پاکستانی جمہوریت کا المیہ

پاکستانی جمہوریت کا المیہ
پاکستانی جمہوریت کا المیہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بارک اوبامہ کا باپ سیاہ فام مسلمان تھا۔ امریکی نظام نے اسے صدر امریکہ بنا دیا۔ صادق خان کا باپ ڈرائیور تھا۔ برطانوی نظام نے اسے لندن کا میئر بنا دیا۔ ان جمہوری ممالک میں آپ دہانت، محنت اور مستقل مزاجی کی بنیاد پر کوئی عہدہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں عوام کو جمہوریت کی برکات کے درس تو دیئے جاتے ہیں مگر یہ نظام ہمارے ہاں ذہین اور باصلاحیت افراد کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں مدد نہیں دیتا بلکہ رکاوٹ بنتا ہے۔ پاکستانی جمہوریت امریکی اور برطانوی جمہوریت سے اتنی مختلف کیوں ہے؟

پاکستان میں سیاسی پارٹیاں اپنے امیدواروں کی فہرستیں جاری کر رہی ہیں۔ ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر ایسے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں جو دس سے پندرہ کروڑ الیکشن پر خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں جمہوری عمل کو اتنا مہنگا بنا دیا گیا ہے کہ کوئی غریب خواہ وہ کتنا ہی باصلاحیت ہو، الیکشن لڑنے کا خواب نہیں دیکھ سکتا۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ووٹر کا شکوہ وائرل ہو رہا ہے جو کہہ رہا تھا کہ اس نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا مگر اپنے امیدوار سے مطمئن نہیں تھا۔ پھر اس نے مسلم لیگ کو ووٹ دیا تو پتہ چلا کہ امیدوار اسمبلی وہی شخصیت ہیں۔

اس کے بعد دوبارہ پیپلزپارٹی سے امیدیں وابستہ کیں تو پھر پتہ چلا کہ وہی صاحب پیپلزپارٹی میں آ گئے ہیں۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) سے توقعات لگائیں کہ وہ نظام کو بہتر بناویں گے، ووٹ ڈالنے گئے تو پتہ چلا کہ وہی صاحب امیدوار ہیں۔ اب انہوں نے تبدیلی کا نعرہ لگانے والی تحریک انصاف کی طرف رجوع کیا ہے تو پتہ چلا کہ وہ صاحب اب بلا لے کر انتخابی میدان میں اتر چکے ہیں۔

پاکستان کی جمہوری تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کئی پارٹیاں بنتی رہتی ہیں۔

ان کے نئے منشور آتے ہیں۔ نئے انتخابی نعروں کی گونج بلند ہوتی ہے مگر امیدوار تبدیل نہیں ہوتے یا زیادہ سے زیادہ پرانے امیدوار کا بھائی امیدوار ہوتا ہے۔

مستقل امیدوار اقتدار میں آنے والی ہر پارٹی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ پارٹیاں بھی انہیں زوروشور سے خوش آمدید کہتی ہیں۔ یوں یہ اراکین سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لاتے ہیں اور اکثر اس وقت رخصت ہو جاتے ہیں جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ اب اس پارٹی کا اقتدار میں آنا ممکن نہیں ہے۔

پنجاب میں پیپلزپارٹی پر مشکل وقت ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ اگلے انتخابات میں پنجاب میں اس کی کامیابی کے زیادہ امکانات نہیں ہیں۔ اس پارٹی کو امیدوار مشکل سے مل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے دلچسپ پوسٹیں نظر آ رہی ہیں۔ ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی پنجاب الیکشن کا ٹکٹ، صرف ایک مس کال کی دوری پر۔

اس طرح ایک پوسٹ میں آصف زرداری کی تصویر کے ساتھ آفر کی گئی ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا ٹکٹ لینے والوں کے لئے بمپرآفر۔ ٹکٹ کے ساتھ پائیں واشنگ مشین، ایئر کولر، پیڈسٹل فین، دیسی یو پی ایس مع بیٹری اور لاہور چڑیا گھر کے پانچ فری ٹکٹ۔ ایک دوسری پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوئی شخص جوہرٹاؤن میں کسی گھر میں پیپلزپارٹی کا ٹکٹ پھینک کر بھاگ گیا ہے۔

انتخابی مارکیٹ میں ن لیگ کے ٹکٹ کی خاصی ویلیو ہے۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے تو یہ کہہ دیا کہ ان کے ٹکٹ کا محتاج نہیں ہوں۔ نہ دینے کے لئے ڈرامے کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاتی امرا والے ڈراموں اور بچگانہ حرکتوں سے اپنا مذاق اڑائیں نہ میری تضحیک کریں۔ ماڈل ٹاؤن میں ن لیگی کارکن نعرہ بازی کرتے ہوئے بھی پائے گئے ہیں۔

عمران خان کی تحریک انصاف کی انتخابی ٹکٹوں نے کئی دلچسپ مناظر پیدا کئے۔ ان کے کارکن گلہ کر رہے ہیں کہ پارٹیوں کے لئے قربانیاں انہوں نے دی تھیں مگر انتخابی ٹکٹ ان لوگوں کو دیئے گئے ہیں جو قافلے میں شریک نہیں تھے۔ جڑانوالہ فیصل آبادکے خان بہادر ڈوگر بھی ان احتجاج کرنے والوں میں شامل تھے جنہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔

ان کے حلقے کا ٹکٹ چودھری ظہیرالدین کو دے دیا گیا جو کچھ روز قبل تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے۔ خان بہادر ڈوگر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ خان صاحب کو گمراہ کر رہے ہیں۔

پارٹی کے لئے اپنی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد میں سودن سے زائد کے دھرنے میں صبح، دوپہر، شام کارکنوں کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔

دھرنے کے دوران ان کے تنور نے خاصی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے باورچیوں کو گرفتار کر لیا جاتا تھا مگر انہوں نے کھانا کھلانے کا کاروبار جاری رکھا تھا۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے ہر جلسے میں وہ پیش پیش رہے مگر انہیں ٹکٹ نہیں ملا کیونکہ وہ اس خاص کلاس کا حصہ نہیں ہیں جنہوں نے اس ملک کی سیاست کو ہائی جیک کر رکھا ہے اور ان کے خلاف ہی عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا۔ تاہم ان کے احتجاج نے تحریک انصاف کے راہنماؤں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی پر آمادہ کر دیا ہے۔

جمہوریت کے متعلق اقبال نے ایک مغربی دانشور کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔

انہوں نے اس نظام پر تنقید بھی کی مگر انہوں نے کہا کہ اس کا متبادل کوئی نہیں ہے۔ آج بھی دنیا میں جمہوریت کا ہی بول بالا ہے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں جمہوریت جمہوری کلچر پروان چڑھانے میں ناکام رہی ہے۔

یہ دولت مندوں کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ مگر اس کے باوجود اس نظام سے ہی بہتری کی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔ حالیہ تاریخ میں لیبیا، عراق اور افغانستان جیسے ملکوں میں نظام مفلوج ہوئے اور ان ممالک کے نظام کو بحال نہیں کیا جا سکا۔ تاہم پاکستان میں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوری نظام میں پارٹیوں کو اہل افراد کو آگے لانے کا اہتمام کرنا ہو گا۔

اگر اہل افراد کا راستہ روکا گیا اور جمہوریت صرف چند خاندانوں کی آرزوؤں کی تکمیل کا ذریعہ بن کر رہ گئی تو اس سے پورے ملک اور معاشرے پر بڑے بھیانک اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم