پارلیمینٹ میں خواتین کو حقیقی نمائندگی کب ملے گی؟

پارلیمینٹ میں خواتین کو حقیقی نمائندگی کب ملے گی؟
پارلیمینٹ میں خواتین کو حقیقی نمائندگی کب ملے گی؟

  

پاکستان میں عورت کتنی مظلوم ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اُسے مختلف قسم کے عذاب ہمہ وقت گھیرے رکھتے ہیں۔ عصمتوں کے لٹنے پر جتنی خواتین نے پاکستان میں خود سوزیاں اور وہ بھی تھانوں کے سامنے کی ہیں، اُس کی شاید دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔

دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کی تو بات ہی کیا بڑے شہروں میں رہنے والی عورتیں اور لڑکیاں بھی غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں۔ ملک کی آبادی کا 52فیصد ہونے کے باوجود نہ تو اُن کے حقوق ہیں اور نہ انہیں معاشرے میں برابری کا مقام ملتا ہے۔ ہمارے جیسے ماحول میں عورتوں کے لئے براہِ راست انتخابات میں حصہ لینا تقریباً ناممکن سی بات ہے۔

اول تو کوئی سیاسی جماعت اُنہیں ٹکٹ نہیں دیتی اور اگر دے دے تو اُس کی انتخابی مہم میں اُس کے ساتھ نہیں چلتی۔ اب ہر عورت مریم نواز جیسی بااختیار تو ہے نہیں کہ پورے حفاظتی حصار کے ساتھ انتخابی مہم چلا سکے، اسے تو تن تنہا گلی محلوں میں جانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی خواتین بھی بہت کم ہیں، جو مردانہ وار بے خوف و خطر میدان میں نکل سکیں، سو اسمبلیوں میں عورتوں کی شمولیت صرف مخصوص نشستوں کے ذریعے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

آئین بنانے والوں نے غالباً انہی زمینی حقائق کے پیش نظر اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کی گنجائش رکھی تھی، مقصد غالباً یہی تھا کہ ملک کی نصف آبادی کو بھی اسمبلیوں میں نمائندگی ملنی چاہئے، لیکن اس آئینی ضرورت کو پورا کرتے وقت جو ڈنڈی ماری جاتی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ جس بات کو عورت کی بہتری کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے تھا، اسے مخصوص خاندانوں کی بیگمات اور رشتہ دار خواتین کا ہابی کلب بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

غریب یا متوسط طبقے کی خواتین پارلیمنٹ کے گرد پھٹک بھی نہیں سکتیں،جو بیگمات اور رشتہ دار خواتین ارکان اسمبلی بنتی ہیں، وہ صرف زرق برق ملبوسات میں اسمبلی کا اجلاس بھگتانے آتی ہیں۔ پورے عرصے میں خواتین کے حقوق یا اُن کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے ایک لفظ نہیں بولتیں۔ یہ آج کا ماجرہ نہیں، ہمیشہ ہی سے ایسا ہوتا آیا ہے۔

البتہ اس بار کچھ شور زیادہ ہی مچا ہے، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی طرف سے مخصوص نشستوں کے لئے خواتین کی فہرستیں سامنے آئی ہیں، تو پارٹی ورکر خواتین نے شدید احتجاج کیا ہے، کیونکہ ان فہرستوں میں مشکل صورتِ حال اور پارٹی کو زندہ رکھنے کے لئے سرگرم کردار ادا کرنے والی کارکنوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔

سابق وزیروں نے اپنی بیگمات، بہنوں، بھتیجیوں اور بیٹیوں کے لئے ٹکٹ حاصل کرلئے ہیں۔ یہ بھلا کون سی جمہوریت ہے کہ سیٹیں خاندانوں میں بانٹ دی جائیں۔

جمہوریت تو پھیلاؤ کا نام ہے، اسے چند خاندانوں میں سمیٹ کر کیسے زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل وہ خواتین کیسے سمجھ سکتی ہیں، جو خوشحال زندگی گزار رہی ہیں، جن کے ساتھ کبھی کوئی ظلم ہوا اور نہ ہی، جنہیں انصاف کے لئے در در کے دھکے کھانے پڑے۔ ان بیگمات کے ساتھ چند خواتین بھی نہیں ہوتیں، لیکن یہ اپنے خاندانی اثرورسوخ سے ممبر بن جاتی ہیں۔

