پاکستان کا وہ بڑا سیاستدان جس نے اپنی بیوی کو ننگا کرکے بندوق سے پیٹااور اس سے ایسا شرمناک مطالبہ کیا کہ....سابقہ بیوی کا ایسا الزام کہ اس سیاستدان کے چاہنے والے شرم سے پانی پانی ہوجائیں

14 جون 2018 (01:07)

لاہور(ایس چودھری)پنجاب کے سابق گورنر اور وزیر اعلٰی مصطفے کھرپاکستان پیپلز پارٹی کی مقبول ترین شخصیت رہ چکے ہیں جبکہ اپنے جاگیردارانہ مزاج کے باوجود ان کا سیاسی حلقہ قائم ہے ۔ وہ اعلیٰ منتظم بھی مشہور رہے اور منتقم بھی ،انکی تقریروں سے اخلاقیات اور عورتوں کی حرمت کی پاسداری کرنے کے لئے پھول بھی جھڑتے تھے مگر عورتوں کو اغوا کرکے انہیں گورنر ہاوس میں لاکر بے حرمت کرنے کے الزامات بھی ان پر لگتے رہے ہیں ۔

شیر پنجاب کہلانے والے مصطفے کھر 2018کے انتخابات میں   پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن لڑنے جارہے ہیں تو انکے کاغذات کو بھی اسی ایما پر چیلنج کیا گیا ہے ۔مصطفے کھرکے عیاشانہ کردار کی سب سے بڑی گواہی ان کی سابقہ بیوی تہمینہ درانی نے اپنی کتاب مینڈھا سائیں لکھ کر دی تھی ۔وہ مصطفے کھر کی دو بچیوں کی ماں بھی تھیں مگر انہیں کھر نے ایسی ذلت سے دوچار کیا کہ کوئی خاندانی اور باوقا رمرد ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔تہمینہ درانی جو اب میاں شہباز شریف کی اہلیہ ہیں ،انہوں نے کتاب میں کھر کا اصلی چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے ایسے شرمناک اور ہوشربا واقعات تحریر کئے تھے کہ کوئی اسکا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ مصطفے کھر حقیقت میں اس کردار کا مالک ایسا سیاستدان ہے جو اپنی ہوس کا غلام تھا ۔تہمینہ درانی نے کھر پر الزام لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ کھر سے خاندان کی عورتوں کو بچانا مشکل ہوجاتا تھا جبکہ اس نے اپنی سالی اور تہمینہ کی بہن عدیلہ کو بھی پھانس لیاتھا جس کی وجہ سے اس کا گھر نہ صرف برباد ہوا بلکہ اس نے جب کھر کو اسکی اوچھی حرکتوں سے روکنے کی کوشش کی تو اسے ننگا کرکے بندوق سے پیٹ ڈالا تھا ۔

تہمینہ درانی لکھتی ہیں کہ ”وہ (کھر) ہمیشہ زبانی وار وہاں کرتا جہاں وار کرنا غیر شریفانہ فعل ہے اور اس کی ایسی تمام باتیں جنسی اشاروں کنائیوںسے خالی نہ ہوتیں۔ کسی کو بخشانہ جاتا۔ مائیں ، بہنیں ، بھائی ، بچے ، خالائیں ، ممانیاِں وغیرہ سب اس کی رسوا کن باتوں کا نشانہ بنتیں ۔ وہ کسی چیز کی تقدیس کا قائل نہ تھا۔ اس دن مصطفےٰ نچلی منزل میں ورزش کر رہا تھا۔ فون بجا ۔ اس نے فون اٹھایا ۔میں نے بالائی منزل پر نصب ایکس ٹینشن سے کان لگا دیے۔ عدیلہ بول رہی تھی : ”کیا تمہیں مجھ سے پیار ہے ؟ بولو! کیا تمہیں مجھ سے پیار ہے ؟ ”مصطفےٰ کی آواز مجھ تک پہنچی ۔“ اتنا زیادہ کہ تمہیں کبھی اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔“

میں کھڑی کی کھڑی رہ گئی ، بت بنی ہوئی۔ جوشکوک تھے ، جو بے یقینیاں تھیں ، وہ سب آناً فاناً ناپید ہوگئیں۔ میں نے انہیں پکڑ لیا تھا۔ خاصی دیر بعد میں نیچے آئی۔ مجھ پر اب تک سکتے کا عالم تھا۔ اب میرے پاس اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ کانوں سنی پر یقین لے آﺅں ۔ مجھے یوں لگا جیسے میں گندگی میں کھڑی ہوئی ہوں، برتی جا چکی ہوں۔ میں اب بھی اس سے دو بدو ہونے کے لیے خود کو تیار نہ پا رہی تھی ۔ میں اب بھی کسی نہ کسی تنکے کا سہار لیے ہوئے تھی ۔ کس تنکے کا ؟ میرے ذہن کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

