاں یہ معاملہ ٹھیک کرلے ورنہ تمہارا تاج و تخت میں کسی اور کو دے دوں گا“ پھر کیا ہوا؟

وقت کے ولی نے مغل شہنشاہ کو خط لکھا”اے شاہ جہاں یہ معاملہ ٹھیک کرلے ورنہ ...

لاہور( نظام الدولہ ) ہندوستان کی سرزمین پر جن اولیاءکرام کی تعلیمات سے نور اسلام سے لادینیت اور کفر کا اندھیرا چھٹا ان میں تاجدار اولیا حضرت میاں میر ؒ کا نامی گرامی بہت نمایاں ہے۔آپؒ کے توکل اور استغناءکا یہ عالم تھا کہ زندگی بھر اپنے پاس کوئی چیز نہ رکھی۔ آپ نے سیوستان کے باہر ایک پہاڑ میں رہ کر سارا وقت عبادت اور یادالٰہی میں گزارا ۔پھر سندھ میں اپنے مرشد کے ہاں قیام کیا اور ان کے حکم پر لاہور تشریف لے آئے۔ آپؒ بہت نرم خو تھے مگر جب جلال فرماتے تو شہنشاہ بھی لزر جاتے ۔آپ ؒ کی نگاہ فیض نے کئی مغل فرمانراو¿ں کو تاجور بنایااور یہ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ خاندان مغلیہ کے حکمران حضرت میاں میرؒ سے بہت زیادہ عقیدت رکھتے تھے چنانچہ جہانگیر، شاہ جہاں، شہزادہ داراشکوہ، شہزادہ شہریار اور اورنگزیب عالمگیر آپؒ کے دربار میں حاضری کو سعادت سمجھتے تھے۔

مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے زمانے میں حضرت میاں میرؒ کا ایک مریدحضرت کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضرت فلاں شہر کا حاکم مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔مجھے اس سے جان و مال اور عزت و آبرو کا خطرہ ہے ۔آپؒ نے اسی وقت ایک کاغذ پکڑا اور شاہ جہاں کے نام خط لکھا جس میں تحریر فرمایا ” اے شاہ جہاں میرے مرید کو تیرے فلاں شہر کا حاکم تنگ کررہا ہے۔ اس کو ٹھیک کرلے اور سمجھا لے وگرنہ تمہارا تاج و تخت میں کسی اور کو دے دوں گا“۔تاریخ میں رقم ہے کہ شاہ جہاں نے اس حاکم کو اس کے عہدے سے معزول کر دیا،اور آپؒ کی نگاہ کرم کی استدعاکی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...