ان تک عام عورت کی رسائی ہوتی ہے اور مشکل حالات میں اُن کی مدد کو پہنچتی ہیں۔ مَیں نے آج تک ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا کہ کسی تھانے کے سامنے مظلوم عورت یا لڑکی نے خودسوزی کی ہو اور کوئی خاتون رکن اسمبلی اس کے ساتھ یکجہتی کے لئے تھانے پہنچی ہو۔ یہ سب تو بڑی بڑی گاڑیوں پر اسمبلی میں آتی ہیں، وقت گزارتی اور واپس چلی جاتی ہیں، کیونکہ حاضری لگانے سے ماہانہ لاکھوں روپے ملتے ہیں۔ اسمبلی میں اچھی خاصی تعداد میں ہونے کے باوجود سوائے ایک یا دو خواتین کے شاذو نادر ہی کوئی رکن اسمبلی اظہار خیال کرتی ہے۔ وہ کرے بھی کیا، اسے نہ تو قومی مسائل کا علم ہوتا ہے اور نہ عورتوں کے مسائل کا۔ ایک بار پنجاب اسمبلی کی خواتین ارکان سے ایک ٹی وی چینل نے اسمبلی کے سامنے سروے میں پوچھا تھا، تحریک استحقاق کسے کہتے ہیں، ان میں سے اکثریت اس سے بے خبر تھی، اب ایسے میں وہ عورتوں کے لئے کیا کردار ادا کر سکتی ہیں؟

خواتین کی مخصوص نشستوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ ان کی وجہ سے پورے ملک یا پورے صوبے کی خواتین اسمبلیوں میں نمائندگی پائیں۔ ہر خطے سے خواتین منتخب ہو کر اسمبلی میں آئیں اور اپنے اپنے علاقوں کی خواتین کے مسائل کو اسمبلی میں اجاگر کریں۔ جمہوریت کی اصل روح بھی یہی ہے، مگر ہوا کیا؟ آج تک اس حوالے سے کوئی ضابطہ کار نہیں بنایا گیا۔

نہ الیکشن کمیشن نے اس نکتے پر غور کیا اور نہ ہی سیاسی جماعتوں نے اس پر توجہ دی کہ ملک بھر کی خواتین کو قومی اسمبلی میں ان کا حصہ ملنا چاہئے۔ اب سیاسی جماعتوں نے مخصوص نشستوں پر خواتین کے لئے جو ٹکٹیں جاری کی ہیں، ان میں اکثریت کا تعلق لاہور، اسلام آباد یا کراچی سے ہے۔ پنجاب اتنا بڑا صوبہ ہے، ہر جگہ جب سیاسی جماعتوں کے جلسے ہوتے ہیں تو خواتین کی بڑی تعداد ان میں شریک ہوتی ہے، لیکن ان کی نمائندگی کے نام پر سیاسی جماعتیں ایسی خواتین کو ٹکٹ جاری کر دیتی ہیں، جن کا اُن عورتوں کے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔اِس بار جنوبی پنجاب سے تمام سیاسی جماعتوں نے مخصوص نشستوں پر صرف تین خواتین کو ٹکٹ دیئے ہیں۔آدھا پنجاب ہے تو نشستیں بھی آدھی ملنی چاہئیں،لیکن تختِ لاہور یہاں بھی آڑے آ جاتا ہے۔