فون دوبارہ بجا ۔ مصطفےٰ نے کسی سے بات کی ۔ فون کرنے والے سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کردے گا۔ مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔

دوبارہ فون بجا۔ دائی عائشہ نے فون اٹھا ۔ کہنے لگی کہ چوہدری حنیف صاحب ہیں اور فون مصطفےٰ کو تھما دیا۔ میں اوپر چلی گئی ۔ ایکش ٹینشن اٹھا کر سننے لگی ۔ دل کو پتھر کر لیا۔ اس بار بھی عدیلہ بات کر رہی تھی ۔ میں تمہیںپاسپورٹ بنوا دوں گا۔ فکر مت کرو ۔ یہ کام کروا کے رہوں گا۔ لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔ ”عدیلہ بضد تھی ۔ “ جلدی سے بنوا دو۔ تمہارے بغیر ہونا میرے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ میں یہاں سے نکل جانا چاہتی ہوں ابھی میں تمہارے ساتھ نئے سرے سے زندگی کا آغاز کرنا چاہتی ہوں ۔ ”صرف تمہارے ساتھ ۔“ میں اب بھی کوئی رد عمل ظاہر نہ کر پارہی تھی ۔ اس سہ پہر ہم دونوں والدین کے ہاں گئے ۔ غصے اور دکھ کی وجہ سے میرے اندر آگ بھڑک رہی تھی ۔ اگر مصطفےٰ کو میری کیفیت کا احساس تھا تو اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ میں نے ایک گھریلو کانفرنس بلائی ۔ امی اور عدیلہ کو لے کر امی کے بیڈ روم میں چلے گئی۔ میں نے امی سے کہا ۔ ”مصطفےٰ نے مجھے عدیلہ کے بارے میں بتایا ہے کہ کس طرح یہ اس کے پیچھے لگی رہتی ہے ۔ اسے تنگ کرتی ہے ۔ وہ تنگ آچکا ہے ۔ عدیلہ میری شادی کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ میرے میاں سے پینگیں بڑھانے میں لگی ہوئی ہے۔ وہ اس سے پہلو بچا رہا ہے۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ یہ سب عدیلہ کا قصو رہے ۔ یہ میری بہن ہے ۔ مصطفےٰ نے کہا ہے کہ آپ اپنی بیٹی کو قابو میں رکھیں ۔ یہ لڑکی شائستگی کی تمام حدیں پھلانگ چکی ہے۔ “

عدیلہ نے میری کہانی کو درست ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ غصے تلملا اٹھی ۔ مجھ سے کہنے لگی ” جو تہمت لگائی ہے اس کا کوئی ثبوث بھی پیش کیا جائے۔ مصطفےٰ صاحب یہ سب کبھی نہیں کہہ سکتے ۔ ان سے بولو کہ یہاں آ کے میرے روبرو ان باتوں کا اقرار کریں۔ جب تک وہ نہ آئیں گے میں اپنی صفائی میں ایک حرف بھی نہیں کہوں گی۔ اس معاملے کا ان سے بھی تعلق ہے ۔ آئیں اور سامنے آ کر مجھ سے بات کریں ۔ “ اسے پورا یقین تھا کہ میرے پاس چال چلنے کے لیے پتے ہیں ہی نہیں ۔

امی نے اسے اخلاقیات پر ایک لیکچر دیا اور کہا کہ اپنی ان حرکتوں سے باز آ جائے۔ اگر اس کے والدکو پتہ چل گیا تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ میں نے کہاکہ عدیلہ، میں پہلے ہی بہت سے مسائل میں گھری ہوئی ہوں ۔ تم ہو کہ حالات کو اور بگاڑے جا رہی ہو ۔ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔ ہم اپنی زندگی کے ایسے مرحلے سے گزر رہے ہیں ۔ جو دشوار بھی ہے اور تذبذب آمیز بھی۔ ہم اکھڑے ہوئے لوگ ہیں ۔ جلاوطنی کے دن کاٹ رہے ہیں ۔ تم ہماری زندگیوں کو عذاب بنانے پر کیوں تلی ہوئی ہو؟ میں بے بس ہوگئی ہوں۔ اس نے جواب دیا کہ ”میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ تم مصطفےٰ صاحب کو اندر کیوں نہیں بلا لیتیں ؟ ہاتھ کے ہاتھ پتہ چل جائے گا کہ معاملہ اصل میں ہے کیا ۔“ اس کا اعتماد دیدنی تھا۔ وہ سراپا یقین تھی۔ مجھے پسپا ہونا پڑا۔

