روپے کی بے قدری،کیا پلان ’’بی‘‘ بھی ہے؟

روپے کی بے قدری،کیا پلان ’’بی‘‘ بھی ہے؟

انتخابی عمل کے دوسرے مرحلے میں جانچ پڑتال جاری ہے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے آن لائن نظام کا جو انتظام کیا اس کی وجہ سے یہ کام ذرا تیزی اور بہتر طریقے سے مکمل ہو رہا ہے اور انکشاف ہوا ہے کہ اب تک ایک سو ایسے امیدوار سامنے آ چکے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے نادہند ہیں۔

اگرچہ الیکشن کمیشن نے25لاکھ روپے تک کی رعایت بھی دے رکھی ہے، لیکن نادہند حضرات و خواتین تو کروڑوں تک جاتے ہیں۔ یوں بھی ہمارے روپے کی جو مٹی پلید کرائی جا رہی ہے اس کی بدولت تو لاکھ کوئی چیز نہیں اب تو معاملہ ہی ارب سے شروع ہو کر کھرب تک جاتا ہے، اب یہی دیکھیں کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں منظور احمد وٹو اور سابق وزیر مملکت (خارجہ امور) حنا ربانی کھر بھی کروڑوں کی نادہند ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری یا استرداد کا معاملہ زیر غور ہے۔

روپے کی ’’عزت‘‘ کے حوالے سے یاد آیا کہ حال ہی میں ڈالر کی قدر میں اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور روپیہ قریباً چھ روپے سستا اور ڈالر مہنگا ہو گیا ہے۔

اس پر احتجاج ہو رہا ہے اور معاشی ماہرین، معاشی حالات کو خطرناک قرار دے رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری سابقہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر عائد کی جا رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ حکمران معاشی ابتری پھیلا کر گئے اور اب اس خرابی کو درست کرنا انتہائی مشکل ہے اور آنے والی حکومت کے لئے بہت بڑا بوجھ ہے، اس سلسلے میں یاد کرا دیں کہ2008ء کے انتخابات ہو جانے کے بعد ابتدا میں جب مخلوط حکومت بنی تو مسلم لیگ(ن) کی طرف سے اپنے ماہر کی خدمات پیش کی گئیں اور اسحاق ڈار وزیر خزانہ ہوئے۔

محترم نے چارج سنبھالنے کے بعد زیادہ انتظار نہ کیا اور پہلے ہی ہفتے میں پریس کانفرنس کر کے معاشی اور اقتصادی حالت کو خطرناک اور تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ ملک تو دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، پھر یاد رہے کہ بعد میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو انہی ’’ماہر معاشیات و اقتصادیات‘‘ نے پیپلزپارٹی کی حکومت کی نسبت ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر پر توجہ دی، قرض لئے بالواسطہ ٹیکس لگائے(مثال پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس اور موبائل پر ٹیکس ہے) اور قرض کی مے پی کر کیا رنگ لا رہی ہے، ہماری ڈالر مستی ایک دن۔