کیا عوامی نمائندگی ایکٹ میں یہ ترمیم نہیں ہونی چاہئے کہ آبادی کے لحاظ سے خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوٹہ مختلف علاقوں کو الاٹ کیا جائے اور یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ اُس کوٹے پر اُس علاقے کا ڈومیسائل رکھنے والی خواتین کو ٹکٹ جاری کئے جا سکتے ہیں، اس طرح خواتین کی نمائندگی میں وسعت بھی آئے گی اور ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والی خواتین کو اپنی نمائندہ خواتین تک بآسانی رسائی کا موقع بھی ملے گا،مگر ایسی کوئی ترمیم کبھی روبہ عمل نہیں آئے گی، کیونکہ اس طرح تو اسمبلیوں میں بیگمات اور رشتہ دار خواتین کی رسائی ہی مشکل ہو جائے گی۔ پھر حقیقی خواتین نمائندوں کے آنے سے اسمبلی میں طرح طرح کے مسائل بھی بیان کئے جائیں گے اور اُن پر قانون سازی بھی کرنا پڑے گی،جبکہ یہ بات تو ہرگز گوارا نہیں،خواتین کو تو دوسرے درجے کی مخلوق ہی رکھنا ہے۔

انہیں حقیقی معنوں میں بااختیار بنا کر اپنے لئے مصیبت کھڑی نہیں کرنی۔ جس طرح عوام کے نام پر سرمایہ دار وڈیرے،نودولتیے اور مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر مڑ کر نہیں دیکھتے کہ عوام کس حال میں ہیں، اسی طرح کی خواتین بھی اسمبلیوں میں چاہئیں، جو اسمبلی میں زبان نہ کھولیں، بس ایک گونگی تصویر بن کر بیٹھی رہیں تاکہ یہ کہا جا سکے کہ پارلیمینٹ میں خواتین کی بھرپور نمائندگی بھی موجود ہے۔

پتہ نہیں ہماری جمہوریت میں حقیقی جمہوریت والے اوصاف کب پیدا ہوں گے؟ابھی تو اس جمہوریت کی ہر چیز دو نمبر ہی نظر آتی ہے۔۔۔ مثلاً جو جتنا بڑا سرمایہ دار ہے، وہ اتنا ہی غریبوں کی حالت بدلنے کا دعویدار بھی ہے، حتیٰ کہ جس نے اپنے حلقے کے لوگوں پر کئی جھوٹے مقدمے بھی قائم کئے ہوں گے، وہ بھی یہ کہے گا کہ مَیں عوام کا خادم ہوں، علاقے کے جاگیردر نے مزارعوں کا پانی تک ہڑپ کر لیا ہو گا،لیکن دعویٰ وہ پھر بھی یہی کرے گا کہ غریبوں کی خدمت اُس کا مشن ہے۔

یہی حال سیاسی جماعتوں کا ہے، وہ چُن چُن کر سرمایہ داروں، وڈیروں اور نو دولتیوں کو ٹکٹیں دیں گی، مگر نعرہ غریب عوام کا لگائیں گی۔اب تحریک انصاف میں جو لوگ شامل ہوئے ہیں اور جنہیں ٹکٹ بھی جاری کر دیئے گئے ہیں، وہ تو سب پرانے کھلاڑی ہیں اور کئی دہائیوں سے عوام کو چکمہ دیتے اور خواب دکھاتے آئے ہیں۔ عوام کو پھر انہی لوگوں کو ووٹ دینے کا پابند بنا کر کون سی نئی جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے؟ سو یہ سب جمہوریت کے نام پر ایک ڈرامہ ہے، جو کئی دہائیوں سے اسٹیج کیا جا رہا ہے۔

خواتین نشستوں پر مراعات یافتہ طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی نامزدگی اس ڈرامے کا سب سے بدترین پہلو ہے۔اچھا ہے سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کارکن آواز اٹھا رہی ہیں۔ یہ آواز شہر شہر اور قریہ قریہ اٹھائی جانی چاہئے۔

ایک مخصوص سیاسی اشرافیہ نے جمہوریت کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔اس میں بہتری لانے کا خیال اُن کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔ کہنے کو وہ ہروقت غریبوں، پسے ہوئے طبقوں اور کروڑوں پاکستانیوں کی حالت بدلنے کا راگ الاپتے رہیں گے۔

یہ بھی استحصال کی ایک بدترین شکل ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس استحصال کو جاری رکھنے کے لئے سب اکٹھے ہیں اور عوام اُن کا مشترکہ ہدف ہیں۔

مزید : رائے /کالم