جب ہم گھر لوٹے تو میں نے مصطفےٰ کو ٹیلی فون پر ہونے والی اس بات چیت کے بارے میں بتایا جو میرے سننے میں آئی تھی اور یہ بھی کہ کس طرح میں نے اس پر حرف نہ آنے دیا تھا۔ وہ مجھے گھورنے لگا۔ اس کے بعد اس پر سراسر جنون طاری ہوگیا ۔ اسے اپنے حواس پر قابو نہ رہا ۔ وہ دیوانوں کی سی حرکتیں کرنے لگا۔ اس نے اپنی دونالی بندوق اٹھا کر اس کے کندھے سے مجھے مارنا شروع کردیا۔ میں گر پڑی ، اٹھ کھڑی ہوئی، اُس نے پے پے در پے مجھ پر ضربیں لگائیں۔ میرے سر میں زخم آگیا ۔ جب خون بہنے لگا تو اس نے ہاتھ روکا ۔ غصے سے کانپتے ہوئے اس نے کہا ”ابھی اس لمحے اپنی امی کو فون کرو۔ انہیں بتاﺅ کہ تم پاگل ہو۔ انہیں بتاﺅ کہ یہ ساری باتیں تم نے دل سے گھڑی ہیں۔ فون اٹھاﺅ۔ “وہ دہاڑا۔

”میں ۔۔۔میں یہ نہیں کر سکتی ۔ انہیں میری بات کا ہر گز یقین نہ آئے گا۔ میں اپنا بیان کیسے بدلوں ۔ انہیں شبہ ہوجائے گا کہ ۔۔۔“وہ پھر مجھے مارنے لگا۔ ”کھڑی ہوجاﺅ کتیا کہیں کی ۔“ میں بڑی مشکل سے اٹھی ۔”اپنے کپڑے اتار ۔ ایک تار بھی بدن پر نہ رہے۔ اتار کپڑے ۔“ میں کانپنے لگی ۔ اس نے میری بانہہ اس طرح مروڑی جیسے بانہہ نہ ہو پیچ کس ہو۔ وہ بیٹھا مجھے کپڑے اتارتے دیکھتا رہا۔ اب میں بالکل ننگ دھڑنگ لونگ روم کے بیچوں بیچ کھڑی تھی ۔ میرے زخم سے خون بہہ رہا تھا ۔ اس سے بڑی تذلیل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ دائی اور بلال کمرے کے باہر میری دونوں بچیوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔

مصطفےٰ نے میرا جائزہ لیا۔ سر سے پاﺅں تک نظر ڈالی ۔ وہ مجھے ننگا کر کے میرے ذہن میں زبردستی داخل ہونا چاہتا تھا۔ میں خود کو بے بس اور تنہا محسوس کر رہی تھی ۔ مجھ پر مکمل مایوسی کاعالم تھا۔ میں جس ذلت میں گرفتار تھی اس کی وجہ سے میرا یہ احساس دو چند ہوگیا تھا کہ میں باقی دنیا سے کٹ چکی ہوں ۔ میں خود کو ڈھانپنا چاہتی تھی ۔ اس آدمی کے سامنے جس کی زبان شرم اور حیا کی فضیلت کا پرچار کرتے نہ تھکتی تھی” فون اٹھاﺅ ۔ اپنی امی سے بات کرو۔ پھر ہم دیکھیں گے “

” میں کپڑے پہنے بغیر فون نہیں کر سکتی“ اس نے مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ میرے پورے خاندان کو بان کر رکھ دیا ۔میرے حواس اردگرد پھیلے ہوئے ماحول میں گم ہوگئے ۔ میں جدھر ہاتھ پھیلاتی کچھ ہاتھ نہ آتا۔ میں بڑی مشکل سے کھڑی تھی ۔ میرے گھٹنے آپس میں ٹکرار رہے تھے اور میرے ہاتھ اور بانہیں مجھے ڈھانپنے کے لیے کافی نہ تھیں۔ میں چاہتی تھی مجھے کوئی سہارا مل جائے ۔ کسی بھی چیز کا سہارا ،جسے تھام کر کھڑی رہوں۔ میں نے گھٹنوں کے بل جھکنے کی کوشش کی۔ مصطفے نے مجھے یہ بھی نہ کرنے دیا۔ میں اپنی جگہ سے ہلتی تو وہ چنگھاڑ کر اچھل کھڑا ہوتا۔ میں اللہ کے حضور میں دعا کرتی رہی ، گڑگڑاتی رہی۔ بالآخر میں ڈھے گئی ۔ میں نے سوچنے کی کوشش بھی ترک کردی” ٹھیک ہے ، میں فون کیے دیتے ہوں ۔ مہربانی کر کے مجھے کچھ پہننے تو دو۔ “ میں نے اس حالت میں کپڑے پہنے کہ میرا جسم وجان ابھی تک شرم کے احساس سے تپ رہا تھا۔ میں نے فون کیا۔ میری باتوں میں ربط نہ تھا۔ کچھ کا کچھ کہہ گئی ۔ امی کو بتانا تو یہ تھا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا سب جھوٹ تھا لیکن کہہ یہ دیا کہ سب سچ تھا ۔ درحقیقت اس وقت میرے لیے غلط اور صحیح کی تمیز مٹ چکی تھی ۔