یوں یہ پورا عرصہ اسی طرح گذارا گیا، ہر بار جب قرضوں کی ادائیگی کا وقت آتا تو پھر سے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کے لئے رجوع کیا جاتا اور نیا قرضہ لے کر سابقہ قرضوں کی قسط ادا کر کے پھر سے مستی کے رنگ لانے کا نعرہ بلند کیا جاتا اور پھر جب محترم ڈار صاحب ’’علاج‘‘ کرانے برطانیہ تشریف لے گئے تو مالیاتی نظام سنبھالا نہیں جا رہا تھا، ایسے میں مسلم لیگ(ن) نے اہم تر فیصلہ کیا اور مشیر کو وزیر خزانہ بنا ڈالا۔ یوں محترم مفتاح اسماعیل الیکشن لڑے اور قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل کئے بغیر مکمل وزیر خزانہ بھی بن گئے۔انہوں نے روپے کی کم ہوتی قدر کی پرواہ کئے بغیر تب بھی کہا کہ یہ اچھا ہو رہا ہے،دراصل حکومت نے بیک وقت ’’ڈی ویلیوایشن‘‘(روپے کی قدر میں سرکاری کمی) کرنے کی بجائے، چور راستہ دریافت کیا اور سٹیٹ بنک کے ذریعے غیر اعلان شدہ کمی شروع کر دی اور ڈالر مہنگا ہوتا چلا گیا، اب ان کی حکومت نہیں ہے تو بھی ڈالر بڑھ اور روپیہ گھٹ رہا ہے تو یہی مفتاح اسماعیل اسے اچھا قرار دے رہے ہیں، ان کے بقول اس سے برآمد کنندگان کو فائدہ ہو گا،نجی شعبہ کے ماہرین پہلے ہی سے یہ پیشگوئی کر رہے تھے کہ یہ حضرات روپے کے مقابلے میں ڈالر کو 125 روپے پر مستحکم کریں گے۔ مفتاح اسماعیل نے اس موقف کا اعادہ کیا ہے ورنہ وزارتِ خزانہ کا انچارج ہوتے ہوئے انہی کی اجازت سے روپے کی قدر گھٹائی جا رہی تھی۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی برآمدی کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کو ذاتی طور پر بھی فائدہ ہو رہا ہے،جبکہ ان کی طرف سے تجویز کردہ ایمنسٹی سکیم سے مستفید ہونے والوں کی بھی سوچ ہے کہ وہ اپنی رقوم واپس لائے تو دہرے فائدے سے مستفید ہوں گے۔

ایک تو ان کو غیر قانونی دولت پر دو فیصد ٹیکس دے کر اسے قانونی بنانے کا حق حاصل ہو گیا اور دوسرے ڈالر اور روپے کی قیمتوں میں اس تفاوت نے ان کی دولت میں مزید اضافہ کر دیا کہ زرمبادلہ واپس لائے تو روپے زیادہ ملیں گے۔ تاحال کسی طرف سے رقم لانے کی اطلاع تو نہیں ہے۔

یہ مفتاح اسماعیل بات کرتے ہوئے ہمیشہ خوشگوار موڈ میں مسکراتے ہوئے نظر آئے۔ اس سے اُن کا اطمینان ظاہر ہوتا ہے،لیکن یہ بھول گئے کہ روپے کی قدر کم ہونے سے بہت سی اہم درآمدی اشیاء اور مہنگی ہو جائیں گی اور یہ سارا بوجھ عوام پر منتقل ہو گا کہ بالآخر مہنگائی کا سامنا تو انہوں نے ہی کرنا ہے، زندگی پہلے ہی معاشی طور پر تنگ تھی، مزید ہو جائے گی اور جب پیٹ بھوکا ہو گا تو روٹی مانگے گا اور یہ روٹی بھی تو اب بہت مہنگی ہو گئی، بے روزگاری پہلے سے موجود ہے، اب روپے کی قدر میں کمی اور پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے سے براہِ راست عوام متاثر ہوئے اور یہی فریق ہیں، اس کا مداوا کون کرے گا؟

ابتدا تو سیاسی ماحول سے کی اور خیال بھی اسی موضوع کے حوالے سے تھا،لیکن محترم مفتاح اسماعیل کی منطق نے اس تحریر پر مجبور کر دیا، حالانکہ آج سابق صدر آصف علی زرداری کی مصروفیات اور ان کے نئے ویژن پر لکھنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن پیٹ کی فکر پڑ گئی۔

چلتے چلتے یہ بتا دیں کہ آصف علی زرداری نے چند ماہ قبل ہی کہا تھا آئندہ اسمبلی ’’معلق‘‘ ہو گی اور کسی کو اکثریت حاصل نہیں ہو گی، ان کے مطابق آزاد اراکین کو سودا بازی میں زیادہ منافع ہو گا، اب آہستہ آہستہ یہ بات ثابت ہوتی جا رہی ہے، کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے کئی پہلوان پارٹی ٹکٹ کی بجائے آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، اس سلسلے میں غور لازم ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی پلان ’’بی ‘‘ بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...