مصطفےٰ نے میرے ہاتھ سے فون چھین لیا۔ اسے بند کرنے کے بعد مجھے شدت سے پیٹنے لگا۔ میں نے کہا کہ ”مجھے معاف کردو۔ میں دوبارہ فون کرتی ہوں ۔“ میں نے امی سے وہی کہہ دی جو وہ مجھ سے کہلوانا چاہتا تھا۔ میں رو رہی تھی ۔ مصطفےٰ من مانی کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اس کی خوشی کا اوچھاپن چھپائے نہ چھپتا تھا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے تہمینہ درانی کی آبرو خاک میں ملادی ہے۔ اس کے چہرے سے خباثت عیاں تھی ۔ مجھے اس کے خدوخال اب زیادہ واضح طور پر یاد آجاتے ہیں ۔ حالانکہ اتنی مدت گزر چکی ہے ۔ اس وقت تو وہ مجھے دھندلا دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ محض ایسی شے تھا جس سے ، میں جانتی تھی ، مجھے ڈرنا چاہیے۔ اور جس کا حکم کسی معقول وجہ کے بغیر بجالانا پڑے گا۔ “

تہمینہ درانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مصطفےٰ کی اقدار اور ظاہری امیج محض منافقانہ لبادہ تھی۔ یہ تھا وہ شخص جو ہمیشہ ارفع و اعلیٰ الفاظ میں عورت کی حرمت کا ذکر کرتا رہتا تھا۔ اگر میں غسل خانے میں سے کسی ملازم کی بات کا جواب دے دیتی تو اسے پریشانی لاحق ہوجاتی تھی ، جو مجھے یہ تعلیم دیتا رہتا تھا کہ میرا طرز عمل کیا ہونا چاہیے اور اٹھتے بیٹھنے کے آداب کیا ہونے چاہئیں۔ جس کا یہ عقیدہ تھا کہ عورت اگر مردانہ محفل میں بیٹھے تو اس کا جسم اچھی طرح ڈھکا ہونا چاہیے اور اسے نظریں نیچی رکھنی چاہئیں۔ یہ شخص رنگا سیار تھا۔ اس نے اپنی ہی بیوی کو جو اس کی بچیوں کی ماں بھی تھی ، بے ستر ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔ اور اب مزے سے بیٹھا اس بارے میں بات چیت کر رہا تھا۔ کہ میرا ذہنی توازن درست ہے یا بگڑ چکا ہے۔

لوگ مصطفےٰ سے بہت بچ کے رہتے تھے ۔ یہ مشہور ہوچکا تھا کہ وہ عورتوں کا بڑا رسیا ہے اور اس معاملے میں اسے کسی قسم کا اخلاقی پس و پیش نہیں۔ وہ جہاں بھی جاتا ، اس کی عورت بازی کا ڈھنڈورا وہاں پہلے ہوچکا ہوتا۔ میں نے اس کے حق میں کلمہ خیر کہہ کر اس کی شہرت کا بدلا۔ میری خواہش تھی کہ ہر کوئی اس پر اعتبار کرے، اس پر تکیہ کرے ۔ میں نے (پی ۔ آر) PUBLIC   RELATIONINGکا بڑا زبردست کارنامہ انجام دیا تھا۔ لیکن میں جھوٹ بولتی رہی تھی ۔ ستم ظریفی یہ کہ خود مجھے معلوم نہ تھا کہ مصطفےٰ کی ہوس اگر ایک دفعہ بیدارہوجائے تو پھر کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ میرا اپنا گھر خود میری سگی بہنوں کے لیے محفوظ نہ تھا۔

مزیدخبریں